حضرت سید شاہ خسرو حسینی ؒ کی نعتیہ شاعری حضور اکرم ﷺ سے آپ کے والہانہ عشق و محبت کا اظہار - آپ ﷺ سے عشق و عقیدت شاعری میں ڈھل گئی۔ کل ہند نعتیہ مشاعرے سے حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ کاخطاب - نعتیہ مشاعرے کی نگرانی حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے سپرد کی۔ حضرت خسرو حسینی ؒ کی تین کتابوں کی رسم رونمائی بھی انجام دی


بیدر 17اکتوبر(نامہ نگار) : تقدس مآب حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی محمد اکبر محمد محمد الحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ نے اپنے والد بزرگوار ساقی خم خانہ چشت غفران مآب خلد مکان حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینیؒ صاحب قبلہ کو بہ دیدہ نم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ کے نعتیہ کلام کو آپ کی زندگی کاحاصل قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینیؒ کی نعتیہ شاعری حضور اکرم ﷺ سے آپ کے والہانہ عشق و محبت کا اظہار ہے۔ آپؒ اگرچہ خود کو شاعر نہیں سمجھتے تھے، لیکن حضور اکرم ﷺ سے اپنے عشق و عقیدت کا اظہار کرتے کرتے آپ کے خیالات شاعری کا روپ اختیار کر گئے۔ حضرت خسرو حسینیؒ کی تصنیف ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ آپ کے اسی عشقِ رسول ﷺ کی عکاس ہے۔ حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینیؒ صاحب قبلہ کے دوسرے عرس سراپا قدس کے موقع پر سلطان دکن حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے گنبد مبارک کے روبرو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ کل ہند نعتیہ مشاعرے میں تقدس مآب حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے ان خیالات کا اظہار فرمایا۔ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے خطاب کے آغاز میں ہی اس نعتیہ محفل کی نگرانی حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے سپرد کی۔ آپ نے فرمایا کہ چونکہ مشاعرہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے روضہ مبارک کے دامن میں منعقد کیا جا رہا ہے، اس لئے آپؒ سے بہتر کوئی بھی اس نعتیہ مشاعرے کی نگرانی نہیں کر سکتے۔ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے حوالے سے اس نعتیہ مشاعرے کو ایک محفل سماع قرار دیا۔آپ نے فرمایا کہ اس محفل کی اہمیت محض ایک ادبی اجتماع تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی سماع بھی ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ نے سماع کو عبادت کا درجہ عطا فرمایا ہے، اس لیے حاضرین کو پورے ادب و احترام کے ساتھ نعتیہ کلام سماعت کرنا چاہیے۔ یہ عام شاعری کی محفل نہیں، بلکہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت پیش کرنے کی ایک مقدس مجلس ہے۔حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے اپنے والد بزرگوار ؒ کی ادبی و روحانی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؒ کے دادا حضرت سید شاہ حسین خیرؒ بھی ایک ممتاز شاعر تھے اور آپ کا کلام کافی مشہورہے۔ جب حضرت خسرو حسینیؒ اپنے دادا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنے پوتے سے فرماتے کہ آج کیا لکھ کر لائے ہو، مزید سنا ؤ۔ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے بتایا  والد بزرگوارؒ کی پہلی نعت، ان کے اندازے کے مطابق، اسکول کے زمانے میں پندرہ یا سولہ سال کی عمر میں سامنے آئی۔ اس نعت کا ایک مصرعہ ’’یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، یا رحمۃ للعالمین‘‘ پیش کرتے ہوئے آپ نے حضرت خسرو حسینیؒ کے ابتدائی شعری سفر اور عشقِ رسول ﷺ سے ان کی گہری وابستگی کو اجاگر فرمایا۔اس موقع پر تقدس مآب حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی محمد اکبر محمد محمد الحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے دست مبارک سے تین کتابوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارک پرحضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب قبلہ کی تصنیف سراجاً منیرا کے لو کاسٹ ایڈیشن،  حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب قبلہ کے نعتوں کے مجموعے ورفعنا لک ذکرک  کے دو سرے ایڈیشن اور ورفعنا لک ذکرک کے انگریزی ایڈیشن و رومن ایڈیشن کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ دوسری جانب پروفیسر عبدالحمید اکبر ، وزیٹنگ پروفیسر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی نے بھی حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینیؒ کی تصانیف ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ اور ’’سراجاً منیرا کو ادبی اور روحانی اعتبار سے غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ ان تصانیف میں حضرت قبلہؒ کی علمی بصیرت، تحقیقی گہرائی اور حضور اکرم ﷺ سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ پروفیسر اکبر نے ’’سراجاً منیراً‘‘ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب حضرت خسرو حسینیؒ کی زندگی، فکر اور روحانی وژن کا نچوڑ ہے۔ اس کی موجودہ اشاعت کے صفحات اور حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اسے نئے انداز میں مرتب کیا جائے تو اس کے صفحات ایک ہزار سے تجاوز کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق حضرت خسرو حسینیؒ نے اس کتاب کی تیاری کے لیے سولہ سال صرف کیے۔ وہ ہر واقعے اور ہر لفظ کی تحقیق و تدقیق کرتے تھے اور بسا اوقات ایک لفظ کی تحقیق میں کئی کئی دن لگاتے تھے۔پروفیسر عبد الحمید اکبر نے کہا کہ سیرتِ رسول ﷺ پر بہت سی کتابیں موجود ہیں، لیکن ’’سراجاً منیراً‘‘ قاری کو حضور اکرم ﷺ کی باطنی کیفیات اور روحانی زندگی پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے متعدد علمی حوالے پیش کیے ہیں، جو اس کی تحقیقی قدر میں اضافہ کرتے ہیں۔ پروفیسر اکبر نے کہا کہ ’’سراجاً منیراً‘‘ کا مفہوم ایسا روشن چراغ ہے جس سے دوسرے چراغ بھی روشن ہوسکتے ہیں اور حضرت خسرو حسینیؒ نے اپنی علمی کاوش کے ذریعے نعتیہ ادب اور سیرت نگاری کو ایک گراں قدر سرمایہ عطا کیا، جس سے اہل علم اور قارئین طویل عرصے تک استفادہ کرسکتے ہیں۔ قبل ازیں نعتیہ مشاعرے سے قبل خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے ڈاکٹر حافظ عبدالصمد صدر شعبہ اردو، خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی نے بھی ورفعنا لک ذکرک کے محاسن پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ مجموعہ نہ صرف حضور اکرم ﷺ سے حضرت خسرو حسینیؒ کی گہری محبت اور عقیدت کا مظہر ہے، بلکہ نعت کی ادبی حیثیت، فنی خصوصیات اور اس کے اصول و آداب کو سمجھنے میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ حضرت خسرو حسینیؒ نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو حضور اکرم ﷺ کی مدح و ثنا کے لیے وقف کر دیا ۔ انہیں شاعری سے گہرا شغف تھا اور ان کے دادا حضرت سید شاہ حسین خیرؒ بھی ممتاز شاعر تھے، لیکن انہوں نے اپنی پوری شاعری کو عشق رسول ﷺ کے اظہار کےلئے مخصوص رکھا۔ یہی ان کی شاعرانہ عظمت اور انفرادیت کی نمایاں دلیل ہے۔حافظ عبدالصمد نے کہا کہ حضرت خسرو حسینیؒ نے ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ میں عربی شعر ’’وَشَقَّ لَہُ مِنْ اِسْمِہِ لِیُجِلَّہُ‘‘ کی جامع تشریح پیش کی اور نام محمد ﷺ کی معنوی عظمت کو واضح کیا۔ ان کے مطابق حضرت خسرو حسینیؒ نے نعت کو محض شاعری کی ایک صنف نہیں سمجھا، بلکہ اس کے لیے الگ فنی مقام تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نعت کی تین صورتوں، یعنی شاعری، خطیبانہ اظہار اور نثر میں سیرت و شمائل رسول ﷺ کے بیان، کی وضاحت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خسرو حسینیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہےکہ انہوں نے نعتیہ شاعری کےساتھ نعت کے اصول و آداب پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کی تصنیف ’’سراجاً منیرا‘‘ بھی نثری انداز میں نعتیہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ حافظ عبدالصمد کے مطابق حضرت خسرو حسینیؒ کی علمی و ادبی خدمات اردو نعتیہ ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔