نانا پاٹیکر: فن سے انسانیت تک - ایک باکمال اداکار، ایک حساس انسان اور خدمتِ خلق کا جذبہاز قلم : شیخ محمود علی


نانا پاٹیکر: فن سے انسانیت تک - 
ایک باکمال اداکار، ایک حساس انسان اور خدمتِ خلق کا جذبہ
از قلم : شیخ محمود علی
8055402819

ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض فنکار اپنی شہرت اور مقبولیت کے باعث پہچانے جاتے تھے، جب کہ بعض اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور فنی انفرادیت کی وجہ سے تاریخ میں جگہ بناتے تھے۔ نانا پاٹیکر کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری، جاندار مکالموں اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے ناظرین کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔

نانا پاٹیکر کی اداکاری میں بے ساختگی، شدت اور نفسیاتی گہرائی پائی جاتی تھی۔ وہ کردار کے جذبات کو محض چہرے کے تاثرات یا بلند آواز سے ظاہر نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنی نگاہوں، خاموشی اور مکالموں کی ادائیگی سے بھی گہرا تاثر پیدا کرتے تھے۔ ان کی اداکاری میں بناوٹ کے بجائے فطری پن اور جذباتی صداقت نمایاں رہتی تھی۔

فلم پراہار میں ان کی اداکاری ہو یا کرانتی ویر اور اب تک چھپن جیسے مختلف موضوعات پر مبنی کردار، نانا پاٹیکر نے اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ فلم نٹسمرٹ میں ان کی اداکاری نے بھی ان کی فنی استعداد کو نمایاں کیا۔ وہ ان فنکاروں میں شمار ہوتے تھے جو اپنے کردار کو محض کہانی کا حصہ نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ اسے ایک زندہ انسانی تجربے میں تبدیل کر دیتے تھے۔

ان کی اداکاری کا ایک نمایاں وصف یہ بھی تھا کہ وہ کردار کی داخلی کشمکش اور انسانی نفسیات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی شخصیت اور فن کو محض ایک تجارتی فلمی ستارے کے طور پر دیکھنا ان کی فنی حیثیت کو محدود کرنے کے مترادف تھا۔

شہرت سے آگے: خدمتِ خلق کا جذبہ

کسی فنکار کی عظمت کا اندازہ صرف اس کی فلموں، ایوارڈز یا مقبولیت سے نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ یہ بات بھی اہم تھی کہ وہ اپنی سماجی حیثیت اور وسائل کو معاشرے کی بھلائی کے لیے کس طرح استعمال کرتا تھا۔

نانا پاٹیکر نے کسانوں کی مشکلات اور دیہی زندگی کے مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لیے عملی کوششیں کیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر مہاراشٹر میں کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم نام فاؤنڈیشن (Naam Foundation) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی بحران سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی اس تنظیم نے کسانوں اور دیہی آبادی کی مدد کے لیے سرگرمیاں انجام دیں۔ ان کوششوں نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ایک فنکار اپنی شہرت کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی شعور اور عوامی خدمت کے لیے بھی استعمال کر سکتا تھا۔

کسان ہندوستانی معیشت اور معاشرت کا ایک بنیادی ستون تھے۔ ان کی مشکلات کو سمجھنا، ان کے مسائل کی طرف توجہ دلانا اور ان کی مدد کے لیے کوشش کرنا ایک اہم سماجی ذمہ داری تھی۔ نانا پاٹیکر کی ان سرگرمیوں نے فن اور سماجی شعور کے درمیان ایک بامعنی تعلق قائم کیا۔

مذہب، انسانیت اور اعترافِ خوبی

ہمارے معاشرے میں ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا کسی شخص کی خوبیوں کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کے مذہب، ذات یا قومیت کو دیکھنا ضروری تھا؟

میری رائے میں اس سوال کا جواب نفی میں تھا۔

اگر کوئی شخص بہترین فنکار تھا تو اس کے فن کی تعریف کی جانی چاہیے تھی۔ اگر کوئی شخص سماجی خدمت انجام دیتا تھا تو اس کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے تھا۔ اگر کوئی انسان اپنے کردار، صلاحیت یا عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرتا تھا تو اس کی خوبیوں کو تسلیم کرنے میں مذہبی شناخت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے تھا۔

نانا پاٹیکر ایک ہندو فنکار تھے، لیکن ان کی اداکاری کی تعریف کرنے یا کسانوں کے لیے ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے مذہبی شناخت کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ ان کے فن اور سماجی خدمات کا جائزہ ان کے حقیقی کام کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے تھا۔

کسی فنکار کی تعریف کرنا اس کے تمام نظریات یا عقائد سے اتفاق کرنے کے مترادف نہیں تھا۔ اسی طرح کسی دوسرے مذہب کے شخص کی خوبی تسلیم کرنے کا مطلب اپنے مذہب یا عقیدے سے دست بردار ہونا بھی نہیں تھا۔

اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ برقرار رہ سکتا تھا، لیکن اس اختلاف کو انسانی خوبیوں کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے تھا۔

کسی انسان کے فن کی تعریف کرنا مذہبی وابستگی کا اعلان نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت کا اعتراف تھا۔

مذہبی شناخت یا انسانی کردار؟

مذہب، زبان، ذات اور قومیت انسان کی سماجی شناخت کے اہم پہلو تھے، لیکن کسی انسان کی پوری شخصیت کو صرف انہی خانوں میں محدود نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ایک باوقار معاشرے کی بنیاد اس اصول پر قائم ہوتی تھی کہ لوگوں کے ساتھ ان کے کردار، رویے اور اعمال کی روشنی میں معاملہ کیا جائے۔ اگر ہم کسی شخص کی خوبی کو صرف اس وجہ سے نظر انداز کر دیتے کہ وہ ہمارے مذہب یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا تھا تو ہم دراصل اپنی سوچ کو تعصب کے تابع کر رہے ہوتے تھے۔

یہ رویہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ تھا، بلکہ ہماری اخلاقی اور فکری نشوونما میں بھی رکاوٹ بنتا تھا۔

انسانی تاریخ میں علم، فن، فلسفے، طب، ادب اور سماجی خدمت کے میدانوں میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا انسانی تہذیب کے مشترکہ ورثے کا احترام تھا۔

کسی شخص کے عقیدے پر گفتگو کرنا ایک الگ معاملہ تھا، جب کہ اس کی فنی یا سماجی صلاحیتوں کی قدر کرنا بالکل الگ معاملہ تھا۔

نانا پاٹیکر کے معاملے میں بھی یہی اصول اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کی اداکاری پر تنقیدی گفتگو ہو سکتی تھی اور ان کے سماجی کاموں کا جائزہ لیا جا سکتا تھا، لیکن محض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ان کے فن یا خدمات کو رد کرنا مناسب رویہ نہیں تھا۔

رواداری ہی مہذب معاشرے کی پہچان تھی

مذہبی رواداری کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انسان اپنے عقائد سے دست بردار ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے انسانی حقوق، عزت اور خوبیوں کا احترام کرنا سیکھے۔

ایک متوازن اور باشعور انسان اپنی شناخت پر فخر کر سکتا تھا، لیکن اسے اس فخر کو دوسروں کی تحقیر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔

اگر ہم چاہتے تھے کہ دوسرے لوگ ہمارے مذہب، تہذیب، زبان اور صلاحیتوں کا احترام کریں تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

معاشرے میں محبت اور ہم آہنگی اسی وقت پیدا ہوتی تھی جب لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔

نانا پاٹیکر کی مثال ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتی تھی کہ ایک فنکار کی قدر اس کے مذہب سے نہیں، بلکہ اس کے فن اور عملی کردار سے بھی کی جا سکتی تھی۔ ان کی سماجی خدمات کو سراہنا اور ان کی اداکاری کی تعریف کرنا اسی وسیع القلبی کا اظہار تھا جس کی ہمارے معاشرے کو ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔

اختتامیہ: انسان کو انسان کی نظر سے دیکھیے

نانا پاٹیکر کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی فنی صلاحیتوں، منفرد اداکاری اور سماجی خدمات کو الگ الگ پہلوؤں سے دیکھنا ضروری تھا۔ ایک اداکار کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستانی سنیما میں اپنی شناخت قائم کی اور ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے کسانوں کے مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔

ان کے ہر کام سے اتفاق کرنا ضروری نہیں تھا، لیکن ان کی قابلِ قدر صلاحیتوں اور خدمات کا اعتراف کرنا ایک معقول اور متوازن رویہ تھا۔

انسانوں کے درمیان مذہبی، لسانی، نسلی اور ثقافتی اختلافات ہمیشہ موجود رہے، لیکن ان اختلافات کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کو فروغ دینے سے گریز کرنا ضروری تھا۔

نانا پاٹیکر کی فنی صلاحیتوں اور سماجی خدمات کو یاد کرنا اس بات کی یاد دہانی تھا کہ کسی انسان کی خوبی کا اعتراف کرنے کے لیے اس کا ہم مذہب ہونا ضروری نہیں تھا۔

فن کی قدر کیجیے، خدمتِ خلق کی حوصلہ افزائی کیجیے اور انسان کو اس کے مذہب سے پہلے ایک انسان کی حیثیت سے دیکھیے۔

کیونکہ کسی دوسرے انسان کی خوبی کا اعتراف ہماری اپنی عظمت کو کم نہیں کرتا، بلکہ ہمارے شعور، اخلاق اور انسان دوستی کو بلند کرتا اور اس جذبے کو نئی جلا بخشتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔