غزل - حضرت رشید احمد رشید
غزل -
حضرت رشید احمد رشید ؔ
تقدیر اگر کاتبِ تقدیر نہ بدلے
حالات کا رخ وقت کی تصویر نہ بدلے
وہ آئیں نہ آئیں، مجھے کچھ فکر نہیں ہے
نالوں کا اثر، آہ کی تاثیر نہ بدلے
سو بار نشیمن کو اگر برق جلا دے
اے جرأتِ دل، جذبہء تعمیر نہ بدلے
اندازِ ستم مظہرِ الطاف ِکرم ہیں
ترکش کئی بدلے ہیں مگر تیر نہ بدلے
ہر رات کی قسمت میں ہے اک صبح مقرر
اے مردِ خدا، جرأتِ تدبیر نہ بدلے
ڈر ہے کہیں بے وقت میری آنکھ نہ کھل جائے
اللہ کرے خواب کی تعبیر نہ بدلے
سورج کئی دیکھیں گے، کئی چاند ملیں گے
رفتارتری اے فلکِ پیر نہ بدلے
اے فکرِ رسا، جرأتِ پرواز سلامت
کیا غم ہے اگر پاؤں کی زنجیر نہ بدلے
کافی ہے رشیدؔ ایک نظر، ایک تبسم
تقدیر بدل جائے کہ تقدیر نہ بدلے
Comments
Post a Comment