میری کہانی، میری زبانی!!! - محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری: دکنی زبان، بیدر کی تہذیب اور میرا ادبی سفر!شرف الدین سید
میری کہانی، میری زبانی!!! -
محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری: دکنی زبان، بیدر کی تہذیب اور میرا ادبی سفر!
شرف الدین سید
9342522346
دکنی زبان کی تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور تخلیقی امکانات کے حوالے سے یوسف رحیم میرؔ بیدری کی ادبی کاوشیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی ادبی سرگرمیوں کا دائرہ شاعری اور افسانہ نگاری سے آگے بڑھ کر افسانچہ نویسی، تنقید، تبصرہ نگاری،صحافت، تحقیق اور ترتیب و تدوین تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے شعری مجموعے، افسانوی تحریریں اور تنقیدی و تحقیقی کام ایک ایسے ادبی ذوق کی نشان دہی کرتے ہیں جو تخلیق کے ساتھ اپنے عہد، اپنی زبان اور اپنے خطے کے ادبی سرمایے سے بھی گہری وابستگی رکھتا ہے۔میر بیدری کی ادبی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ دکنی زبان سے ان کا تعلق ہے۔ دکنی کے مقامی لہجے، محاورے اور تہذیبی رنگ کو ادبی اظہار کا وسیلہ بنانا محض ایک لسانی انتخاب نہیں، بلکہ اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے اور اسے نئی معنویت عطا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ بیدر کی تاریخی و تہذیبی روایت اور وہاں کے ادبا و شعرا کی خدمات کو محفوظ کرنے کی ان کی کاوشیں بھی اسی ادبی وابستگی کا حصہ ہیں۔
زیرِ نظر تحریر ”میری کہانی، میری زبانی“ ایک روایتی سوال و جواب پر مبنی انٹرویو نہیں، بلکہ میر بیدری کے ادبی سفر، فکری رجحانات، دکنی سے وابستگی اور ادبی خدمات کو خود کلامی کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اس میں ایک تخلیق کار اپنے فن، اپنی زبان، اپنے ماحول اور اپنی ادبی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتا ہے۔ اس خود کلامی کے ذریعے قارئین کو میر بیدری کی ادبی جہات سے واقف ہونے کے ساتھ اس فکر کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا جو ان کی تخلیقی اور تحقیقی سرگرمیوں کے پسِ پشت کارفرما ہے۔
امید ہے کہ یہ تحریر دکنی زبان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، اہلِ قلم اور نئی نسل کے لیے مفید ثابت ہوگی اور بیدر کے ادبی و تہذیبی سرمایے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اپنا حصہ ادا کرے گی۔[
میرا ادبی سفر دراصل اپنی زبان، اپنے ماحول اور اپنے عہد کو سمجھنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ میرے نزدیک ادب محض لفظوں کو ترتیب دینے یا خیالات کو خوب صورت پیرائے میں بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ محسوس کرنے اور اس احساس کو دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ ہے۔ شاعر ہو یا افسانہ نگار، اس کی تخلیقی شخصیت اپنے گردوپیش سے الگ ہوکر تشکیل نہیں پاتی۔ وہ اپنے ماحول، اپنے لوگوں، اپنی تہذیب اور اپنے زمانے کے تجربات سے اثر قبول کرتی ہے۔ میری ادبی شناخت کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔شاعری اور افسانہ نگاری، دونوں میرے لیے اظہار کے ایسے وسیلے ہیں جن کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ شاعری میں کبھی ایک مختصر سا خیال پوری کیفیت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے، جب کہ افسانہ اسی کیفیت کے پس منظر، کرداروں اور حالات کو کھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دونوں اصناف کا اپنا مزاج ہے، لیکن ان کے مرکز میں انسان، اس کے احساسات، اس کی محرومیاں، اس کی امیدیں اور اس کے خواب موجود رہتے ہیں۔
میرے ادبی سفر کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ میں نے اظہار کے لیے کسی ایک صنف کو کافی نہیں سمجھا۔ شاعری، افسانہ، افسانچہ، تنقید، تبصرہ، تحقیق اور ترتیب؛ ان تمام میدانوں میں اپنی بساط بھرکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس وسعت کے پیچھے محض تخلیقی تجربات کی جستجو نہیں، بلکہ ادب، زبان اور اپنے خطے کی تہذیبی و علمی روایت سے وابستگی کا جذبہ بھی کارفرما ہے۔
دکنی: میری تہذیبی شناخت!
دکنی سے میری وابستگی کو محض ایک لسانی انتخاب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ میرے نزدیک زبان انسان کی تہذیبی شناخت کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ اس کے لفظوں میں صرف معنی نہیں ہوتے، بلکہ نسلوں کے تجربات، معاشرتی رویے، روزمرہ زندگی اور اجتماعی حافظے کی جھلک بھی موجود ہوتی ہے۔ دکنی کا اپنا لہجہ، اپنی لفظیات، اپنا محاورہ اور اظہار کا ایک مخصوص انداز ہے۔ اس میں بے ساختگی بھی ہے، اپنائیت بھی اور زندگی سے براہِ راست رشتہ بھی۔ دکنی کی یہی خصوصیات اسے میرے لیے اہم بناتی ہیں۔ کسی زبان میں تخلیق کرنا اس زبان کے ذریعے اپنے ماحول کو سمجھنے اور اس کی معنویت کو محفوظ کرنے کا عمل بھی ہے۔ دکنی اردو میں شاعری کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے مقامی زندگی کے ان تجربات کو ادبی اظہار مل سکتا ہے جو اپنے مخصوص لہجے اور محاورے کے بغیر اپنی پوری فطری کیفیت کے ساتھ سامنے نہیں آسکتے۔
دکن کی تہذیب مختلف لسانی اور ثقافتی اثرات سے تشکیل پائی ہے۔ یہاں زبانوں کے درمیان میل جول کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ دکنی نے بھی ان اثرات کو قبول کیا، لیکن اس عمل میں اپنی مخصوص شناخت برقرار رکھی۔ میرے نزدیک زبان کی قوت اسی میں ہے کہ وہ دوسری زبانوں سے سیکھے، نئے الفاظ اور نئے تجربات قبول کرے، مگر اپنی بنیادی شناخت سے محروم نہ ہو۔ دکنی کو محض علاقائی بولی سمجھ کر نظرانداز کرنا اس کے تاریخی اور ادبی امکانات کو محدود کردینے کے مترادف ہے۔ کسی زبان کی ادبی حیثیت کا تعین اس کے جغرافیائی دائرے سے نہیں، بلکہ اس میں موجود تخلیقی قوت، اظہار کی وسعت اور انسانی تجربات کو بیان کرنے کی صلاحیت سے ہونا چاہیے۔ زبان کا مقامی لہجہ اس کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی انفرادیت اور تہذیبی شناخت کا حصہ ہوتا ہے۔
دکنی سے میری وابستگی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس زبان کے فطری لہجے، محاورے اور اظہار کی قوت کو ادبی سطح پر جگہ ملے۔ دکنی میں تخلیق کرتے ہوئے اس کی زبان کو غیر ضروری طور پر کسی دوسرے سانچے میں ڈھال دینا اس کی اصل مٹھاس اور بے ساختگی کو متاثر کرسکتا ہے۔ زبان کی اپنی فطرت کا احترام کرتے ہوئے اسے نئے موضوعات اور نئے تجربات سے جوڑنا ہی اس کے ادبی مستقبل کے لیے زیادہ بامعنی راستہ ہے۔
بیدر: ماضی کی روشنی اور حال کے سوالات!
بیدر کی سرزمین اپنے اندر ایک طویل تاریخی اور تہذیبی داستان رکھتی ہے۔ بہمنی سلطنت کے عہد میں اس شہر نے علمی اور ثقافتی اعتبار سے اہم مقام حاصل کیا۔ محمود گاواں کی علمی خدمات اور ان کے قائم کردہ مدرسے کی روایت اس ماضی کا ایک روشن حوالہ ہے۔ یہ تاریخی ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم، تحقیق اور فکری سرگرمیاں کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
لیکن تاریخ کی اصل معنویت صرف اس کے شاندار واقعات یاد رکھنے میں نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والے سبق کو اپنے عہد میں زندہ رکھنے میں ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی کی علمی عظمت پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں اپنے حال میں بھی مطالعے، تحقیق، تعلیم اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔
بیدر کی تہذیبی شناخت کو اس کے تاریخی آثار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی زبانیں، اس کے محاورے، اس کے لوگوں کی زندگی اور مختلف ثقافتوں کے باہمی روابط بھی اس ورثے کا حصہ ہیں۔ ایک تخلیق کار کے لیے اپنے ماحول کو سمجھنا اس لیے اہم ہے کہ اسی ماحول میں اس کے مشاہدات اور احساسات جڑ پکڑتے ہیں۔ اپنے شہر کی تاریخ اور تہذیب سے آگاہی انسان کو اپنی شناخت کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔
بیدر کی ادبی اور تہذیبی تاریخ کو محفوظ کرنا بھی میرے نزدیک اسی احساسِ وابستگی کا حصہ ہے۔ کسی علاقے کی پہچان صرف اس کی عمارتوں، تاریخی واقعات اور مشہور شخصیات سے نہیں بنتی؛ اس کے گمنام اہلِ قلم، مقامی زبان، ادبی محفلیں، عوامی روایتیں اور اجتماعی تجربات بھی اس شناخت کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔ ان سب کو یکجا کرکے محفوظ کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
شاعری:
میرے نزدیک شاعری کی کوئی ایک متعین تعریف یا ایک ہی مقصد نہیں ہوسکتا۔ کبھی شاعری حسن کی تلاش بن جاتی ہے، کبھی داخلی کیفیت کا اظہار اور کبھی اپنے عہد کے تضادات کو محسوس کرنے کا ذریعہ۔ اس میں احتجاج بھی ہوسکتا ہے اور محبت بھی؛ تنہائی بھی اور اجتماعی زندگی کی گہماگہمی بھی۔ شاعر اپنے عہد کا باقاعدہ مورخ نہیں ہوتا، لیکن وہ اپنے زمانے کا ایک حساس گواہ ضرور ہوسکتا ہے۔ تاریخ واقعات اور تبدیلیوں کو محفوظ کرتی ہے، جب کہ شاعری ان واقعات کے انسانی اثرات کو نمایاں کرسکتی ہے۔ کسی معاشرے کی بے چینی، کسی فرد کی محرومی، کسی رشتے کی شکست یا کسی خواب کی تکمیل کبھی ایک شعر میں اس طرحسمٹ آتی ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اس زمانے کی کیفیت محسوس کرسکتی ہیں۔
آج کی زندگی میں معلومات کی فراوانی ہے، لیکن اس کے ساتھ تنہائی اور بے چینی کے مسائل بھی موجود ہیں۔ انسانی رشتوں کی نوعیت بدل رہی ہے، ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں اور زندگی کی رفتار نے انسان کو کئی نئے سوالات سے دوچار کردیا ہے۔ ادب کے لیے یہ سب موضوعات اہم ہیں، کیونکہ ادب کا ایک بنیادی کام انسان کو اپنے اور دوسروں کے تجربات سے روشناس کرانا ہے۔
تاہم شاعری کی کامیابی صرف موضوع کی اہمیت سے طے نہیں ہوتی۔ خیال کے ساتھ زبان، اسلوب، فنی ترتیب اور اظہار کی انفرادیت بھی ضروری ہیں۔ ایک بڑا خیال اگر فن کے تقاضوں سے محروم ہو تو اپنی پوری تاثیر پیدا نہیں کرپاتا۔ اسی طرح زبان کی خوب صورتی بھی اس وقت بامعنی بنتی ہے جب اس کے پیچھے احساس اور فکر کی گہرائی موجود ہو۔
میرے شعری مجموعے کرہ، بارش،رقص، مثیرہ، مولیٰ، سرخاب، دکنی اوّل، دکنی دوم میرے ادبی سفر کے اہم حوالے ہیں۔ ان مجموعوں کے ذریعے میں نے اپنے احساسات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری پیکر عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کتابوں کا ذکر محض تصانیف کی فہرست پیش کرنا نہیں، بلکہ اس تخلیقی سفر کے مختلف مراحل کی نشان دہی بھی ہے جس میں زبان، احساس اور فکر ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ خصوصاً دکنی میں شاعری میرے لیے اپنی تہذیبی اور لسانی شناخت سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اس زبان میں موجود مقامی رنگ، محاورے کی برجستگی اور روزمرہ زندگی سے قربت ایک ایسا تخلیقی امکان فراہم کرتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش رہی ہے کہ دکنی محض ماضی کی یادگار بن کر نہ رہ جائے، بلکہ عصرِ حاضر کے تجربات اور سوالات کو بھی اپنے اندر سموئے۔
افسانہ اور افسانچہ: زندگی کا دوسرا زاویہ!
افسانہ نگاری میں زندگی کے مشاہدے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ہمارے گردوپیش میں ایسے بے شمار واقعات، کردار اور رویے موجود ہوتے ہیں جن میں پوری انسانی کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ایک معمولی سا واقعہ بھی تخلیقی ذہن کو کسی بڑے سوال تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن افسانہ محض کسی واقعے کی نقل نہیں ہوتا؛ تخیل، کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی فنی ترتیب اسے ایک الگ تخلیقی وجود عطا کرتی ہے۔افسانہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو محض اچھائی یا برائی کے خانوں میں تقسیم نہ کرے، بلکہ ان کے رویوں کے اسباب، ان کی نفسیاتی کیفیتوں اور ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے جن میں وہ زندگی گزارتے ہیں۔ انسانی شخصیت پیچیدہ ہوتی ہے، اس لیے ایک بامعنی افسانہ بھی زندگی کو سادہ فیصلوں میں محدود کرنے کے بجائے اس کی پیچیدگیوں کو سامنے لاتا ہے۔ میرے نزدیک شاعری اور افسانہ نگاری کے درمیان بنیادی فرق اظہار کے طریقے کا ہے۔ شاعری کسی کیفیت کو اختصار اور شدت کے ساتھ پیش کرسکتی ہے، جب کہ افسانہ اس کیفیت کے گرد موجود زندگی کو تفصیل کے ساتھ دریافت کرنے کا موقع دیتا ہے۔ افسانچہ اس سے بھی زیادہ اختصار کے ساتھ کسی صورتِ حال، کردار یا تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کی کامیابی اس بات میں ہے کہ کم سے کم الفاظ میں قاری کے ذہن میں ایک وسیع مفہوم یا گہرا تاثر پیدا کردیا جائے۔
افسانہ اور افسانچہ نویسی کے میدان میں میرے مجموعے سکال، ن، چیں اور واخا میرے تخلیقی کام کے اہم حصے ہیں۔ ان اصناف کے ذریعے زندگی کے ان پہلوؤں کو بیان کرنے کی کوشش کی جنہیں کبھی ایک واقعے، کبھی کسی کردار اور کبھی ایک مختصر سی صورتِ حال کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ میرے نزدیک افسانہ نگاری کا اصل تقاضا زندگی کو قریب سے دیکھنا، اس کے اندر پوشیدہ معنویت کو دریافت کرنا اور اسے فنی دیانت کے ساتھ پیش کرنا ہے۔
تنقید و تبصرہ: ادب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش!
تخلیق کے ساتھ ادب کا مطالعہ، اس پر غور و فکر اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ تنقید کسی تخلیق کے محاسن و معائب گنوانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے فکری، فنی اور تہذیبی پس منظر کو سمجھنے کا عمل ہے۔ ایک سنجیدہ تنقیدی نظر تخلیق کو اس کے عہد، اسلوب اور ادبی روایت کے تناظر میں دیکھتی ہے اور اس کے حقیقی امکانات کو سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے۔
تبصرہ نگاری کی اپنی اہمیت ہے۔ کسی کتاب پر لکھا گیا بامعنی تبصرہ قاری کو اس کتاب کے موضوع، اسلوب اور اہمیت سے آگاہ کرتا ہے اور اسے مطالعے کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ اس کام میں دیانت داری بنیادی شرط ہے۔ نہ غیر ضروری تعریف کسی کتاب کی حقیقی قدر بڑھا سکتی ہے، نہ بے جا تنقید اس کی معنویت کم کرسکتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ کتاب کو اس کے اپنے معیار اور مقصد کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
تنقید اور تبصرہ نگاری کے سلسلے میں میرے کام میں امتخاخ کے عنوان سے تنقیدی مضامین، طناب کے عنوان سے تبصرے،نور اور مقال کے عنوان سے تنقید و تبصرے شامل ہیں۔ کتاب ’لے‘کوبھی اسی تناظر میں دیکھاجاسکتاہے۔ ان تحریروں کے ذریعے ادب کے مطالعے اور ادبی کاوشوں پر اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ بلا شبہ تخلیق اور تنقید ایک دوسرے سے الگ نہیں؛ تنقید تخلیق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور تخلیق تنقید کے لیے نئے سوالات اور امکانات پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح”صحادب“کتاب کے ذریعہ انٹرویوز اور مضامین کا کام بھی میری ادبی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ انٹرویو کسی شخصیت کے تجربات، خیالات اور ادبی سفر کو براہِ راست سامنے لانے کا وسیلہ بن سکتا ہے، جب کہ مضمون کسی موضوع یا شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو مربوط انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے کام کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اس کے ذریعے ادبی شخصیات کے تجربات اور خدمات محفوظ ہوکر نئی نسل تک پہنچیں۔
تحقیق و ترتیب: اپنے خطے کے ادبی سرمایے کی حفاظت!
میرے ادبی سفر کا ایک اہم پہلو تحقیق و ترتیب ہے۔ ضلع بیدر کے ادبا، شعرا اور دیگر باوقار شخصیات کے بارے میں کتابوں کی ترتیب و تدوین کے ذریعے میری کوشش رہی ہے کہ اس خطے کی علمی، ادبی اور تہذیبی خدمات کو یکجا کیا جائے۔کسی علاقے کی ادبی تاریخ صرف چند معروف ناموں سے مکمل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ان تمام اہلِ قلم اور شخصیات کی خدمات کو سامنے لانا ضروری ہے جنہوں نے اپنے اپنے دائرہئ کار میں علم و ادب اور معاشرتی زندگی کو ثروت مند بنایا۔ بعض شخصیات اپنی تخلیقات کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں، بعض اپنی علمی و سماجی خدمات کے باعث، اور بعض ایسی ادبی یا تہذیبی سرگرمیوں سے وابستہ ہوتی ہیں جن کے اثرات ان کی زندگی کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔لہٰذا تحقیق اور ترتیب محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اپنے علاقے کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھنے کی ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی شخصیات کی خدمات نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں، ان کی تحریریں نایاب ہوجاتی ہیں اور ان کے تجربات نئی نسل تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ان کے حالات، کام اور خدمات بروقت یکجا نہ کیے جائیں تو ایک قیمتی ادبی سرمایہ رفتہ رفتہ ہماری دسترس سے نکل سکتا ہے۔
اس لیے ضلع بیدر کے ادبا، شعرا اور باوقار شخصیات پر کتابوں کی ترتیب میرے لیے ایک اجتماعی ادبی خدمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کام کے ذریعے نہ صرف شخصیات کا تعارف محفوظ ہوتا ہے، بلکہ علاقے کی ادبی روایت، اس کے فکری رجحانات اور اس کی تہذیبی تشکیل کو سمجھنے کے لیے بھی مواد فراہم ہوتا ہے۔ علاقائی ادبی تاریخ کی تدوین وسیع تر اردو ادب کی تاریخ کو مکمل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے، کیونکہ کسی زبان کا مجموعی ادبی منظرنامہ اس وقت زیادہ واضح ہوتا ہے جب اس کے مختلف علاقوں کی آوازیں بھی اس میں شامل ہوں۔
نئی نسل اور دکنی اردو کا مستقبل!
زبان کا مستقبل صرف اس کے ادبی ماضی سے طے نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آج کے لوگ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں اور نئی نسل تک اسے کس صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی زبان صرف یادگار کتابوں اور تاریخی حوالوں میں محفوظ رہ جائے، لیکن گھروں، محفلوں اور روزمرہ گفتگو سے نکل جائے تو اس کی زندگی محدود ہونے لگتی ہے۔دکنی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اس میں نئے موضوعات پر تخلیق ہو، بچوں کے لیے ادب لکھا جائے، نوجوانوں کو اپنی زبان میں اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اس کے ادبی سرمائے کو محفوظ کیا جائے۔ مشاعرے، ادبی نشستیں، ڈرامے، مطبوعات اور ڈیجیٹل ذرائع اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دوسری زبانیں سیکھنا یقیناً ترقی اور علم کے نئے دروازے کھولتا ہے، لیکن اس کا مطلب اپنی زبان سے دوری اختیار کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک شخص کئی زبانوں میں مہارت حاصل کرسکتا ہے اور اسکے باوجود اپنی مادری یا مقامی زبان سے گہرا تعلق برقرار رکھ سکتا ہے۔ اصل ضرورت زبانوں کے درمیان مقابلہ پیدا کرنے کے بجائے ان کے باہمی احترام اور تخلیقی امکانات کو سمجھنے کی ہے۔
دکنی کی بقا کے لیے اس کے مقامی لہجے اور محاورے کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ زبان کو زندہ رکھنے کا مطلب اسے کسی دوسرے اسلوب کی نقل بنانا نہیں، بلکہ اس کی اپنی قوتِ اظہار کو پہچاننا اور اسے نئے حالات کے مطابق آگے بڑھانا ہے۔ جب نوجوان اپنی زبان میں نئے موضوعات پر لکھیں گے، اسے مطالعے اور تخلیق کا وسیلہ بنائیں گے اور اس کے ادبی سرمایے سے واقف ہوں گے تو اس کی روایت محض ماضی کی یاد نہیں رہے گی، بلکہ ایک زندہ تخلیقی عمل بن جائے گی۔
اسی طرح بیدر اور دکن کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے ادبی کام کو وسیع تر اردو دنیا تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے تخلیقات کی اشاعت، ادبی تحقیق، تنقیدی جائزوں اور علاقائی ادبی تاریخ کی تدوین پر توجہ دی جانی چاہیے۔ کسی علاقے کا ادبی سرمایہ اسی وقت پوری معنویت حاصل کرتا ہے جب اسے محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے قارئین تک بھی پہنچایا جائے۔
میری ادبی وابستگی کا حاصل!
جب میں اپنے ادبی سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو اس میں شاعری، افسانہ نگاری، افسانچہ نویسی، تنقید، تبصرہ، صحافت،تحقیق اور ترتیب کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ بظاہر یہ الگ الگ میدان ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک مشترک رشتہ موجود ہے: ادب سے وابستگی، زبان سے محبت، زندگی کو سمجھنے کی جستجو اور اپنے ماحول کی تہذیبی و فکری شناخت کو محفوظ رکھنے کی خواہش۔
شاعری نے احساسات اور خیالات کے اظہار کا موقع دیا، افسانے نے زندگی اور انسانی کرداروں کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنے میں مدد کی، تنقید اور تبصرے نے ادبی تخلیقات کے مطالعے اور تفہیم کا راستہ کھولا، جب کہ تحقیق و ترتیب نے اپنے علاقے کے اہلِ قلم اور باوقار شخصیات کی خدمات کو یکجا کرنے کی ذمہ داری سے آشنا کیا۔
یہ صد فیصد سچ ہے کہ کسی ادیب کی خدمات کو صرف اس کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد سے نہیں ناپا جاسکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس کا کام اپنے عہد، اپنی زبان اور اپنے معاشرے کے لیے کیا معنویت رکھتا ہے۔ اگر کوئی تحریر قاری کو سوچنے پر آمادہ کرے، کوئی تخلیق انسانی احساس کو بیدار کرے، یا کوئی تحقیقی کام کسی بھولی بسری شخصیت کو ادبی تاریخ میں اس کا مقام دلانے میں مدد دے تو یہ سب ادب کی خدمت ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔
اپنی زبان کے نام ایک پیغام!
اگر دکنی کے مستقبل کے بارے میں ایک بنیادی بات کہنی ہو تو وہ یہ ہے کہ زبان کی بقا محض اس کی تاریخ بیان کرنے سے ممکن نہیں۔ اسے حال کی زندگی میں جگہ دینی پڑتی ہے۔ اس میں نئے تجربات بیان کرنے، نئے سوالات اٹھانے اور بدلتے ہوئے معاشرے کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت برقرار رہنی چاہیے۔ دکنی کا تاریخی سرمایہ اس کی قوت ہے، لیکن اس کا مستقبل تخلیق، مطالعے اور نئی نسل کی وابستگی سے جڑا ہوا ہے۔ زبانیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب لوگ ان میں اپنے دکھ سکھ بیان کرتے ہیں، ان میں نئی کہانیاں لکھتے ہیں اور ان کے ذریعے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ اپنی زبان سے محبت کا مطلب دوسری زبانوں سے بے اعتنائی نہیں، بلکہ اپنی شناخت کو پہچانتے ہوئے دوسروں کی شناخت کا احترام کرنا ہے۔ دکن کی تہذیبی روایت بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ مختلف زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے ایک وسیع تر انسانی اور تہذیبی تجربے کو جنم دے سکتی ہیں۔
دکنی کے سامنے آج جو سوالات ہیں، ان کے جواب صرف ماضی کی عظمت میں نہیں بلکہ مستقبل کی عملی کوششوں میں پوشیدہ ہیں۔ اگر اس زبان کے بولنے والے، لکھنے والے، ادبی ادارے اور نئی نسل اس کی تخلیقی قوت کو آگے بڑھانے کا عزم کریں تو یہ روایت نئے زمانے میں بھی اپنی معنویت برقرار رکھ سکتی ہے۔
میری خواہش یہی ہے کہ دکنی اپنے فطری لہجے، اپنی تہذیبی انفرادیت اور اپنے تخلیقی امکانات کے ساتھ آگے بڑھے؛ بیدر کا ادبی سرمایہ محفوظ ہو، اس کے اہلِ قلم کی خدمات پہچانی جائیں اور آنے والی نسلیں اس ورثے کو محض ماضی کی نشانی سمجھنے کے بجائے اپنے حال اور مستقبل کی قوت بنائیں۔ میرے لیے یہی ادبی سفر کا حاصل اور اپنی زبان و تہذیب سے وابستگی کا اصل مفہوم ہے۔
Comments
Post a Comment