غزل - از قلم: رہبر تماپوری
غزل -
از قلم: رہبر تماپوری
خامشی اچھی نہیں، انکار ہونا چاہیے
ظلم کے آگے بشر دیوار ہونا چاہیے
خواب دیکھو، خواب کی تعبیر بھی ممکن کرو
خواب سے پہلے مگر بیدار ہونا چاہیے
ڈوبتے کو خود ہی دریا پار کرنا ہے اگر
عزم کی کشتی کو بھی تیار ہونا چاہیے
غم بہت ہیں زندگی میں، غم سے گھبرائیں کیوں
دستِ یارِ مہرباں غم خوار ہونا چاہیے
دوستی میں مصلحت کا زہر مت شامل کرو
دوسروں کے واسطے ایثار ہونا چاہیے
دشمنی میں بھی اصولوں کو نہ بھولو دوستو
ہر عمل کا سچا اک معیار ہونا چاہیے
جھوٹ کے بازار میں سچ بولنا دشوار ہے
دل میں جو ہو، لب پہ بھی اقرار ہونا چاہیے
صبر کی بھی حد ہے جب جور و ستم بڑھنے لگے
حق کی خاطر برملا اظہار ہونا چاہیے
رہبرؔ اپنے ہی قلم سے حق بیانی کیجیے
حق کے شاعر کو سدا ہشیار ہونا چاہیے
Comments
Post a Comment