غزل - میر بیدری، بیدر،کرناٹک


غزل - 
میر بیدری، بیدر،کرناٹک

چلتے ہوئے راہوں میں رو جاتے ہوکیا؟
اپنے گناہوں کو بھی دھوجاتے ہوکیا؟

ہاں پوچھنا ہے میرے ہوجاتے ہوکیا؟
مشترکہ کچھ خوابوں میں کھوجاتے ہوکیا؟

عادت ہے کیسی، کیسی یہ تہذیب ہے؟
کوئی اگر چاہے تو سوجاتے ہوکیا؟

ہے خوب صور ت چہرا جس کے ہوتے تم 
ہردِل میں شک کابیج بوجاتے ہوکیا؟

اس شہر میں آتے ہو اپنے کام سے 
دیکھوکبھی ہم سے ملو جاتے ہوکیا؟

الفاظ تم سے پوچھنا ہے دوستو!
میرے قلم سے زندہ ہوجاتے ہوکیا؟

تم چند دِن تک ٹہرو دیکھو شہر میرؔ
جانا اگر ہے تم کو تو جاتے ہوکیا؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔