بارگاہِ شیر سوارؒ میں جلسہ جشنِ محبوبین کا روح پرور انعقادمحبوبِ سبحانی و محبوبِ الٰہی کی بارگاہ میں عقیدت کے نذرانے پیش


بیدر، 3 اکتوبر (نامہ نگارمحمدعبدبالصمد) بارگاہِ حضرت سیدنا تاج الدین شیر سوارؒ، المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ، بسواکلیان ضلع بیدر میں ماہِ ربیع الثانی کے پُرسعادت موقع پر سالانہ ’’جلسہ جشنِ محبوبین‘‘ (جشنِ محبوبِ سبحانی و جشنِ محبوبِ الٰہی) نہایت عقیدت و احترام اور روحانی ماحول میں منعقد ہوا۔ جلسہ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ اکرم ﷺ اور منقبت کے نذرانے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر علماء و مقررین نے بزرگانِ دین کی تعلیمات، فضائل و مناقب اور ان کی روحانی خدمات پر روشنی ڈالی۔ جلسہ کی نگرانی و سرپرستی تقدس مآب پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ شاہ ضیاء الحسن جاگیردار صاحب قبلہ، مورثی سجادہ نشین و متولی بارگاہ حضرت راجہ باگ سوارؒ نے فرمائی، جبکہ حضرت موصوف نے صدارتی خطاب فرمایا۔ غوثِ پاکؒ کی سیرت و تعلیمات: صدارتی خطاب میں حضرت مولانا خواجہ شاہ ضیاء الحسن جاگیردار نے غوثِ پاک حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی سیرت و تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؒ نے اپنی زندگی قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں گزاری۔ آپؒ نے توحید، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی کو انسان کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا۔ آپؒ کی تعلیمات میں توبہ، صبر، شکر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آپؒ نے انسانیت کی خدمت، محتاجوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیا۔ غوثِ پاکؒ کی سیرت آج بھی مسلمانوں کے لیے ایمان، تقویٰ اور نیک عملی کا روشن نمونہ ہے۔ محبوبِ الٰہیؒ کی سیرت و تعلیمات: انہوں نے محبوبِ الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی سیرت و تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؒ نے محبت، اخلاص، عاجزی اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ آپؒ کی خانقاہ سے ضرورت مندوں کو محبت، شفقت اور فیض حاصل ہوا۔ آپؒ نے بھوکے کو کھانا کھلانے، غم زدہ کی دلجوئی کرنے اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ آپؒ کی سیرت میں قرآن و سنت کی پابندی، عبادت، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ خلق نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اولیائے کرام کی ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرکے معاشرے میں محبت، امن، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ خصوصی خطاب: معروف مقرر جناب شوکت علی خان نظامی نے اپنے خصوصی خطاب میں اولیائے کرام کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی دینی و روحانی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بزرگانِ دین نے ہمیشہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت و اتباع اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام کی مجالس اور خانقاہیں محبت، اخوت اور روحانی تربیت کے مراکز رہی ہیں۔ آج کے دور میں ان بزرگوں کی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ دین سے وابستگی مضبوط کریں، اپنے کردار و اخلاق کو سنواریں اور معاشرے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ محفلِ نعت و منقبت میں حضرت خواجہ شاہ خسرو الحسن چشتی نظامی شیر سواری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک کا نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جبکہ جناب سید اکبر نظامی نے منقبت پیش کی۔ جلسہ میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بارگاہِ راجہ باگ سوارؒ میں حاضری دیتے ہوئے روحانی فیوض و برکات حاصل کیے۔ اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، خوشحالی، امن و امان اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔