سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور کے زیر اہتمام یوم سر سید احمد خان کا کامیاب انعقاد


وجئے پور : (راست) شعبہ اردو سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور کے زیر اہتمام یومِ سر سید احمد خان کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا اس جلسہ کے مہمان خصوصی محترمہ ریحانہ ہنڈیکر ایڈمنسٹریٹر اقراء انسٹی ٹیوشنز وجئے پور نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید احمد خان قومی اتحاد کے زبردست حامی تھے اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے جس کی دو رسیلی آنکھیں ہندو اور مسلمان اس میں ایک بھی بھینگی اور کانی ہو جائے تو اس ملک کی خوبصورتی ختم ہو جائے، یہ ایک عظیم مفکر، مصلح قوم ہیں جنہوں نے تعلیم کی طرف خاص توجہ دی اور محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد ڈالی، اور پہلی جنگ آزادی میں انگریزوں نے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا تو سر سید نے اسباب بغاوت ہند لکھ کر مسلمانوں سے جو بدگمانی تھی اس کو دور کرنے میں کامیاب ہوگئے آج ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کئی طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور مزید کہا کہ سر سید جس طرح سے شمالی ہند میں تعلیمی خدمات انجام دئیے ہیں اسی طرح سے مرحوم ڈاکٹر شمس الدین پونیکر بانی سیکیاب اسو سی ایشن بیجاپور جنوب ہند میں اپنی تعلیمی خدمات کے حوالے سے رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے. بلکہ وہ جنوبی ہند کے سر سید ہیں . اس موقع پر التمش ملا، گلفروش امین گڑھ، حسنی ہنڈے باگ، نافیہ پٹیل نے سر سید کی علمی و ادبی خدمات پر اپنے اپنے مقالات پیش کیے.ڈاکٹر ملیکا ارجن میتری پرنسپل سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید احمد خان نے سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا اور تعلیم ہی کو طاقت قرار دیا آج اس وقت ان کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے . اس جلسہ کی صدر ڈاکٹر ہاجرہ پروین صدر شعبہ اردو و وائس پرنسپل سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ سر احمد خان کی مجموعی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا علی گڑھ تحریک، سائنٹفک سوسائٹی کا قیام، رسالہ تہزیب الاخلاق، تاریخ و سیرت پر مبنی کتابیں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، آج ہم خواتین تعلیم کے میدان میں جو نظر آرہے ہیں یہ انہیں کا فیضان ہے. ان کے معاصرین نے ان کے مشن کی سخت مخالفت کرنے کے باوجود وہ اس کی پروا کئے بغیر اپنے مشن کو جاری رکھا اور وہ اپنے مشن میں کامیاب بھی ہو گئے جو مخالف تھے وہ بھی ان کی خدمات کے قائل ہو گئے . اس جلسہ کا آغازعائشہ مردے کی قرآت کلام پاک سے ہوا، بھگوت گیتا کے شلوک نویدیتا پاٹل نے پیش کئے، خیر مقدمی و تعارفی کلمات ڈاکٹر محمد سمیع الدین اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین نے ادا کیا، نظامت کے فرائض محوش دیگینال، مہک یمبتنال نے ادا کئے، شکریہ کا خوشگوار فریضہ تسمیہ ہلی نے انجام دیا اس موقع ڈاکٹر آزما انعامدار، پروفیسر وصفیہ مومن،پروفیسر میگھا وجرمٹی، کے علاوہ اساتذہ و طالبات کثیر تعداد میں موجود رہے.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔