رِستے زخم........!! ( ف۔خ۔مسرت )
رِستے زخم........!!
( ف۔خ۔مسرت )
وہ کمرے میں بیٹھا تھا۔
پرانی لکڑی کی الماری کے سامنے، جس کے دروازے پر ایک چھوٹا سا آئینہ لگا تھا۔ آئینے میں اس کا چہرہ ادھورا دکھائی دیتا تھا—آنکھیں موجود تھیں، مگر نگاہ غائب۔ جیسے کوئی شخص اپنے ہی جسم میں مہمان ہو، اور جسم اسے قبول کرنے سے انکار کر رہا ہو۔
الماری کی نچلی دراز کھلی ہوئی تھی۔ اس کے اندر ایک پرانا خط رکھا تھا، پیلے کاغذ پر سیاہی پھیلی ہوئی، جیسے زخم پر خشک خون۔ کاغذ چھوتے ہی انگلیوں میں ایک ہلکی سی جلن محسوس ہوتی۔ تین سال گزر چکے تھے، مگر کاغذ اب بھی زندہ تھا—اور زخم بھی۔ کاغذ کی بو اب بھی وہی تھی: پرانی سیاہی، تھوڑی سی نمی، اور کچھ ایسا جو الفاظ میں بیان نہیں ہوتا۔ جیسے وقت بھی اس خط میں قید ہو گیا ہو۔
اس رات جب اس نے یہ خط لکھا تھا، باہر بارش ہو رہی تھی۔ بارش کی آواز دیواروں سے ٹکراتی تھی، اور اندر خاموشی اتنی گہری تھی کہ سانس لینے کی آواز بھی گونجتی تھی۔ اس نے لکھا تھا، اور لکھتے وقت ہر حرف ایک چھوٹا سا زخم بن رہا تھا:
*میں تمہیں چھوڑ نہیں رہا۔میں صرف اس جگہ سے نکل رہا ہوں جہاں تمہارا نام بولنے سے بھی زخم ہوجاتے ہیں۔*
خط بھیجا نہیں گیا تھا۔۔کبھی بھی۔
کیونکہ کچھ باتیں زبان سے باہر نہیں نکلتیں۔ وہ صرف اندر رہ جاتی ہیں، اور آہستہ آہستہ زہر بن جاتی ہیں۔ اور زہر، ایک بار اندر اتر جائے تو پھر کبھی باہر نہیں نکلتا—وہ بس جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔
اب تین سال بعد، جب وہ خط دوبارہ ہاتھ میں ہے، تو الفاظ وہی ہیں، مگر وزن بدل چکا ہے۔ پہلے وہ الفاظ غصے کے تھے—تیز، کاٹتے ہوئے، جیسے کوئی چاقو۔ اب وہ الفاظ تنہائی کے ہیں۔ جیسے کوئی شخص اپنے ہی زخموں سے بات کر رہا ہو، اور زخم جواب دے رہے ہوں۔ اور جواب خاموشی میں چھپا ہوتا ہے۔
رشتے عجیب ہوتے ہیں۔ وہ کبھی مکمل طور پر مر نہیں پاتے۔ وہ بس اندر بیٹھ جاتے ہیں—خاموش، مگر زندہ۔ کسی خوشبو میں جاگتے ہیں، کسی پرانی گانے کی دھن میں سانس لیتے ہیں، کسی اجنبی کے ہنسنے کے انداز میں اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں۔ اور پھر انسان سمجھ جاتا ہے کہ وہ کبھی اکیلا نہیں تھا۔ زخم ہمیشہ ساتھ تھے۔
وہ سوچتا ہے کہ زخم کب بھرے تھے؟
کیا کبھی بھرے بھی تھے؟
یا وہ صرف چھپ گئے تھے—جلد کے نیچے، یادوں کے نیچے، روزمرہ کی مصروفیت کے پیچھے؟
اور چھپے ہوئے زخم سب سے خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ بتاتے نہیں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ وہ بس کبھی کبھار، بغیر اجازت، جاگ اٹھتے ہیں۔
کبھی کبھی رات کے آخری پہر میں، جب سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ زخم اب بھی سانس لے رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ۔ جیسے کوئی پرانا رشتہ اب بھی دیوار کے پار سے پوچھ رہا ہو:
*“تم ٹھیک ہو؟”*
اور وہ جواب نہیں دے پاتا۔
کیونکہ جواب دینے کا مطلب ہے تسلیم کرنا کہ زخم اب بھی زندہ ہیں۔ اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں زندہ رکھنا ہی ان کا علاج بن جاتا ہے۔ انہیں مار دینا، انہیں ختم کر دینا، گویا اس رشتے کے آخری باقیات کو بھی مٹا دینا ہے۔
اور انسان کبھی کبھار اپنے زخموں سے بھی پیار کرنے لگتا ہے۔
وہ خط کو دوبارہ فولڈ کرتا ہے، آہستہ سے۔ جیسے کوئی زخم پر پٹی باندھ رہا ہو جو کبھی نہیں بھرا۔
الماری بند کر دیتا ہے۔ آئینے میں اس کا چہرہ دوبارہ ادھورا ہو جاتا ہے۔
اور اس لمحے اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کمرے میں اکیلا نہیں۔
زخم بھی وہیں موجود ہیں… ساتھ ہیں۔ خاموش، صبر سے، جیسے کسی پرانے دوست کی طرح۔
وہ جانتا ہے—
کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے۔
وہ صرف زخم بن کر رہ جاتے ہیں۔
اور زخم، چاہے کتنے ہی پرانے ہو جائیں،
کبھی مکمل طور پر نہیں بھرتے۔
وہ بس چھپ جاتے ہیں۔
اور پھر کسی دن، کسی پرانے خط کی طرح، دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔
اور اس بار انسان سمجھ جاتا ہے کہ وہ کبھی ٹھیک ہوا ہی نہیں تھا۔
وہ صرف اپنے زخم کے ساتھ رہنا سیکھ گیا تھا۔
اس رات بھی باہر بارش ہو رہی تھی۔
اور اندر، خاموشی اتنی گہری تھی
کہ سانس لینے کی آواز بھی زخم کی طرح گونج رہی تھی۔
---
Comments
Post a Comment