گراں بارِ ایّام - از قلم : خان افراء تسکین (اورنگ آباد)


گراں بارِ ایّام - 
از قلم : خان افراء تسکین (اورنگ آباد)
فون نمبر: 9545857089 

بابا کو آئی سی یو میں منتقل ہوئے ابھی چند ہی منٹ گزرے تھے، مگر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک پوری عمر بیت گئی ہو۔

اسپتال کی راہداری میں لگی گھڑی کی سوئیاں اپنی رفتار سے چل رہی تھیں۔ لوگ آ جا رہے تھے، نرسیں مریضوں کی فائلیں لیے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا رہی تھیں، کہیں کسی مشین کی آواز سنائی دیتی، کہیں کسی بچے کے رونے کی۔ زندگی اپنے معمول کے مطابق جاری تھی، مگر میرے لیے اُس رات ہر چیز رک گئی تھی۔

میں آئی سی یو کے دروازے کے سامنے رکھی ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ میری نظریں بار بار اُس دروازے کی طرف اٹھ جاتیں، جیسے وہ کسی بھی لمحے کھلے گا اور اندر سے کوئی آ کر کہے گا کہ بابا اب ٹھیک ہیں، ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مگر دروازہ بند تھا۔

اور اُس کے پیچھے میرے بابا تھے۔

وہی بابا جنہیں میں نے ہمیشہ دوسروں کی پریشانیوں کا حل تلاش کرتے دیکھا تھا۔ آج وہ خود ایک ایسی جگہ تھے جہاں تک میری آواز بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔

کچھ دیر پہلے تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ پھر اچانک حالات نے ایسی کروٹ لی کہ گھر کی فضا بدل گئی۔ پریشانی بڑھی تو اسپتال آنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راستے بھر میں خود کو سمجھاتی رہی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بابا ہمارے ساتھ ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں، ڈاکٹر ہیں، علاج ہے، دعائیں ہیں۔

لیکن اسپتال پہنچتے ہی جب ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کیا تو میرے اندر کی ساری تسلیاں ایک ایک کرکے بکھرنے لگیں۔

کاغذی کارروائی کے لیے کسی نے کچھ پوچھا، کسی نے رپورٹ مانگی، کسی نے دوا کا نام بتایا۔ سب کچھ ہو رہا تھا، مگر مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں وہاں موجود ہو کر بھی وہاں نہیں ہوں۔

میرے کانوں میں ڈاکٹر کی آواز گونج رہی تھی، لیکن ذہن میں صرف ایک سوال تھا:

بابا ٹھیک تو ہو جائیں گے نا؟

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ بعض سوالوں کے جواب انسان کے پاس نہیں ہوتے۔ وہ انہیں اپنے رب کے حوالے کرکے خاموش بیٹھ جاتا ہے۔



اسپتال کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میں نے اوپر دیکھا۔ سفید روشنی میں نہائی ہوئی راہداری کے دونوں سروں پر لوگ اپنے اپنے انتظار میں گم تھے۔

ایک بزرگ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے۔ تھوڑی دور ایک عورت اپنے دوپٹے کے کونے سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ ایک نوجوان بار بار موبائل کی اسکرین دیکھتا، پھر کسی کو فون ملاتا اور جواب سن کر خاموش ہو جاتا۔

کسی کو کسی کی پوری کہانی معلوم نہیں تھی، مگر سب کے چہروں پر ایک جیسی بے چینی تھی۔

میں نے سامنے بیٹھے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے ہوئے تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا، آنکھیں بند کیں اور دھیرے سے کہا:

’’یا اللہ، رحم فرما۔‘‘

اس کے لہجے میں ایسی بے بسی تھی کہ میری اپنی آنکھیں بھر آئیں۔

میں نے بھی سر جھکا لیا۔

’’یا اللہ! میرے بابا کو شفا دے دے۔‘‘

بس اتنا ہی کہہ سکی۔

بہت سی دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان الفاظ میں ادا کرنا چاہتا ہے، مگر دل کی کیفیت زبان تک پہنچتے پہنچتے آنسو بن جاتی ہے۔

میں نے دوپٹے سے آنکھیں صاف کیں اور اٹھ کر آئی سی یو کے دروازے کی طرف چل دی۔ دروازے سے کچھ فاصلے پر جا کر رک گئی۔ اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ شیشے کے اُس پار کیا ہو رہا تھا، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔

واپس آ کر اسی کرسی پر بیٹھ گئی۔

پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔

پھر بیٹھ گئی۔

شاید خوف کی بھی اپنی ایک بے قراری ہوتی ہے۔ انسان ایک جگہ ٹھہرنا چاہتا ہے، مگر اس کے قدم اسے بار بار اسی دروازے تک لے جاتے ہیں جہاں سے کوئی خبر ملنے کی امید ہوتی ہے۔


بابا کی انگلی یاد آ رہی تھی۔

بچپن میں جب کبھی راستہ عبور کرتے ہوئے مجھے ڈر لگتا، میں ان کی انگلی مضبوطی سے تھام لیتی تھی۔ وہ مسکرا کر کہتے:

’’ڈرنے کی کیا بات ہے؟ بابا ہیں نا۔‘‘

اُس وقت یہ جملہ میرے لیے ہر خوف کا جواب تھا۔

اندھیرے کمرے میں جانا ہو، کسی اجنبی سے بات کرنی ہو یا کسی مشکل کا سامنا کرنا ہو، بابا کی موجودگی مجھے حوصلہ دے دیتی تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ میں بڑی ہو گئی۔ اپنے فیصلے خود کرنے لگی، اپنے خوابوں کے پیچھے چلنے لگی۔ کبھی تعلیم کی مصروفیت، کبھی کام، کبھی لکھنے پڑھنے کی دنیا۔ دن گزرتے رہے اور میں نے شاید کبھی ٹھہر کر یہ نہیں سوچا کہ جن ہاتھوں نے مجھے چلنا سکھایا، ایک دن انہی ہاتھوں کے لیے مجھے دعا مانگنی پڑے گی۔

اُس رات یہ خیال بار بار دل میں اٹھتا اور میں اسے جھٹک دیتی۔

نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔

بابا کو کچھ نہیں ہوگا۔

میں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ انگلیاں آپس میں پیوست تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں بابا کی انگلی تھامتے ہوئے مجھے کبھی یہ فکر نہیں ہوتی تھی کہ منزل تک کیسے پہنچوں گی۔ بس اتنا کافی تھا کہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے۔

آج وہی ہاتھ میری دسترس سے دور تھا۔

میں چاہتی تھی کہ ایک بار اندر جا سکوں، بابا کے پاس بیٹھوں، ان کا ہاتھ تھاموں اور انہیں بتاؤں کہ ہم سب باہر موجود ہیں۔ انہیں بتاؤں کہ گھر ان کے بغیر کتنا خالی ہے، کہ میں ابھی ان سے کتنی باتیں کرنا چاہتی ہوں، کہ میرے بہت سے خوابوں میں ان کی دعائیں شامل ہیں۔

مگر میں دروازے کے باہر بیٹھی تھی۔

اور میرے پاس صرف دعا تھی۔


رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئی۔

گھر سے کسی نے چائے لا کر دی۔ کپ میرے ہاتھ میں تھا، مگر چائے ٹھنڈی ہو گئی۔ کسی نے کھانے کے لیے پوچھا تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ بھوک کا احساس جیسے کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔

میرے پاس بیٹھے ایک رشتے دار نے تسلی دیتے ہوئے کہا:

’’اللہ بہتر کرے گا۔ حوصلہ رکھو۔‘‘

میں نے سر ہلا دیا۔

وہ بھی پریشان تھے، مگر مجھے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بھی وہی سوال تھا جسے ہم میں سے کوئی زبان پر نہیں لانا چاہتا تھا۔

کچھ دیر بعد ایک نرس آئی۔ اس نے مریض کے ایک رشتے دار کو بلایا اور چند ضروری باتیں بتائیں۔ ہم سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ بات سمجھا کر واپس چلی گئی تو راہداری میں پھر وہی خاموشی پھیل گئی۔

میں نے پہلی بار اپنے آس پاس موجود لوگوں کو غور سے دیکھا۔

ایک ماں اپنے بیٹے کی خیریت کے انتظار میں تھی۔ ایک شخص اپنی بیوی کے علاج کے بارے میں معلوم کرنے بار بار کاؤنٹر تک جا رہا تھا۔ ایک نوجوان اپنے بوڑھے والد کے لیے دوا لینے نکلا تو اس کی ماں نے پیچھے سے آواز دی:

’’بیٹا، ذرا جلدی آنا۔‘‘

اس معمولی سے جملے میں ایسی گھبراہٹ تھی کہ میں دیر تک اس عورت کو دیکھتی رہی۔

ہم سب اپنے اپنے لوگوں کے انتظار میں تھے۔

کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا شریکِ حیات، کسی کا بچہ۔

کسی کی زندگی کا سب سے اہم شخص ایک بند دروازے کے پیچھے تھا اور وہ خود کو اس یقین کے سہارے سنبھالے ہوئے تھا کہ ابھی سب ختم نہیں ہوا۔

اسی دوران ایک ایمبولینس اسپتال کے داخلی راستے پر آ کر رکی۔ عملے نے مریض کو اتارا اور تیزی سے اندر لے گئے۔ چند لمحوں کے لیے راہداری میں ہلچل بڑھی، پھر سب کچھ معمول پر آنے لگا۔

میں نے اسٹریچر پر لیٹے شخص کو دیکھا تھا، مگر اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکی۔

دل میں خیال آیا کہ شاید اس کے گھر والے بھی کہیں اسی طرح بیٹھے ہوں گے۔ کوئی اس کا نام لے کر دعا کر رہا ہوگا، کوئی اس کے ساتھ گزارے ہوئے دن یاد کر رہا ہوگا، کوئی اس کی واپسی کے لیے دل ہی دل میں کوئی وعدہ مانگ رہا ہوگا۔

میں نے نگاہیں جھکا لیں۔

اسپتال میں کسی کا دکھ کسی دوسرے کے دکھ سے چھوٹا نہیں ہوتا۔

بس ہر شخص کو اپنا درد سب سے گہرا محسوس ہوتا ہے۔



آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے۔

یا شاید اس سے کچھ کم یا زیادہ۔ مجھے اب وقت کا اندازہ نہیں رہا تھا۔

میں نے موبائل کی اسکرین روشن کی۔ گھر سے کئی پیغامات آئے ہوئے تھے۔ سب ایک ہی بات پوچھ رہے تھے:

بابا کیسے ہیں؟

میرے پاس کوئی نیا جواب نہیں تھا۔

میں نے لکھا، ’’ابھی آئی سی یو میں ہیں۔ دعا کریں۔‘‘

پیغام بھیج کر موبائل بند کر دیا۔

کبھی کبھی انسان دوسروں کو تسلی دینے کے لیے بھی الفاظ تلاش نہیں کر پاتا۔ کیا کہے؟ کیا لکھے؟ کہ سب ٹھیک ہو جائے گا؟ جب خود اپنے دل میں بے شمار اندیشے ہوں تو دوسروں کو یقین دلانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

میں نے آنکھیں بند کیں۔

بابا کے ساتھ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ ذہن میں ابھرنے لگا۔ ان کی آواز، ان کا انداز، گھر میں ان کی موجودگی، ان کی چھوٹی چھوٹی نصیحتیں۔ کچھ ایسی باتیں بھی یاد آئیں جن پر کبھی میں نے توجہ نہیں دی تھی۔ کبھی ان کی بات کا جواب جلدی میں دے دیا تھا، کبھی اپنی مصروفیت کے باعث ان کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں نکالا تھا۔

دل میں ایک عجیب سی کسک اٹھی۔

کاش، انسان کو پہلے سے معلوم ہو کہ کون سا لمحہ اس کے لیے کتنا قیمتی ہے۔

کاش، ہم اپنے پیاروں کے ساتھ گزارے ہوئے عام دنوں کو بھی اسی طرح سنبھال کر رکھتے جیسے کسی بڑی خوشی کی یاد کو محفوظ کرتے ہیں۔

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

میں نے دوپٹے سے چہرہ چھپا لیا تاکہ پاس بیٹھے لوگ میری طرف متوجہ نہ ہوں۔

پھر جانے کتنی دیر بعد میرے لب ہلے:

’’یا اللہ! میری کوئی خوشی مجھ سے لے لے، میری کوئی خواہش پوری نہ ہو، مجھے زندگی میں جو کچھ بھی نہ ملے، مجھے منظور ہے۔ بس میرے بابا کو شفا دے دے۔ مجھے ان کے ساتھ ابھی بہت وقت گزارنا ہے۔‘‘

یہ دعا کرتے ہوئے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں اللہ سے کیا مانگ رہی ہوں۔

مجھے کوئی معجزہ نہیں چاہیے تھا جس کا ذکر دنیا کرے۔ مجھے صرف اپنے بابا چاہیے تھے۔ اپنی معمول کی زندگی چاہیے تھی۔ وہی گھر، وہی آواز، وہی روزمرہ کی باتیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

میں چاہتی تھی کہ صبح ہو، بابا گھر واپس آئیں اور زندگی پھر سے اپنی رفتار پر چلنے لگے۔

میں چاہتی تھی کہ یہ رات گزر جائے۔


کچھ دیر بعد آئی سی یو کا دروازہ کھلا۔

میں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔

ایک ڈاکٹر باہر آیا۔ اس کے ہاتھ میں فائل تھی۔ اس نے وہاں موجود افراد سے مریض کی کیفیت کے بارے میں چند باتیں کیں۔ ہم سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔

میرے قدم اپنی جگہ جم گئے تھے۔

میں ڈاکٹر کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، مگر اس کی بات سمجھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ دل میں ایک ہی التجا تھی کہ کوئی بری خبر نہ ملے۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ حالت پہلے سے بہتر ہے، مگر ابھی نگرانی ضروری ہے۔

میں نے ایک گہرا سانس لیا۔

’’بہتر ہیں۔‘‘

یہ دو لفظ میرے اندر کئی گھنٹوں سے بند کسی دروازے پر دستک کی طرح تھے۔

میرے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ میں نے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ کسی نے الحمدللہ کہا۔ پاس کھڑے ایک رشتے دار نے شکرانے کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔

میں بھی خاموشی سے دعا کرنے لگی۔

میرے دل پر رکھا ہوا بوجھ کچھ ہلکا ضرور ہوا تھا، مگر خوف ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے نگرانی کی بات کہی تھی اور میں جانتی تھی کہ ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔

اس کے باوجود، اُس ایک خبر نے مجھے دوبارہ سانس لینا سکھا دیا تھا۔

میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسپتال کی چھت کے پار آسمان دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر میری نگاہیں وہیں ٹھہر گئیں۔

’’الحمدللہ، یا اللہ! تیرا شکر ہے۔‘‘

میرے پاس اس لمحے کہنے کو اور کچھ نہیں تھا۔


میں دوبارہ کرسی پر آ کر بیٹھ گئی۔

اس بار میں نے آس پاس دیکھا تو وہی راہداری کچھ بدلی ہوئی محسوس ہوئی۔ دیواریں وہی تھیں، روشنیاں وہی، لوگوں کے چہرے بھی وہی؛ مگر میرے اندر کی کیفیت بدل چکی تھی۔

کچھ فاصلے پر ایک شخص بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس کی نگاہیں بھی بار بار آئی سی یو کے دروازے پر اٹھ رہی تھیں۔ میں نے اسے دیکھا تو دل چاہا کہ اس کے پاس جا کر کہوں:

’’حوصلہ رکھیے۔ اللہ بہتر کرے گا۔‘‘

مگر میں خاموش رہی۔

شاید اس لیے کہ میں جانتی تھی، بعض اوقات ایسے جملے سننے کے باوجود دل کو سکون نہیں ملتا۔ انسان کو تسلی سے زیادہ خبر کا انتظار ہوتا ہے۔ ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔