ظلم کا نتیجہ اخر تباہی ہی ہے - محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکلکواں


ظلم کا نتیجہ اخر تباہی ہی ہے - 
محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکلکواں

دنیا میں اکثر یوں ہوا ہے کہ کبھی اقتدار کبھی قوت و طاقت کبھی مال و دولت اور کبھی حسن و جمال ظلم کا شعار بن کر لوگوں کی تباہی کا سبب بنا ہے اس ضمن میں قران مجید بڑی رہنمائی کرتا ہے ان تینوں چیزوں میں سے اللہ نے جن کو یہ عنایت کر رکھی ہے ان کو بہت حساس رہنے کی ضرورت ہے دنیا میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ارباب اقتدار و حکومت کیلیےانکاظلم ہی ان کا نشان امتیاز بن گیا ہے تاریخ میں ایسے بے شمار انگنت واقعات موجود ہیں عصر حاضر کے حکمرانوں کی بھی اصل اور نمایاں شناخت یہی جبر و ظلم اور زیادتی نظر اتی ہے لیکن ظالم اور وہ افراد جو دنیا میں لاقانونیت اور انارکی کو فروغ دیتے ہیں وہ یہ جان لے کہ مظلوم اگرچہ کہ وہ بظاہر نقصان اٹھاتا نظر آتاہے لیکن یہی مظلومیت ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے گویا مظلوم فاتح اور ظالم مفتوح ہی رہتا ہے باری تعالی نے فتح و نصرت اور پسپائی اور ہزیمت کے کچھ اسباب دنیا والوں کو مرتب انداز میں دیا ہے اور قران ان تمام ظالمین کا تذکرہ بڑے شرح و بسط کے ساتھ پیش کرتا ہے اگر فتح و نصرت کے اسباب پر اہل اقتدار عامل رہیں تو فتح مندی قدم چومتی ہے اور اگر شکست اور ہزیمت کے اسباب اختیار کیے جائیں تو زوال و ذلت ان کا مقدر ہوتی ہے یہ ممکن نہیں کہ کام تو ہم کرے اپنے سکوت و زوال کے اور رب بے نیاز سے امید رکھے فتح نصرت اور کامیابی کی 
محققین نے ظلم کو تین خانوں میں تقسیم کیا ہے سب سے پہلے قران پاک نے ظلم عظیم جس چیز کو قرار دیا ہے وہ خدا کی وحدانیت اس کی سمیت اس کی خالقیت اس کی مالکیت اور اس کے اقتدار میں کسی اور کو سہیم و شریک سمجھنا یہ ظلم عظیم ہے قران پاک یوں بیان کرتا ہے... ان الشرك لظلم عظيم. کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنانا یہ بڑی بے انصافی اور اسی کو ظلم عظیم قرار دیا ہے انسان کا اپنی ذات پر ظلم قران اس کو بھی بیان کر رہا ہے فمنهم ظالم لنفسه (پھر ان میں کوئی برا کرتا ہے اپنا) 
ایک انسان کا دوسرے انسان پر ظلم قران پاک میں اس کو یوں بیان کیا. 
  وجزاء سيئه سيئه مثلها فمن عفا واصلح فاجره على الله ان الله لا يحب الظالمين""۔۔پھر جو کوئی معاف کرے اور بات کو سنوارے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمے بے شک اس کو پسند نہیں اتے ظالم "۔٢۔انسان کا انسان پر ظلم یعنی کسی انسان کا حق مارنا اور اس کے ساتھ زیادتی کرنا یہ بھی بہت بڑا ظلم ہے اللہ کے غصے کو مشتعل کرنے والا ہے یہاں تک کہ کوئی مسلمان کسی کافر کا کوئی حق مار لے تو وہ بھی اللہ کے نزدیک ظالموں میں سے ہوگا چہ جائے کہ کسی مسلمان کی حق تلفی کرے
حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کو ظلمات یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے حضور نے فرمایا الظلم ظلمات يوم القيامه. ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں ان سے ایک روایت مروی ہے اپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ کر تا ہے تو وہ اللہ کے عذاب سے کسی بھی طرح نہیں بچ پاتا خداوند عالم کی ہر زمانے میں یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضے سے ظالموں کو کسی طرح ڈھیل دیتا رہتا ہے مگر جب پکڑ کرتا ہے تو پھر ظالموں کو باعث عبرت بنا دیتا ہے
ان أخذه اخذةرابىة  
 یہ یقینی بات ہے ظلم چاہے جس درجے کا بھی ہو زوال و ذلت کی یقینی علامت ہے ظالم نہ کل خدا کی پکڑ سے بچا ہے نہ اج بچ سکے گا مظلوم کو خدا ہی کا سہارا طلب کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں امداد و نصرت کی دعا مانگتے رہنا چاہیےاور اس کے ازالہ کی اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرنا چاہیے بسا اوقات مال اور عہدہ جس کے حصول میں انسان خوب غفلت سے کام لیتا ہے اور پھر اسی کے سہارے ظلم و پر کمر بستہ ہو جاتا ہے کبھی عہدے اور مال کے لالچ میں وہ اپنی خودی خوداری کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ پھر مکاری چاپلوسی اور تملقیت اس کا شیوہ و شعار بن جاتا ہے پھر اس کو سوائے اس کے اور کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا شاعر کہتا ہے 
خدا کی راہ کو رہبر بنا لے اپنی منزل کا 
کہ خدا کو بھولنے والے منزل پایا نہیں کرتے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔