ڈاکٹر عبدالکلام: ایک استاد جس نے پورے ہندوستان کو خواب دیکھنا سکھایا۔ - ازقلم : غزالہ کمال الدین، راویر


ڈاکٹر عبدالکلام: ایک استاد جس نے پورے ہندوستان کو خواب دیکھنا سکھایا
ازقلم : غزالہ کمال الدین، راویر

دنیا میں بہت سے لوگ پیدا ہوتے ہیں، کچھ اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرتے ہیں، کچھ اپنے علم سے دنیا کو بدلتے ہیں، لیکن بہت کم ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو پوری قوم کی سوچ کو نئی سمت عطا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اے۔ پی۔ جے عبدالکلام ایسی ہی ایک عظیم شخصیت تھے، جنہوں نے سائنس کے میدان میں ہندوستان کا نام روشن کیا، ملک کے صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ایک استاد کی حیثیت سے کروڑوں نوجوانوں کے دلوں میں امید، خود اعتمادی اور کامیابی کے خواب جگائے۔ وہ صرف ایک سائنس دان یا صدرِ جمہوریہ نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے معلم تھے جنہوں نے پوری قوم کو یہ یقین دلایا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں، محنت مسلسل ہو اور مقصد بلند ہو تو کوئی منزل ناممکن نہیں۔
رامیشورم سے راشٹرپتی بھون تک
ڈاکٹر اے۔ پی۔ جے عبدالکلام 15 اکتوبر 1931ء کو تمل ناڈو کے ساحلی علاقے رامیشورم میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک سادہ اور محنت کش خاندان سے تھا۔ بچپن میں انہوں نے محدود وسائل اور معاشی مشکلات کا سامنا کیا، لیکن ان مشکلات کو اپنی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ وہ محنت، نظم و ضبط اور علم حاصل کرنے کے جذبے سے آگے بڑھتے رہے۔
ان کی زندگی کا سفر اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انسان کی عظمت اس کے حالات سے نہیں، بلکہ اس کے حوصلے، کردار اور جدوجہد سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک عام گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ اپنی محنت اور قابلیت کے بل پر ہندوستان کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچ سکتا ہے۔ عبدالکلام کی زندگی ہر اس طالب علم کے لیے امید کا پیغام ہے جو نامساعد حالات کے باوجود کچھ بڑا کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔
سائنس دان جس نے ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا
ڈاکٹر عبدالکلام نے طبیعیات اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ہندوستانی خلائی تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم خدمات انجام دیں۔ ہندوستان کے میزائل پروگرام میں ان کے نمایاں کردار کی وجہ سے انہیں ’’میزائل مین آف انڈیا‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔
لیکن ان کی نظر صرف سائنسی کامیابیوں تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جو علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور معیاری تعلیم کے میدانوں میں ترقی کرے۔ ان کا ماننا تھا کہ کسی ملک کی اصل طاقت اس کے وسائل سے زیادہ اس کے باشعور، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت شہریوں میں ہوتی ہے۔
صدر بنے، مگر دل سے استاد رہے
سن 2002ء میں ڈاکٹر عبدالکلام ہندوستان کے گیارہویں صدرِ جمہوریہ منتخب ہوئے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل تھا، لیکن اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچنے کے باوجود ان کی سادگی، عاجزی اور طلبہ سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ بچوں اور نوجوانوں سے ملاقات کرنا، ان کے سوالات سننا اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دینا پسند کرتے تھے۔
ان کے نزدیک استاد کا کام محض نصابی کتاب مکمل کرانا یا امتحان میں اچھے نمبر دلانا نہیں، بلکہ طالب علم کے اندر سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک اچھا استاد صرف ایک کلاس نہیں سنوارتا، بلکہ آنے والی نسلوں کی تعمیر کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صدر بننے کے باوجود ڈاکٹر عبدالکلام کی سب سے محبوب شناخت ایک استاد کی رہی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر بچہ اپنے اندر چھپی صلاحیت کو پہچانے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی قدم اٹھائے۔

ڈاکٹر عبدالکلام نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کے نزدیک خواب محض خواہشات کا نام نہیں، بلکہ وہ مقاصد ہیں جو انسان کو محنت، جدوجہد اور عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ مستقبل کسی معجزے کا انتظار کرنے سے نہیں، بلکہ آج کے درست فیصلوں اور مسلسل کوششوں سے بنتا ہے۔
ان کا تصورِ ہندوستان ایک ایسے ملک کا تھا جہاں ہر بچے کو تعلیم ملے، ہر نوجوان کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع حاصل ہو، سائنس اور تحقیق کو فروغ دیا جائے اور ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ ان کا خواب تھا کہ ہندوستان علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل ہو اور دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ اپنی پہچان قائم کرے۔
آج جب ہم نوجوان نسل کے مسائل، تعلیمی ضروریات اور روزگار کے مواقع پر غور کرتے ہیں تو عبدالکلام کے افکار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ نوجوانوں کو صرف نصیحت نہیں، بلکہ معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کرنے چاہئیں۔
ایک معلم کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری ذمہ داری صرف بچوں کو پڑھانا نہیں، بلکہ ان کے اندر اعتماد، خودداری، اخلاق اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کرنا بھی ہے۔ ہر بچے کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت موجود ہوتی ہے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ استاد اس صلاحیت کو پہچانے، اس کی حوصلہ افزائی کرے اور اسے آگے بڑھنے کا موقع دے۔
کسی بچے کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھ لینا، اس کے کم نمبروں کو اس کی قابلیت کا آخری فیصلہ بنا دینا یا اس کے خوابوں کو ناممکن کہہ کر رد کر دینا، اس کی شخصیت کی نشوونما میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ایک حقیقی استاد وہ ہے جو بچے کی غلطیوں میں اصلاح کا موقع، اس کی ناکامی میں کامیابی کی بنیاد اور اس کی چھوٹی سی کوشش میں ایک روشن مستقبل دیکھ سکے۔
ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی اساتذہ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کلاس روم میں بیٹھا ہوا ہر بچہ مستقبل کا سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، سماجی رہنما یا ایک ذمہ دار شہری بن سکتا ہے۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ ہر بچے کے خواب کو عزت دے اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے۔
ان کی آخری سانس بھی تعلیم کے نام
ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی کا سب سے متاثر کن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آخری لمحات تک علم اور تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا۔ 27 جولائی 2015ء کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، شیلانگ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وہ اچانک بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ یوں وہ اپنے محبوب مشغلے، یعنی طلبہ سے گفتگو اور تعلیم کے ذریعے نوجوانوں کی رہنمائی، کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
ان کی زندگی کا یہ آخری باب ہمیں بتاتا ہے کہ تعلیم ان کے لیے محض پیشہ نہیں، بلکہ زندگی کا مقصد تھی۔ ان کا وجود ختم ہوگیا، لیکن ان کے خیالات، کتابیں، تعلیمات اور نوجوانوں کے لیے ان کے خواب آج بھی زندہ ہیں۔
ڈاکٹر اے۔ پی۔ جے عبدالکلام کی زندگی ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جو ہمیں اندھیروں سے گھبرانے کے بجائے روشنی پیدا کرنے کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عظمت عہدے میں نہیں، کردار میں؛ کامیابی دولت میں نہیں، مقصد میں؛ اور تعلیم صرف معلومات حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ انسان کی شخصیت کو سنوارنے میں پوشیدہ ہے۔
آج ہندوستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو بڑے خواب دیکھیں، سچائی کے ساتھ محنت کریں، علم کو اپنی طاقت بنائیں اور اپنی کامیابی کو معاشرے کی خدمت کا ذریعہ سمجھیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم ڈاکٹر عبدالکلام کو صرف ان کی برسی یا یومِ پیدائش پر یاد نہ کریں، بلکہ ان کے افکار کو اپنی زندگی اور تعلیمی نظام کا حصہ بنائیں۔
ڈاکٹر عبدالکلام دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر انہوں نے خواب دیکھنے والی آنکھیں، سوچنے والے ذہن اور آگے بڑھنے والے قدم ایک پوری قوم کو دے دیے۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جنہوں نے صرف سبق نہیں پڑھایا، بلکہ ہندوستان کو اپنے مستقبل پر یقین کرنا سکھایا۔
واقعی، قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے کبھی کبھی ایک استاد ہی کافی ہوتا ہے؛ ایسا استاد جو خود روشنی بن کر جلتا ہے اور دوسروں کے راستے روشن کر جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام اسی روشنی کا نام ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔