سڑکوں کی سرگزشت - مضمون نگار....... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا


سڑکوں کی سرگزشت - 
مضمون نگار....... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا
10 اکتوبر 2026 

   لوگ مجھے کئی نام سے پکارتے ہیں. کوئی کہتا ہے کہ سڑک تو کوئی راستہ اور کوئی مجھے راہ اور صراط بھی کہتا ہے. اردو عربی فارسی سے ہٹ کر انگریزی میں روڈ، وے پاتھ، کشادہ راستوں کو ہائی وے تیلگو میں داری، راہداری باٹا داوا اور ماوگم ہندی میں بگ وغیرہ بھی کہتے ہیں. آمد ورفت کے وسائل کی میں اہم کڑی ہوں. میں کئی طرح کی ہوتی ہوں. لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچانے میں مدد ضرور کرتی ہوں. ازل سے لوگ مجھ پر سفر کرتے ہیں کہیں پیدل تو کہیں مختلف سواریوں پر.  راستے بری بحری اور ہوائی بھی ہوتےہیں سڑکیں دو قسم کی ہوتی ہیں. ایک کچی دوسری پکی. گاؤں میں عام طور پر کچی سڑکیں اور شہروں میں  خوصی طور پر پکی سڑکیں ہوتی ہیں.میں ٹیڑھی میڑھی نشیب وفراز بھی ہوتی ہوں .میرے بازو  فٹ پاتھ ہوتا ہے بڑی اور کشادہ سڑکوں کو شہرا ہیں کہتے ہیں. روڈ کا نٹراکٹرز اب شہروں میں مجھ پر رنگ روڈ اور سڑکوں پر برڈچ بناتے ہیں. مجھ پر ٹول گیٹ بھی دیکھے جاتے ہیں میری تعمیر  پانی، مٹی، کنکر، کیل.(تار) ریت اور سیمنٹ وغیرہ سے کی جاتی ہیں. مجھ پر بےدردی و بےرحمی سے وزن درا گاذیاں چلائی جاتی ہیں. لوگ  اپنی غفلت سے راستہ بھٹک کر مجھے برا بھلا کہتے ہیں. میرے نصیب میں ظلم سہنا ہے. زیادتیاں برداشت کرناہے. میرا مزاج خاموشی ہے نہ شور ہے نہ شکایت. بارشوں کا موسم جاتے ہی میری حالت خراب اور صورت بگڑجاتی ہے. سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے دیکھے جاتے ہیں. کہیں پانی ٹہر جاتاہے. پیدل چلنے والوں پر گاڑیاں چلانے والے ظلم و زیادتی کرتے ہیں کیچڑ اچھال کر آگے نکل جاتے ہیں.اکثر حادثے مقدس مقامات کی زیارت کے موقع پر یاشادی بیاہ کے موقع پر اور سیر وتفریح کے موقعوں پر حادثے ہوتے ہیں. 
سڑک کے حادثوں کے وقت پانچ باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیئے. 
1.امداد کے لئے بلائیں 
2.زخمی لوگوں کا فوری علاج 
3،گھبرانا اور خوف میں مبتلا نہ ہو 
4.حادثے کی اہم تفصیلات اکٹھا کریں
5.علاج کےلے ماہرین صحت سے رجوع ہوں 
      مجھ پر لوگ روز پیدل چلتے ہیں اور دوڑتے بھی ہیں. جانوروں کو لے جاتے ہیں گوبر پیشاب سے گندا کرتے ہیں. سائکلز، اسکوٹرز، آٹو، کار، ٹرک، ویان ٹراکٹرز، بس لاریاں ٹرالیاں بھی چلتی ہیں. کبھی مجھ پر ریلیاں اور جلوس بھی نکالے جاتے ہیں.
کوئی حقارت سے تھوکتا ہے تو کوئی کلی کرتاہے. کوئی اگال تو کوئی پان کھا کر مجھ پر لال دھبے لگاتا ہے. کوئی خالی بوتل ڈالتا ہے تو کوئی اسے پیروں سے روندھتا ہوا آگے بڑھاتا ہے. بوتل سڑکوں پر آکر گاڑیوں کے پہیلیوں کے نیچے آکر بد صورت ہوجاتی ہیں. میری بدقسمتی یہ ہے کہ ایک نہیں کئی گاڑیاں انہیں کچل دیتی ہیں میں بےیار و مددگار ہو کر رہ جاتی ہوں . مجھ پر غفلت اور کاہلی سے چلنے والے یہاں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں. تیز رفتاری ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے. چوکنا اور احتیاط سے رہنے والے ہی منزل پہنچتے ہیں. لمبا سفر کرنے والے ڈرائیور تھک جاتے ہیں ان کے لیے آرام ضروری ہے. سڑکوں پر گاڑیاں کبھی کبھی خراب ہوجاتی ہیں. مسافر بڑی مشکل اور مصیبت سے گزرتے ہیں. پتلی سڑکوں پر مصیبت ہے تو بھیڑ والی سڑکوں پر حادثے ہونے کے امکانات ہیں.
         ٹرافک پولس اور سگنلوں کا کام بھی اہم ہوتا ہے. اس میں آرٹی او  ذمہ دار عہدہ دار ہے.سڑکوں پر ایمبولینس کو پہلے نکل جانے کی ضرورت ہے. آندھرا پردیش ریاستی حکومت نے 108اور 104 مریضوں زخمی لوگوں کو اور حاملہ خواتین کو لےجانے کےلے  مفت گاڑیوں کی سہولت کی ہے. جو سڑکوں پر ہمیشہ نظر آتی ہیں. ہر ریاست میں آگ بجھاؤ گاڑی بھی سڑکوں پر دکھائی دیتی ہیں. ہندوستان کو آزاری مل کر 80 سال مکمل ہونے کو ہے پھر بھی آج تک٪ 25 گاؤں کو جانے کےلے پکی سڑکیں نہیں ہیں جب کہ سڑک یوجنا روڈ اینڈ بلڈنگ اور محکمہ شہ راہیں بھی موجود ہیں. 
        گاؤں بھی وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں. ہمارے ملک کے قصبوں میں کسان کھیتوں میں کام کرتے ہیں. فصلیں، ترکاریاں اور سبزیاں اگاتے ہیں. انہیں کچی پکی سڑکوں کے ذریعے سے شہروں کے بازاروں تک لاکر فروخت کرتے ہیں. شہروں میں سہولتیں بڑھ رہی ہیں گاؤں میں کم. جب تک گاؤں ترقی. نہیں کرتے ملک ترقی کرنا مشکل ہے. 
       شہ راہوں پر ڈیویڈر ہوتےہیں. کبھی کبھی نیند کے غلبہ سے کبھی کبھی نشہ میں ٹکراجاتے ہیں کبھی زخمی تو کبھی جان گنواں بیٹھتے ہیں. شہر اور گلیوں میں روڈ بریکر ہوتےہیں. یہاں چوکنا ہوکر جانا پڑھتا ہے. کبھی ہماری تو گاڑی کی خرابی آ جاتی ہے . محکمہ جنگلات کے ذمہ دار سڑکوں کے دونوں جانب پودے لگاتے ہیں، جو چند برسوں میں درخت بن کر سایہ پھل پھول اور تازہ ہوا دیتے ہیں اکثر چوراہوں پر سگنلس ہوتےہیں. جس پر عمل کرنا لازمی ہے. سڑکیں جتنی لمبی چوڑی ہوتی جارہی ہیں اتنے ہی حادثوں میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے.جس کی روک تھام ضروری ہے.
       ریاست آندھرا پردیش میں 55 قومی راستے ہیں.
اہم تفصیلات
" ریاست کی سب سے لمبی قومی سڑک
16ین ہیچ سری کاکولم تا نیلور تک ہے
" سڑکوں پر لگانے گئے 4 قسم کے سنگ میل الگ الگ رنگوں کے ہوتےہیں 
1.قومی شہ راہیں پیلا اور سیاہ
2.ریاستی راہیں ہرا اور سفید
3.ضلعی سرکڑکیں سیاہ اور سفید
4.رولر روڈ کے سنگ میل سفید اور زعفرانی رنگ کے ہوتے ہیں. 
         ریاست آندھرا پردیش میں سڑکوں کی تعمیر اور انہیں وسیع کرنے کی کاروائی زوروں پر چل رہی ہے. راجدھانی امراوتی کے علاقے سے دوسرے علاقوں کو جوڑنے کےلے اہم سڑکوں کی تعمیری ترقی ریاستی منسپل شبعہ کے وزیر پی ناراینا، سی آر دی اے کمشنر وجیا راما راجو، مرکزی شبعہ روڈ و وسائل کے وزیر نتین گڈگاری نے نئے منصوبوں پر عمل کرنے کی حکام کو ہدایت دی ہے.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔