سید ساجد حیات یادگیر - (اسپورٹس آرٹیکل) نویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہو ئے کر ناٹک کے من ونت کمار کی بے مثال سنچری
سید ساجد حیات یادگیر -
(اسپورٹس آرٹیکل)
نویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہو ئے کر ناٹک کے من ونت کمار کی بے مثال سنچری
کر نا ٹک کے نوجواں کرکٹر من ونت کمار رنجی میاچ میں نویں نمبر پربلے بازی کر تے ہو ئے سنچری اسکور کرکے کر ناٹک کی کرکٹ میں اپنے آپ کو ایک ابھرتے آل راونڈر کے طور پر پیش کیا، ہندوستانی ڈومسٹیک کر کٹ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جانے والاچار روزہ رنجی ٹرافی کرکٹ ٹورنمنٹ کے سال 2026-27 سیزن کے پہلے مرحلے کے دوسرے ر اؤنڈ کے میاچس18۔21۔اکتوبر تک مختلف ٹیموں کے درمیان ملک کے الگ الگ مقامات کے میدانوں پر کھیلے گئے، بنگلور کے مضافاتی علاقے آلور میں مو جود کے۔ یس۔ سی۔ اے کر کٹ گراؤنڈ میں گروپ بی کی ایلیٹ ٹیمیں کر نا ٹک اور سوراشٹرا کے درمیان کھیلے گئے میاچ میں ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بلے بازی کر تے ہوئے میزبان کر نا ٹک کی ٹیم نے صرف 194 رنز پر اپنے آٹھ قیمتی وکٹ کھو دئے، جس میں ماینک اگروال، کرون نائیر جیسے بین الاقومی سطح پر کھیل چکے بلے باز شامل تھے، اس موقع پر اپنا دوسرا فرسٹ کلاس میاچ کھیل رہے آل راونڈر من ونت کمار اپنے بلے بازی کے جواہر سے پاری کو آگے بڑھاتے ہو ئے ٹیم کو بحران سے باہر نکالا، اور قومی ٹیم میں کھیل چکے جئے دیو اوندکت اور چیتن ساکرئیا جیسے تیز گیندبازوں کے خلاف من ونت کمار نے نویں نمبر پر دلیری سے بلے بازی کر تے ہو ئے اپنی پہلی فرسٹ کلاس سنچری مکمل کی،جبکہ دوسری اننگ میں بھی من ونت کمار نے ناٹ رہتے ہو ئے 31 رنز کی اننگ کھیلی، اور، وہ بطور گیند باز پہلی اور دوسری اننگ میں ایک ایک وکٹ بھی حاصل کیا، من ونت کمار کے اس آل راونڈر مظاہرے کی بدولت کر نا ٹک نے سوراشٹرا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کے اس میاچ کو ڈرا کرانے میں کامیاب رہی، شہرمیسور سے تعلق رکھنے والے من و نت کمار کر نا ٹک اسٹیٹ کر کٹ اسو سی اسیشن کی جانب سے آئی پی یل کی طرز پر کھیلا جارہا ٹی۔20مہا راجہ ٹرافی میں ہبلی ٹائیگرس سے کھیلتے ہیں، انہوں نے 2023 کے مہاراجہ ٹرافی سیزن میں بطور گیند باز سب سے زیادہ وکٹیں لے کر اپنی قابلیت کا لوہا منوایا، اس سیزن میں من ونت کمار نے کل بائیس وکٹیں حاصل کی،
کرناٹک کے کرکٹر من ونت کمارنے سوراشٹرا کے خلاف رنجی ٹرافی میں نویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے سنچری بنائی اور ثابت کیا کہ کرکٹ میں مقام نہیں، حوصلہ اور صلاحیت اہم ہوتے ہیں۔کرکٹ محض رنز بنانے کا کھیل نہیں، بلکہ یہ عزم، صبر، حوصلے اور نازک حالات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا نام بھی ہے۔ کبھی کوئی اوپنر اپنی شاندار اننگز سے ٹیم کو اچھی شروعات دیتا ہے،تو کبھی کوئی مڈل آرڈر بلے باز ٹیم کو بحران سے نکالتا ہے،اور کبھی کوئی نویں نمبر کا بلے باز سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے، من ونت کمار نے محاذ سنبھالا جب کرناٹک کی ٹیم مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔ ٹیم کے 187 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے اور وکٹیں مسلسل گرنے کے باعث ایک بڑے اسکور کی امیدیں ماند پڑتی دکھائی دے رہی تھیں۔لیکن 22 سالہ بائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ نہ صرف اننگز کو سنبھالا، بلکہ سوراشٹرا کے تجربہ کار گیند بازوں کے خلاف دلیرانہ انداز میں بلے بازی کی۔من ونت نے 214 گیندوں پر 135 رنز بنائے، جن میں 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔ ان کی اس شاندار اننگز کی بدولت کرناٹک کی ٹیم پہلی اننگز میں 342 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ ان کے فرسٹ کلاس کرکٹ کیریئر کی پہلی سنچری تھی، جو انہوں نے اپنے دوسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں اسکور کی۔یہ اعداد و شمار صرف ان کے رنز کی کہانی نہیں سناتے، بلکہ اس اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو ایک نوجوان کھلاڑی نے مشکل وقت میں اپنی ٹیم کو دیا،
ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں نویں نمبر پر آنے والے کھلاڑی سے عموماً اتنی بڑی اننگ کی توقع نہیں کی جاتی۔لیکن من ونت کمار موقع ملنے پر بڑے شاٹس بھی کھیلے۔ سوراشٹرا کے تجربہ کار تیز اور اسپین گیند باز وں کے خلاف بلند و بالا چھکے لگائے انہوں نے اپنی سنچری کے ساتھ ٹیم کو ایک قابلِ مقابلہ اسکور تک پہنچایا اور ابھلاش شیٹی کے ساتھ ایک یادگار شراکت کی،کرکٹ میں بڑی اننگز ہمیشہ تنہا نہیں بنتیں۔ کبھی کبھی دوسرے سرے پر کھڑا کھلاڑی اپنے دفاع، صبر اور ثابت قدمی سے ساتھی بلے باز کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔من ونت کمار کی اس اننگ میں ابھلاش شیٹی کا کردار بھی قابلِ ستائش رہا۔ اس اننگ میں دسویں نمبر کے بلے باز ابھلاش شٹی نے 137 گیندوں پر دس کے اوسط سے صرف 14 رنز ہی بنائے اور یہ دونوں کو جوڑی نے نویں وکٹ کیلئے کارآمد 146 رنز بنائے جب کرناٹک کی ٹیم مشکلات سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی، تب دونوں نے اہم شراکت قائم کی۔ ابھلاش شٹی نے دوسرے سرے پر وکٹ سنبھالے رکھی اور من ونت کو اپنے کھل کر شاٹس کھیلنے کا موقع دیا۔ من ونت کمار ایک نوجوان آل راؤنڈر ہیں، جو بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کرتے ہیں، اس سال گیارہ اکتوبر کو وجئے واڑہ میں آندھراپر دیش کے خلاف انہوں نے اپنا پہلا رنجی کرکٹ میاچ کھیلا، جبکہ دسمبر 2025 کو وجئے ہزارے ٹرافی میں پانڈیچری کے خلاف اپنا پہلا میاچ کھیل کر ونڈے دومسٹیک میاچوں کی شروعات کی، وہ 2024 میں کرناٹک کی جانب سے سوراشٹرا کے خلاف اندور میں سید مشتاق علی ٹرافی میں ٹی۔ 20 کرکٹ میں قدم رکھا، اور 2025 میں آئی پی ایل کی ٹیم دہلی کیپٹلز کے اسکواڈ کا حصہ بھی رہے۔ اگرچہ انہیں اس وقت آئی پی ایل میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، لیکن اعلیٰ سطح کی کرکٹ سے وابستگی نے انہیں اپنے کھیل کو آگے بڑھانے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔اب ان کی پہلی فرسٹ کلاس سنچری نے ان کے کیریئر میں ایک نئی امید پیدا کردی ہے۔اگر وہ کرناٹک کے لیے رنز بناتے رہتے ہیں، اپنی گیند بازی میں نکھار پیدا کرتے ہیں اور مختلف حالات میں خود کو ثابت کرتے ہیں تو ان کے لیے بڑے مواقع کے دروازے کھل سکتے ہیں۔کرناٹک کی کرکٹ کی تاریخ میں بھی ایسے کھلاڑیوں کی اہمیت رہی ہے جو مشکل حالات میں اپنی ٹیم کے لیے کھڑے ہوئے۔ اب نظریں اس بات پر ہوں گی کہ یہ نوجوان آل راؤنڈر اپنی پہلی فرسٹ کلاس سنچری کے بعد کامیابیوں کا یہ سفر کہاں تک لے جاتا ہے۔ شائقین کوامید ہے کہ من ونت کمار کی یہ سنچری ان کے روشن مستقبل کا آغاز ثابت ہو اور وہ اپنی محنت، مستقل مزاجی اور عمدہ کھیل سے کرناٹک ہی نہیں، ہندوستانی کرکٹ میں بھی نمایاں مقام حاصل کریں۔
Comments
Post a Comment