غزل دوئل (مبارزہ ) - مشتاق احمد ساقی، یادگیری۔
غزل دوئل (مبارزہ ) -
مشتاق احمد ساقی، یادگیری۔
ساقی کا جواب — کاتب کے اشعار پر۔
لفظ بلفظ، حرف بحرف، بحر بحر
کاتب
تم آؤ گے نمائش سامان دیکھ کر
کیوں کاروبار چھوڑ دوں نقصان دیکھ کر
ساقی
ہم آگئے صنم کو پریشان دیکھ کر
دل رو پڑا عروس کا نقصان دیکھ کر
کاتب
نخرے اٹھا رہی ہوں تمہاری تلاش کے
رکتی نہیں ہوں راستا ویران دیکھ کر
ساقی
تم بھی اٹھا کہ نخرے یوں میری تلاش کے
ہلکان خود کو کر نہ میری جان دیکھ کر
کاتب
سوچا نہیں تھا میں نے کبھی تیرے جیسا شخص
منہ پھیر لے گا مجھ کو پریشان دیکھ کر
ساقی
سوچا کیوں تو نے ایسا کہ منہ پھیر سکتے ہم
رکھنا تو ہم سے واسطہ ایمان دیکھ کر
کاتب
وہ تیرا لمس وہ تری باہوں کی خوشبوئیں
لوٹی ہوں جیسے کوئی گلستان دیکھ کر
ساقی
وہ تیری ساز کار نگاہوں کی مستیاں
مسحور ہو گیا ہوں نگہبان دیکھ کر
کاتب
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کے چل
دل رو پڑے گا تجھ کو پشیمان دیکھ کر
ساقی
تو اس طرح وفا کو نہ بدنام کر جیا
الزام بے رخی نہ دے اپمان دیکھ کر
کاتب
جو کھو گیا تھا پھر سے کسی موڑ پر ملا
حیران ہو گیا مجھے حیران دیکھ کر
ساقی
کھو کر ملے ہیں اہلِ وفا مجھ کو جابہ جا
حیران تھا میں اس کو پریشان دیکھ کر
کاتب
ظاہر نہ ہو کہ مجھ سے ترا واسطہ بھی ہے
سب کی نظر ہے تجھ پہ مری جان دیکھ کر
ساقی
پوشیدہ ہی رہے گا زمانے سے عشق ما
منہ پھیر لینا مت ہمیں انجان دیکھ کر
Comments
Post a Comment