حوصلے کی پرواز - طلبہ کے نام - ازقلم : رشیدہ یاسمین


حوصلے کی پرواز - 
طلبہ کے نام - 
ازقلم : رشیدہ یاسمین

تم عقاب ہو، اپنے پروں کو پہچانو،
تم شاہین ہو، اپنی نگاہوں کو آسمان تک لے جاؤ،
تمہارے خواب تمہاری پہچان ہیں،
تمہارے ارادے تمہاری طاقت ہیں،
اپنے حوصلوں کو پرواز دو،
اپنی منزلوں کو آواز دو۔

تمہارے خواب محض نیند کے مسافر نہیں،
یہ وہ چراغ ہیں جو مستقبل روشن کرتے ہیں،
یہ وہ امیدیں ہیں جو دلوں میں پلتی ہیں،
یہ وہ تمنائیں ہیں جو تاریخ بدلتی ہیں،
اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دو،
اپنی محنت سے زندگی کو نیا رنگ دو۔

اے میرے عزیز طلبہ!
تمہیں ابھی بہت آگے جانا ہے،
علم کی روشنی سے دنیا کو جگمگانا ہے،
ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرنا ہے،
ہر ناکامی سے نیا سبق سیکھنا ہے،
گر کر سنبھلنا، سنبھل کر چلنا،
اور اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنا ہے۔

راستوں میں کانٹے ہوں تو گھبرانا نہیں،
مشکلات کے آگے سر جھکانا نہیں،
اندھیری راتوں سے ڈر کر رک جانا نہیں،
مایوسی کے بادلوں کو دل پر چھانا نہیں،
یاد رکھو! ہر رات کے بعد سویرا ہے،
ہر مشکل کے بعد آسانی کا بسیرا ہے۔

محنت کو اپنا شعار بناؤ،
علم کو اپنی زندگی کا وقار بناؤ،
اخلاق کو اپنی پہچان بناؤ،
سچائی کو اپنا ایمان بناؤ،
والدین کی دعاؤں کو سرمایہ سمجھو،
اساتذہ کی نصیحتوں کو رہنما سمجھو۔

تم میں کوئی ڈاکٹر بن کر خدمت کرے گا،
کوئی استاد بن کر نسلوں کو سنوارے گا،
کوئی افسر بن کر انصاف کا پرچم لہرائے گا،
کوئی سائنس دان بن کر دنیا کو نئی راہ دکھائے گا،
کوئی اپنے قلم سے شعور جگائے گا،
کوئی اپنے کردار سے معاشرہ بدل جائے گا۔

مگر یاد رکھو، اے مستقبل کے معمارو!
صرف بڑے عہدوں کا خواب نہ دیکھنا،
انسانیت سے محبت کا عہد بھی کرنا،
اپنے علم کو خدمت کا ذریعہ بنانا،
اپنی کامیابی کو دوسروں کا سہارا بنانا،
ایسا کردار دنیا میں چھوڑ جانا،
جسے وقت بھی کبھی مٹا نہ پائے گا۔

اگر کبھی ناکامی تمہارے در پر آئے،
اگر کوئی تمہاری صلاحیتوں کو نہ پہچانے،
اگر حالات تمہیں کمزور کرنے لگیں،
اگر امیدوں کے چراغ بجھنے لگیں،
تو اپنے دل میں یقین کی شمع جلانا،
اپنے مقصد کو کبھی نہ بھول جانا۔

تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے،
تمہاری محنت تمہاری رہ گزر ہے،
تمہارے حوصلے تمہاری قوت ہیں،
تمہاری کوششیں تمہاری اصل دولت ہیں،
بس اپنے ارادوں کو مضبوط رکھنا،
اپنی نگاہوں کو منزل پر مرکوز رکھنا۔

اٹھو کہ تمہیں نئی تاریخ بنانی ہے،
علم و عمل سے دنیا کو دکھانی ہے،
اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہے،
اپنے کردار سے سب کا دل جیتنا ہے،
ایسا کام کرو کہ زمانہ مثال دے،
تمہاری کامیابی ہر دل میں امید کی شمع جلا دے۔

تم قوم کا مستقبل، تم وطن کی امید ہو،
تم آنے والے کل کی روشن نوید ہو،
تمہارے خوابوں میں نئی دنیا آباد ہے،
تمہارے حوصلوں میں کامیابی کی بنیاد ہے،
اپنے اندر کے شاہین کو بیدار رکھنا،
اپنی پرواز کو ہمیشہ بلند رکھنا۔

اڑو کہ آسمان ابھی باقی ہے،
چلو کہ ایک نیا جہان ابھی باقی ہے،
تمہارے عزم سے بدل سکتی ہے دنیا،
تمہاری محنت کا امتحان ابھی باقی ہے۔

یاد رکھو، میرے عزیز طلبہ!
تم صرف اپنے آج کا نام نہیں،
تم آنے والے کل کی پہچان ہو،
تم امیدوں کا روشن چراغ ہو،
تم خوابوں کی بلند پرواز ہو،
اپنی محنت سے ایسا مقام بناؤ،
کہ دنیا تم پر فخر کرے،
اور تمہارا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے۔

✍️ رشیدہ یاسمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔