سماجی میل ملاپ اور قرآنی تعلیمات - بقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا
سماجی میل ملاپ اور قرآنی تعلیمات ۔
بقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا
اللہ نے سماج میں رہنے اور لوگوں سے میل ملاپ کے طور طریقے پر جو کہا ہے، وہ بہت اہم ہے ۔اسلام بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کو منع کرتا ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ سورۃ النور آیت نمبر 27۔
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو،۔ پھر اگر تم ان (گھروں) میں کسی شخص کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جایا کرو یہاں تک کہ تمہیں (اس بات کی) اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو تم واپس پلٹ جایا کرو، یہ تمہارے حق میں بڑی پاکیزہ بات ہے، اور اللہ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے،۔
ان آیات کی روشنی میں کسی بھی گھر میں داخل ہونے کو منع کیا گیا ہے، اؤر اجازت لینے کو کہا گیا ہے، آجکل کے دور میں یہ بات بہت آسان ہو گئی ہے، موبائل اٹھایا اور نمبر ملایا، اور قبل از وقت ملاقات کی اجازت طلب کی، یہ صرف اسلئے کہ کہ کسی کے نجی زندگی میں آپ ڈسٹرب نہ کریں ۔ یہ تو اجازت قبل از وقت ہوگی، کبھی آپ دوستوں یا رشتے داروں کے گھر پہنچے اور گھنٹی بجائی، آپ کی آمد غیر متوقع ہے، گھر میں حالات کیا ہیں آپ نہیں جانتے، ہوسکتا ہے میاں بیوی ایسے حالات میں ہوں کہ وہ دروازا کھولنے کی حالت میں نہ ہوں، ہوسکتا ہے گھر میں سامان تیتربت ہوں، یا وہ اس وقت آپ کی خاطر مدارت نہیں کرسکتے ہیں، وجہ کچھ بھی ہو قرآن آپ کو کہتا ہے کہ آپ بلا تردد واپس چلیں جائیں ۔
قرآن میں 97% اخلاقیات کا درس ہے جب صرف 3% روزے نماز حج اور زکوٰۃ کا ذکر ہے ۔ ہمارے مسجدوں میں اس بات پر زور نہیں دیا جا تا ہے، جس میں غیر مسلم کو دعوت دی جائے کہ اسلام سماجی بھائی چارہ اور اخلاق سیکھاتا ہے ۔ مسجدوں کا صحیح استعمال صرف نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ، انسانوں کو انسان بنانا ہے، ہمیں چاہیئے کہ ہم مسجدوں کے دروازے کھول دیں بلا تفریق تاکہ انسانیت پنپ سکے ۔
پردے کے اوقات، یا وہ اوقات جس میں میاں بیوی خلوت میں ہوتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٥٨﴾ سورۃ النور ۔
اے ایمان والو! چاہئے کہ تمہارے زیردست (غلام اور باندیاں) اور تمہارے ہی وہ بچے جو (ابھی) جوان نہیں ہوئے (تمہارے پاس آنے کے لئے) تین مواقع پر تم سے اجازت لیا کریں: (ایک) نمازِ فجر سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لئے) کپڑے اتارتے ہو اور (تیسرے) نمازِ عشاء کے بعد (جب تم خواب گاہوں میں چلے جاتے ہو)، (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے کے ہیں، ان (اوقات) کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، (کیونکہ بقیہ اوقات میں وہ) تمہارے ہاں کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے۔
کھانے پینے کے آداب ۔
حرام و حلال دونوں کو قرآن واضح کرتا ہے ۔ خون، سور کا گوشت، مردار پہاڑی سے گرکر جو جانور مر جائے ۔ جس جانور کو شکاری جانوروں نے یا شکاری کتوں نے کچھ حصہ کھا لیا ۔ حلال جانوروں کا گوشت کھانے کے بارے میں یہ ضروری ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت الله کا نام لیا جائے، غیر الله کے نام پر کیا ہوا ذبیحہ حرام ہے ۔ یہ ذکر متعدد آیات میں آیا ہے ۔
جیسے سورۃ المائدہ آیت نمبر 90، سورۃ المائدہ آیت نمبر3، سورۃ ۔
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣﴾
تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا، اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،۔
اس آیت میں بہت تفصیل سے ہر بات بیان کی گئی ہے ۔ آخر میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ انسانی جان کی قیمت ان سب پابندی سے اہم ہے، اور اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ حرام کھانا جان بچانے کے لیے کھائی جاسکتی ہے، مگر صرف مجبوری میں نہ کے بغاوت سے یا عادتاً ۔
آپ کس کس کے گھروں میں کھانا کھا سکتے ہیں ۔ سورۃ النور آیت نمبر 61 میں تفصیل دی ہے ۔ جس میں تقریبا تمام رشتے داروں کا ذکر ہے اور دوستوں تک گھروں میں کیا سکتے ہو ۔ اکیلے یا سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہو ۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ دوستوں کے گھروں میں ان ساتھ یا ان کے گھر اکیلے یہ دوست مسلمان بھی ہوسکتے ہیں یا غیر مسلم بھی ۔
گویا کھانے پینے کے آداب پورے طور پر واضح کردیے گئے ہیں ۔
پروفیسر مختارفرید
بھیونڈی مہاراشٹرا
Comments
Post a Comment