چھوڑے ہوئے نشان - ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی ، مہاراشٹر
چھوڑے ہوئے نشان -
ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی ، مہاراشٹر
موبائل : 8668323359
شام کا وقت تھا۔ دالان میں ہلکی ہلکی روشنی سمٹتی جا رہی تھی۔ باورچی خانے سے جلتی ہوئی پیاز کی بو آ رہی تھی۔ اشرف دہلیز پر بیٹھا ہادی کا پھٹا ہوا نیلا بستہ ٹھیک کر رہا تھا، جس کی زِپ بار بار اٹک رہی تھی۔ اس نے دو تین بار زور لگایا، پھر اپنا ہاتھ روک لیا۔ دن بھر کی مزدوری کے بعد اس کی انگلیاں جواب دے رہی تھیں۔
گھر کے اندر شبانہ چولہے کے پاس بیٹھی کھانا بنا رہی تھی۔ ہادی ایک طرف بیٹھا پہاڑے یاد کر رہا تھا۔ کبھی اس کی آواز تیز ہو جاتی تو کبھی وہ اٹک کر پھر سے دوبارہ شروع کر دیتا۔
اسی وقت اشرف کا فون بجا۔ مکان مالک کا نام دیکھ کر وہ کچھ دیر اپنے موبائل کی اسکرین کو دیکھتا رہا، پھر کال اٹھا لی۔
’’اشرف بھائی، مہینے کے آخر تک مکان خالی کر دیجیے گا۔ اب ہمیں اپنے مکان کی ضرورت ہے۔‘‘
اشرف نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔ بس اتنا پوچھا، ’’بھائی صاحب، اچانک کیا ہو گیا؟ کیا کوئی شکایت ہے ہم سے؟ کرایہ تو میں نے آج تک کبھی جان بوجھ کر روکا بھی نہیں۔‘‘
’’نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ بس مجھے اب مکان خالی چاہیے۔‘‘
اور پھر فون بند ہو گیا۔ اشرف کچھ دیر اسی طرح بیٹھا رہا۔ اس کے سامنے ہادی کا بستہ تھا، جس کی زِپ ابھی ابھی اس نے ٹھیک کی تھی۔ اسے لگا جیسے اس نے بستے کی نہیں، کسی اور چیز کی مرمت کرنے کی کوشش کی ہو، مگر وہ چیز ہاتھ میں آ ہی نہیں رہی تھی۔
شبانہ نے چولہے پر رکھی دیگچی کا ڈھکن اٹھایا تو جلنے کی بو ذرا تیز ہو گئی۔ اس نے جلدی سے چمچ چلایا، پھر اشرف کی طرف دیکھا۔
’’کس کا فون تھا؟‘‘
’’مکان مالک کا۔ کہہ رہا ہے، مہینے کے آخر تک گھر خالی کر دو۔‘‘
شبانہ کے ہاتھ رک گئے۔ چند لمحے وہ چولہے کی آنچ کو دیکھتی رہی، پھر دھیمی آواز میں بولی، ’’اچانک ایسے کیسے گھر خالی کر دے؟ اب کہاں جائیں گے؟‘‘
اشرف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس نے نگاہیں جھکا لیں۔ گھر کا کرایہ وقت پر ادا کیا تھا۔ کسی سے جھگڑا نہیں تھا۔ پھر بھی یہ گھر اب ان کا نہیں رہا تھا۔
اسی دوران گلی کی طرف کھلنے والا ٹین کا دروازہ چرچرایا اور حرا اندر داخل ہوئی۔ سر پر دوپٹہ ڈالے ہوئے تھی اور ہاتھ میں مدرسے والی تھیلی تھی۔ اس نے گھر میں قدم رکھا تو والدین کے چہرے کو دیکھ کر رک گئی۔ ابو ہادی کے بستے کے پاس ہی بیٹھے تھے اور امی باورچی خانے کے دروازے پر کسی سوچ میں گم تھیں۔
حرا نے چپ چاپ مدرسے کا بستہ ایک طرف رکھا۔ اسے نہ کچھ پوچھنے کی ضرورت تھی، نہ کسی قسم کی وضاحت کی۔ یہ خاموشی وہ پہلے بھی کئی بار جھیل چکی تھی۔ بس ایک گہری سانس لے کر بولی:
’’امّی، کیا ہوا؟ کیا ہم پھر سے گھر بدلنے والے ہیں؟‘‘
شبانہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، ’’ہاں بیٹا، شاید۔‘‘
’’اچھا! مگر وہ بھی ہمارا اپنا گھر نہیں ہوگا نا؟‘‘
شبانہ نے جواب دینے کے بجائے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اشرف دروازے کے پاس کھڑا یہ سب دیکھ اور سن رہا تھا۔ اس کے پاس جواب موجود تھا، مگر بیٹی کے سوال کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہ تھا۔
رات کو ہادی بستہ سرہانے رکھ کر سو گیا۔ حرا نے دیوار پر لگے اپنے رنگین چارٹ کو دیکھا، جسے اس نے بڑی محنت سے بنایا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی، پھر چارٹ کو ہاتھ سے چھوتی رہی، گویا اسے یاد کر رہی ہو کہ یہ دیوار کب تک اس کی رہے گی۔
اگلے دن سے اشرف کی گھر ڈھونڈنے کی فکر شروع ہو گئی۔ وہ کام سے لوٹتے ہوئے شہر کی مختلف گلیوں میں اپنی جان پہچان والوں سے کرائے کے مکان کے بارے میں پوچھتا رہا۔ کہیں کرایہ زیادہ ہوتا تو کہیں پیشگی رقم اتنی مانگی جاتی کہ اس کی ساری جمع پونجی بھی کم پڑ جاتی۔ دوسری طرف شبانہ بھی حساب لگاتی رہتی کہ کتنے پیسے ہاتھ میں ہیں اور کتنے سامان کی منتقلی پر خرچ ہو جائیں گے۔
گھر میں سامان زیادہ تو نہیں تھا، مگر ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد ضرور جڑی ہوئی تھی۔ ایک پرانا صندوق، چند برتن، بچوں کی کتابیں، کپڑوں کی گٹھریاں-
ایک دن حرا نے دیوار پر لگے اپنے رنگین چارٹ کو اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اشرف نے اسے روک دیا۔
’’ذرا ٹھہرو، بیٹا۔ پہلے باقی سامان سمیٹ لیں۔‘‘
حرا نے چارٹ کی طرف دیکھا۔ ’’یہ بھی ساتھ لے جائیں گے نا، ابو؟‘‘
’’ہاں، ضرور۔‘‘
اشرف نے یہ جواب تو دے دیا، مگر اس کی نگاہ دروازے کی چوکھٹ پر جا ٹھہری، جہاں پنسل سے ہادی کے قد کے نشان بنے ہوئے تھے۔ ہر چند ماہ بعد وہ ہادی کو دیوار کے ساتھ کھڑا کرتا اور اس کے سر کے برابر ایک لکیر کھینچ دیتا۔ کبھی ہادی ہنستا، کبھی ایڑیاں اٹھا کر خود کو لمبا دکھانے کی کوشش کرتا۔ ان نشانوں میں وقت کی کئی چھوٹی چھوٹی یادیں محفوظ تھیں۔
اگلی صبح بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بعد شبانہ نے بھی ان نشانوں کو بغور دیکھا۔ وہ کچھ دیر یوں ہی خاموش کھڑی رہی۔ پھر ایک گیلا کپڑا لے کر چوکھٹ کے پاس بیٹھ گئی۔
اشرف نے پوچھا، ’’یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘
’’یہ نشان مٹا رہی ہوں۔ تم نے سنا تھا نا مکان مالک نے کیا کہا تھا کہ گھر ٹھیک حالت میں واپس کرنا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں ضمانت کی رقم میں سے وہ ہمارے پیسے نہ کاٹ لے۔‘‘
اشرف اس کے پاس آ کر خاموش کھڑا ہو گیا۔ اس کا جی چاہا کہ شبانہ کے ہاتھ سے کپڑا چھین لے، مگر وہ جانتا تھا کہ اس گھر میں رہنے کے لیے اب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بچی تھی۔ شبانہ نے ایک ایک کر کے سارے نشان صاف کر دیے۔ لکڑی پر جہاں پنسل کی لکیریں تھیں، وہاں اب گیلا، بے نشان حصہ باقی رہ گیا تھا۔
ہادی جب اسکول سے لوٹا تو چوکھٹ کے پاس آ کر رک گیا۔
’’ابو، میرے قد کے نشان کہاں گئے؟‘‘
اشرف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’اگلے گھر میں نئے نشان بنا لیں گے بیٹا۔‘‘
ہادی نے کچھ نہیں کہا۔ وہ اپنا بستہ اٹھا کر سیدھا اندر چلا گیا۔ اشرف کو معلوم تھا کہ نئے نشان بنائے جا سکتے ہیں، مگر جو مٹ گئے تھے، وہ اب کبھی واپس نہیں آ سکتے۔
مہینے کے آخری دن گھر میں سامان باندھا جا رہا تھا۔ شبانہ نے برتنوں کو کپڑوں میں لپیٹا، کتابیں ایک گٹھری میں رکھیں اور بچوں کے کپڑے صندوق میں جما دیے۔ اشرف دیواروں سے کیلیں نکال رہا تھا۔ ایک کیل زنگ آلود تھی اور دیوار میں اس قدر مضبوطی سے پھنسی ہوئی تھی کہ بار بار کوشش کے باوجود نہیں نکلی۔ اس نے اسے ایسے ہی چھوڑ دیا۔
سامان اٹھاتے ہوئے اس نے پرانا سیاہ ٹرنک کھولا۔ اس کے اندر کپڑوں اور کاغذوں کے نیچے ایک چھوٹی ہتھوڑی اور زنگ لگی موٹی کیل رکھی تھی۔ یہ کیل وہ کئی مکانوں سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ ہر بار گھر چھوڑتے ہوئے دیوار سے کیل نکالتا، خالی سوراخ پر انگلی پھیرتا اور اسے ٹرنک میں رکھ دیتا۔
اس نے کیل ہاتھ میں لی۔ اس کی نوک پر زنگ جم گیا تھا۔ اشرف نے اسے کپڑے سے صاف کرنے کی کوشش کی، مگر زنگ نہ اترا۔ اس نے کیل واپس رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ٹرنک کی تہہ میں پرانے اخباروں میں لپٹا لکڑی کا ایک فریم نظر آیا۔
یہ کپڑے پر ریشم کے دھاگوں سے کڑھی ہوئی آیت الکرسی کا فریم تھا جو اس کی ماں نے سالوں پہلے اپنے ہاتھوں سے خود بنایا تھا۔ فریم کے کنارے پر زرد اور سبز دھاگوں کی بیل اب خاصی میلی پڑ چکی تھی اور شیشے کے اندر کا کپڑا وقت کے ساتھ زرد ہو گیا تھا۔ مگر ماں کے کڑھے ہوئے ہر ایک حرف کی پختگی اب بھی ویسی ہی تھی۔ اسے دیکھ کر اشرف کو اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اس کی ماں بہت کم بولتی تھی، لیکن جب گھر میں کوئی پریشانی آتی تو سب سے پہلے اسی کے ہاتھ چلتے تھے۔ کبھی راشن کے ڈبے خالی ہوتے، کبھی بارش چھت سے اندر آتی، مگر وہ اسی فریم پر ہاتھ پھیر کر بچوں کے سر پر دم کر دیا کرتی تھی۔
’’ابو، یہ دادی والا فریم!‘‘
کہتے ہوئےحرا اس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے فریم اٹھایا۔ ایک زوردار پھونک ماری اور پھر اپنی فراک کی آستین سے شیشے پر جمی دھول کو صاف کرنے لگی۔
’’اس بار نئے گھر میں اسے کہاں لگائیں گے؟‘‘
اشرف نے فریم کی طرف دیکھا۔ پھر دیواروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں، ٹرنک اور گٹھڑیوں پر نظر دوڑائی۔
’’دیکھتے ہیں، بیٹا۔‘‘
حرا نے فریم اس کے ہاتھ میں واپس دے دیا۔
’’آپ ہر بار یہی کہتے ہیں۔‘‘
وہ اپنا بستہ اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
اشرف دیر تک فریم تھامے کھڑا رہا۔ اسے اپنی بیٹی کی بات بالکل بری نہیں لگی تھی۔ اسے دکھ اس بات کا تھا کہ اس کے پاس واقعی ہر بار یہی جواب ہوتا تھا۔
نیا مکان ایک تنگ گلی میں ملا تھا۔ کمرہ چھوٹا تھا اور اس کی دیواروں کا رنگ بھی کئی جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔ ایک اونچی کھڑکی تھی، جس سے روشنی کا ایک محدود سا حصہ اندر آتا تھا۔ سامان رکھنے کے بعد کمرے میں چلنے پھرنے کی جگہ بھی اب کم رہ گئی۔
شبانہ نے صندوق ایک کونے میں رکھا اور بچوں کے کپڑے نکالنے لگی۔ حرا نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ اس کی نگاہ دیواروں پر ٹھہر گئی۔
’’امّی، میرا چارٹ کہاں لگے گا؟‘‘
شبانہ نے دیوار کی طرف دیکھا۔ ’’ابھی اسے صندوق میں رکھ دو، بیٹا۔ بعد میں دیکھیں گے۔‘‘
کچھ دیر بعد مکان مالک آ گیا۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور جاتے جاتے اشرف کو سمجھا دیا کہ دیواروں میں کیلیں نہ ٹھونکی جائیں۔
’’دیواریں پہلے ہی خراب ہیں۔ کوئی سوراخ مت کرنا۔ جب مکان چھوڑو تو دیواریں ٹھیک حالت میں ہونی چاہئیں۔‘‘
اشرف نے سر ہلا دیا۔
مکان مالک کے جانے کے بعد اشرف نے ٹرنک کھولا اور ماں کا کڑھا ہوا فریم نکالا۔ اس نے دیوار پر ایک جگہ دیکھی جہاں سے روشنی کی ہلکی سی لکیر گزر رہی تھی۔ فریم کو ہاتھ میں لیے وہ کچھ دیر کھڑا رہا۔ پھر اس کی نظر پرانی زنگ آلود کیل پر پڑی جو پچھلے مکان سے نکالتے وقت اس نے اپنے سامان میں رکھ لی تھی۔
ابھی ہتھوڑی اپنی جگہ رکھی ہی تھی کہ باہر سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی آواز سنائی دی۔
دروازے پر دستک ہوئی۔
شبانہ نے اشرف کی طرف دیکھا۔
’’کون ہے؟‘‘
’’میں ہوں، مالک مکان۔ بجلی کا میٹر دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔ دروازہ کھولیے۔‘‘
اشرف نے ایک لمحے کے لیے فریم کی طرف دیکھا۔ پھر اس نے ہتھوڑی چلا دی۔
ٹھک!
دیوار سے تھوڑا سا چونا جھڑ کر فرش پر آ گرا۔ اس نے دوسری ضرب لگائی تو کیل دیوار میں دھنس گئی۔ اشرف نے فریم کا دھاگا اس پر ٹکا دیا اور ہاتھ ہٹا لیا۔
شبانہ نے دروازہ کھولا۔ مالک مکان اندر آیا تو اس کی نظر سیدھی فریم پر جا ٹھہری۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا، پھر اس کی توجہ فریم کو تھامے ہوئے اس کیل کی طرف گئی جو دیوار میں تازہ ٹھونکی گئی تھی۔ اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھر آئی۔
’’اشرف صاحب، میں نے صاف کہا تھا کہ دیوار میں کیل نہ ٹھونکیے گا۔ پہلے ہی یہ دیواریں خراب حالت میں ہیں۔‘‘
اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں تھے۔
اشرف خاموش کھڑا رہا۔
مالک مکان نے قدرے سخت لہجے میں کہا:
’’دیکھیے، مجھے بعد میں دیواروں کی مرمت پر خرچ نہیں کرنا۔ اگر نکلتے وقت سوراخ صحیح طرح بند نہ ہوا تو ضمانت کی رقم میں سے مرمت کے پیسے کاٹنے پڑیں گے۔‘‘
اشرف نے فریم کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:
’’جی، میں سمجھ گیا۔ گھر چھوڑتے وقت آپ کے مکان کی یہ دیوار بالکل ٹھیک کر دوں گا۔‘‘
مالک مکان نے ایک لمحہ فریم کو دیکھا، جیسے وہ کچھ اور کہنا چاہتا ہو، مگر پھر خاموشی سے میٹر کی طرف بڑھ گیا۔
’’جی،‘‘ اشرف نے کہا۔
مالک مکان میٹر دیکھ کر چلا گیا۔ دروازہ بند ہوا تو شبانہ نے اشرف کی طرف دیکھا۔ اس نے فریم کو سیدھا کیا۔ فریم ذرا سا ٹیڑھا تھا۔ وہ اسے درست کر کے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ کمرے کی خالی دیوار پر ماں کے ہاتھوں کی کڑھائی نے ایک مانوس سا احساس پیدا کر دیا تھا۔
مکان مالک چلا گیا۔ کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ باہر گلی سے کسی پڑوسن کے گھر سے برتن کھسکنے کی آواز آئی، ساتھ ہی کسی بچے کے رونے کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دی۔
شبانہ نے فریم کے نیچے فرش پر گرے چونے کو جھاڑو سے سمیٹا، پھر ایک لمحے کے لیے رک کر دیوار کی طرف دیکھا۔
’’اب دیکھنا، جب یہ گھر بھی چھوڑیں گے تو اس کیل کو بھی نکالنی پڑے گی،‘‘ اس نے کہا۔
اشرف نے فریم سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ ’’ہاں، نکال دوں گا۔‘‘
اگلی صبح حرا جلدی جاگ گئی۔ کھڑکی سے آنے والی روشنی فرش پر پھیل رہی تھی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر اشرف کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
’’ابو، کیا آپ میرا قد ناپ دیں گے؟‘‘
اشرف نے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیوں، بیٹا؟‘‘
’’بس ایسے ہی۔مجھے دیکھنا ہے کہ میں اب کتنی بڑی ہو گئی ہوں۔‘‘
اشرف کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے صندوق سے ایک پرانی پنسل نکالی اور اخبار کا ایک ٹکڑا تلاش کیا۔ حرا کو دیوار کے ساتھ کھڑا کرنے کے بجائے اس نے اسے سیدھا کھڑا رہنے کو کہا، پھر اس کے سر کے برابر اخبار پر نشان لگا دیا۔ نشان کے نیچے اس نے تاریخ بھی لکھ دی۔
حرا نے اخبار کا ٹکڑا ہاتھ میں لیا اور غور سے اپنے قد کا نشان دیکھنے لگی۔ پھر وہ آیت الکرسی کے فریم کے پاس گئی اور اخبار کو اس کے نیچے رکھ کر سیدھا کر دیا۔
’’اب یہ گم نہیں ہوگا، ابو۔‘‘
اشرف خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ شبانہ صندوق میں کپڑے ترتیب دے رہی تھی۔ کمرہ اب بھی چھوٹا تھا اور دیواروں کا رنگ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔ کھڑکی سے آتی دھوپ آہستہ آہستہ فرش پر پھیل رہی تھی۔ حرا نے اپنے قد کے نشان پر انگلی پھیری، پھر بستہ اٹھا کر باہر چلی گئی۔ اشرف کی نظر کچھ دیر اخبار کے اس ٹکڑے پر یوں ہی ٹھہری رہی۔
٭٭٭
Comments
Post a Comment