ایک شعر کی تشریح - فقیر صابر عالمؔ، ورنگل
ایک شعر کی تشریح -
فقیر صابر عالمؔ، ورنگل
رابطہ نمبر 9849023120
مولانا آپ اتنا کام کریں
ساری دعائیں میرے نام کریں
(میرؔ بیدری)
اگر شاعر دکن، حضرت میرؔ بیدری صاحب کے اس شعر کو صرف ادبی شعر کے بجائے دعاء، نسبت، روحانیت اور مختلف مذہبی روایتوں میں انسان اور مقدس ہستی کے تعلق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے معنی کافی وسیع ہو جاتے ہیں۔
عمومی روحانی مفہوم:
شعر کا مرکزی تصور یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوری، احتیاج اور امید کے ساتھ کسی صاحبِ نسبت شخص سے دعا کی درخواست کرتا ہے۔ تقریباً تمام بڑی مذہبی روایتوں میں کسی نہ کسی صورت میں دعا، برکت، یادِ الٰہی، توبہ، خیرخواہی اور روحانی رہنمائی کا تصور ملتا ہے۔ البتہ ان کے عقائد اور دعا کے مخاطب مختلف ہیں۔
قرآن کی روشنی میں:
قرآن میں ایک طرف اللہ تعالیٰ براہِ راست دعا کی دعوت دیتے ہیں:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
"تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" (غافر 40:60)
اور دوسری طرف نیک لوگوں سے دعا کی درخواست کا تصور بھی موجود ہے۔ حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں نے کہا:
"يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا"
"اے ہمارے ابا! ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کیجیے۔"
(یوسف 12:97)
حضرت یعقوبؑ نے جواب دیا:
"سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي"
"میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا۔* (یوسف 12:98)
لہٰذا شعر میں کسی بزرگ یا صاحبِ نسبت شخص سے دعا کی درخواست کو، اپنی اصل میں، اسلامی روایت سے اجنبی نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ قرآن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دعا کا حقیقی مخاطب اور قبولیت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
احادیث میں:
صحابۂ کرامؓ کا نبی ﷺ سے دعا کی درخواست کرنا معروف ہے۔ اسی طرح نیک لوگوں سے دعا کروانے کا تصور بھی اسلامی روایت میں موجود ہے۔
لیکن حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جسے میں ہدایت دوں..."
یعنی اصل تصرف اور حقیقی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔
اسی لیے شعر کو اسلامی مفہوم میں پڑھیں تو "ساری دعائیں میرے نام کریں" ایک محبت بھری شعری مبالغہ آرائی ہے؛ عقیدے کی زبان میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ دعاؤں کا اختیار مولانا کے پاس ہے، بلکہ وہ اللہ سے شاعر کے لیے دعا کریں گے۔
ویدانت کے تناظر میں:
ویدانت میں معاملہ کچھ مختلف اور بہت گہرا ہے۔ خاص طور پر بھگود گیتا میں انسان کی نجات، بھگتی، خودسپردگی اور اعلیٰ حقیقت سے تعلق پر زور ملتا ہے۔
گیتا میں:
"مَن مَنَا بھَو، مَد بھکتو..."
"اپنا من مجھ میں لگا، میرا بھکت بن..."
(گیتا 18:65)
اور:
"سرو دھرمان پریتیَجّیہ، مام ایکم شرنم وراج"
"سب [ظاہری] دھرموں کو چھوڑ کر صرف میری پناہ میں آؤ۔" (18:66)
یاں بنیادی تصور شرن/پناہ، بھگتی اور خودسپردگی ہے۔
ہندو روایتوں میں گرو کا تصور بھی نہایت اہم ہے۔ گرو محض ایک استاد نہیں بلکہ روحانی رہنمائی کا وسیلہ ہو سکتا ہے۔ اس زاویے سے شعر میں "مولانا" کو ایک ایسے روحانی رہنما کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس سے شاعر دعاؤں اور خیرخواہی کی توقع کرتا ہے۔
البتہ یہاں بھی مختلف ویدانتی مکاتب میں خدا، برہمن، آتما، ایشور اور گرو کے باہمی تعلق کی تشریحات ایک جیسی نہیں ہیں؛ اس لیے پورے "ویدانت" کو ایک ہی عقیدے میں سمیٹنا درست نہیں۔
عیسائیت میں:
عیسائی روایت میں بھی دوسروں کے لیے دعا (intercessory prayer) ایک اہم تصور ہے۔
نئے عہدنامے میں:
“Pray for one another.”
“ایک دوسرے کے لیے دعا کرو۔”
(James 5:16)
اس اعتبار سے شعر کا بنیادی جذبہ،
"آپ میرے لیے دعا کریں"، عیسائی روحانی روایت میں بھی قابلِ فہم ہے۔
البتہ مختلف عیسائی فرقوں میں مقدسین، پادری، مریم اور شفاعتی دعا کے بارے میں عقائد مختلف ہیں۔
یہودیت میں:
یہودی روایت میں بھی دعا اور شفاعت کا تصور نمایاں ہے۔ حضرت ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور دیگر انبیاء کی طرف سے اپنی قوم کے لیے دعا اور سفارش کے واقعات بائبل میں موجود ہیں۔
یعنی یہاں بھی ایک روحانی انسان کا دوسرے کے لیے خدا کے حضور دعا کرنا ایک مانوس تصور ہے۔
بدھ مت میں:
بدھ مت میں "دعا" کا تصور ابراہیمی مذاہب سے مختلف ہے، کیونکہ بدھ مت کی بہت سی روایتوں میں خالق خدا کا تصور مرکزی نہیں۔
لیکن Metta یعنی محبتِ عام / خیرخواہانہ ارادہ اور تمام جانداروں کے لیے بھلائی کی خواہش نہایت اہم ہے۔
مثلاً بنیادی جذبہ: "تمام مخلوقات خوش رہیں، سلامت رہیں، دکھ سے آزاد ہوں۔"
اس لیے شعر کی روح، دوسرے کے لیے خیر اور روحانی بھلائی چاہنا، بدھ مت میں بھی ایک متوازی اخلاقی صورت رکھتی ہے، اگرچہ اسے اسلامی معنی میں "دعا" کہنا درست نہیں ہوگا۔
اصل خوبصورتی کہاں ہے؟
حضرت میرؔ بیدری صاحب کے شعر کو اگر مذہبی تقابل کے بجائے انسانی روح کی مشترکہ طلب سمجھ کر پڑھیں تو ایک بہت خوبصورت بات سامنے آتی ہے:
انسان ہر مذہب میں کسی نہ کسی صورت میں اپنی محدودیت کو محسوس کرتا ہے اور کسی بلند تر حقیقت، مقدس ہستی، نیک انسان یا روحانی راستے سے خیر طلب کرتا ہے۔
شعر کا “مولانا” اسی روحانی نسبت کی علامت بن جاتا ہے۔
لیکن مذاہب کے درمیان ایک بنیادی فرق برقرار رہتا ہے:
اسلام: دعا کا حقیقی مستحق اور مالک اللہ ہے؛ بندہ دوسرے کے لیے اللہ سے دعا کر سکتا ہے۔
عیسائیت: خدا سے دعا اور دوسروں کے لیے (Intercession) اہم ہے۔
یہودیت: خدا کے حضور دعا اور شفاعت کی روایت موجود ہے۔
ویدانت کی مختلف روایتیں: بھگتی، ایشور، گرو، شرن اور اعلیٰ حقیقت سے اتحاد/نسبت کے مختلف تصورات۔
بدھ مت: دعا کے بجائے خیرخواہی، میتّا، کرم اور روحانی تزکیہ کی مختلف صورتیں۔
اس لیے شعر کا جامع مفہوم :
"مولانا! آپ میرے لیے دعا کرتے رہیے؛ آپ کی روحانی نسبت اور خیرخواہی میرے لیے سرمایہ ہے۔"
اور "ساری دعائیں میرے نام کریں" کو لفظی عقیدے کے بجائے محبت کا مبالغہ سمجھنا زیادہ خوبصورت بھی ہے اور زیادہ درست بھی۔شاعر دراصل شاید یہ نہیں کہہ رہا کہ دنیا کی ہر دعا مجھے دے دیں؛ وہ ایک انتہائی انسانی خواہش بیان کر رہا ہے: "آپ جب بھی اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائیں، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔"یہی مفہوم قرآن کے اس نہایت خوبصورت مزاج سے بھی ہم آہنگ ہو جاتا ہے: "رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ"
"اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر گئے۔"
(الحشر 59:10)
یعنی روحانی زندگی کا ایک حسین پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنی دعا میں صرف اپنے آپ کو نہیں بلکہ دوسروں کو بھی شامل کرے۔
Comments
Post a Comment