محرومی ہمیشہ محرومی نہیں ہوتی: کبھی یہی اللہ کی سب سے بڑی عطا بن جاتی ہے - ازقلم : ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی، اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج اورنگ آباد


محرومی ہمیشہ محرومی نہیں ہوتی: کبھی یہی اللہ کی سب سے بڑی عطا بن جاتی ہے - 
راقم الحروف: ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی، 
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج اورنگ آباد 
موبائل نمبر:9325217306

دنیا کی زندگی میں انسان کی خواہشات کا کوئی اختتام نہیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے، ایک منزل ملتی ہے تو نگاہ اگلی منزل پر جا ٹھہرتی ہے۔ انسان عموماً کامیابی کو حصول کے پیمانے سے اور ناکامی کو محرومی کے عنوان سے دیکھتا ہے؛ لیکن ایمان کی بصیرت ہمیں اس سے کہیں گہری حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ بعض اوقات جس چیز کا نہ ملنا ہمیں غم زدہ کر دیتا ہے، وہی ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی حفاظت اور آخرت میں بلندی کا ذریعہ بن رہی ہوتی ہے۔

ابن القیمؒ سے منسوب یہ حکیمانہ قول اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے:

«إِنَّ اللهَ يَمْنَعُ عَبْدَهُ بَعْضًا مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا؛ لِيَنَالَ مَنْزِلَةً عَالِيَةً عِنْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

یعنی: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دنیا کی بعض چیزوں سے اس لیے محروم کر دیتا ہے تاکہ قیامت کے دن اسے اپنے یہاں بلند مقام عطا فرمائے۔‘‘ یہ مفہوم ابن القیمؒ کی تحریروں میں بیان کردہ اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا کی بعض چیزوں سے روکتا ہے تاکہ اس کے لیے آخرت میں بلند مرتبہ مقدر ہو۔ 

ہماری نظر محدود، اللہ کی حکمت بے حد ہے

انسان صرف حال دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ انجام دیکھتا ہے۔ انسان کسی چیز کے ملنے کو فائدہ اور نہ ملنے کو نقصان سمجھ لیتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا علم محدود اور اللہ تعالیٰ کا علم کامل ہے۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:

﴿وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ، وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی چیز کے لیے بے قرار ہوتا ہے، اس کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے، مگر جب وہ چیز نہیں ملتی تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ وقت گزرتا ہے اور پردہ اٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے ہم محرومی سمجھ رہے تھے، وہ دراصل حفاظت تھی؛ جسے ہم رکاوٹ سمجھ رہے تھے، وہ کسی بڑے نقصان سے بچاؤ تھا؛ اور جس دروازے کے بند ہونے پر ہم رو رہے تھے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس دروازے سے کہیں بہتر راستے کی طرف لے جا رہا تھا۔
شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی 

ہر محرومی سزا نہیں، بعض محرومیاں تربیت ہوتی ہیں

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر تکلیف یا ہر محرومی کو فوراً ’’اللہ کی خاص عنایت‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ انسان کو اپنے اعمال، فیصلوں اور کوتاہیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن جب ایک مومن اپنی پوری کوشش کے باوجود کسی جائز خواہش سے محروم ہو جائے تو اس کے لیے سب سے خوبصورت راستہ صبر، دعا، توکل اور اللہ کی حکمت پر اعتماد کا ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا کی بعض چیزوں سے اس طرح بچاتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے مریض کو نقصان دہ کھانے پینے کی چیزوں سے بچاتا ہے۔ اس روایت کا مفہوم یہی ہے کہ بظاہر روک دینا بھی کبھی محبت اور حفاظت کا ایک انداز ہو سکتا ہے۔ 

صبر کا اصل مقام یہی ہے

صبر صرف یہ نہیں کہ انسان خاموشی سے مصیبت برداشت کر لے؛ بلکہ حقیقی صبر یہ ہے کہ دل میں شکوے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی حکمت پر یقین باقی رہے۔ زبان پر شکایت کے بجائے دعا ہو، اور حالات کے سامنے ٹوٹنے کے بجائے انسان اپنے رب سے مزید مضبوطی کے ساتھ جڑ جائے۔

بسا اوقات اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مال سے محروم کرتے ہیں تو اسے قناعت کی دولت عطا کر دیتے ہیں، کسی کو شہرت نہیں ملتی تو اسے اخلاص نصیب ہو جاتا ہے، کسی کا منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر تجربہ اور بصیرت پیدا ہوتی ہے، کسی تعلق کا خاتمہ اسے تنہائی نہیں بلکہ اللہ کی طرف رجوع کا راستہ دکھاتا ہے، اور کبھی دنیا کی ایک چھوٹی سی محرومی آخرت کی بہت بڑی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔

اسی لیے اہلِ بصیرت صرف یہ نہیں پوچھتے کہ ’’مجھے کیا نہیں ملا؟‘‘ بلکہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے کیا سکھایا؟‘‘

مومن کی نگاہ دنیا سے آگے ہوتی ہے

دنیا کی ہر نعمت عارضی ہے اور ہر محرومی بھی عارضی۔ اصل کامیابی اس دن سامنے آئے گی جب انسان اپنے رب کے حضور کھڑا ہوگا۔ اس دن دنیا کی وہ چیزیں جن کے لیے انسان نے برسوں جدوجہد کی، اپنی حقیقی حیثیت ظاہر کر دیں گی، اور وہ صبر، تقویٰ، اخلاص اور نیک اعمال جنہیں دنیا شاید معمولی سمجھتی رہی، انسان کے لیے سرمایۂ نجات بن سکتے ہیں۔

اس لیے زندگی میں جب کوئی جائز خواہش پوری نہ ہو، کوئی راستہ بند ہو جائے، کوئی موقع ہاتھ سے نکل جائے یا کوئی محبوب چیز چھن جائے تو فوراً یہ فیصلہ نہ کر لیا جائے کہ زندگی نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہماری نگاہوں سے اوجھل کسی بڑے نقصان سے ہمیں بچا رہے ہوں، ممکن ہے کسی بہتر وقت کے لیے ہمیں تیار کر رہے ہوں، اور ممکن ہے وہ ہمیں ایسی منزل عطا کرنا چاہتے ہوں جو ہماری موجودہ خواہش سے کہیں بلند ہو۔

کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کا ’’نہیں‘‘ کہنا، ہماری زندگی کا سب سے بابرکت ’’ہاں‘‘ ہوتا ہے۔

لہٰذا محرومی کے لمحوں میں دل کو ٹوٹنے کے بجائے اپنے رب سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ دعا کرتے رہیں، جائز اسباب اختیار کرتے رہیں، اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیتے رہیں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ کیونکہ جس رب کی حکمت ہماری سمجھ سے بلند ہے، اس کی رحمت بھی ہماری توقعات سے کہیں وسیع ہے۔

جو شخص اللہ کی تقدیر پر اعتماد کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ ہر محرومی میں ایک پیغام، ہر تاخیر میں ایک حکمت، ہر آزمائش میں ایک تربیت اور ہر بند دروازے کے پیچھے اپنے رب کی کسی نہ کسی مصلحت کو تلاش کرنے لگتا ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دنیا کی طلب سے نکل کر اللہ کی رضا کی طلب تک پہنچ جاتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔