غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک


غزل - 
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
 
اپنی اِچھّا بھول رہاہوں میں 
تم سے ملنا بھول رہاہوں میں 

ریل کے کون سے ڈبے میں تھا دوست 
اپنا ڈبہ بھول رہا ہوں میں 

کس کی یادوں میں جیتے مرتے
کھانا پینا بھول رہا ہوں میں 

اُن کو تکلف ہے آنے میں اور 
خود کا جانا بھول رہاہوں میں 

آنے والے عیادت کو ہوں گے آج
 اِفاقہ بھول رہا ہوں میں 

دیکھتا ہوں درپن آشاؤں کے
ایک نراشا بھول رہا ہوں میں 

میں بھی ادیبوں کے بیٹھا ہوں ساتھ 
اپنی چرچا بھول رہا ہوں میں 

 بھولے گا نہ تُو، سانس کے ختم تلک
تیرا سجدا بھول رہا ہوں میں 

عمر کی میرؔ اُترتی سیڑھی پر 
دینا دھوکا بھول رہا ہوں میں

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔