قلم کو تلوے چاٹنے کی عادت پڑ جائے تو صحافت مر جاتی ہے..! - سیاست دان، تاجر اور تعلیمی مافیا کے سامنے جھکتا صحافتی وقار..!وہ صحافت ہی کیا جس میں بے باکی نہ ہو؟ - قلم فروشوں نے صحافت کا وقار بیچ دیا! - عمران عبدالعلیم باحشوان


قلم کو تلوے چاٹنے کی عادت پڑ جائے تو صحافت مر جاتی ہے..! - 
سیاست دان، تاجر اور تعلیمی مافیا کے سامنے جھکتا صحافتی وقار..!
وہ صحافت ہی کیا جس میں بے باکی نہ ہو؟ - 
قلم فروشوں نے صحافت کا وقار بیچ دیا! - 
 عمران عبدالعلیم باحشوان 
روزنامہ آج کی آواز اورنگ آباد.
Cell No. +91 9730000675

ایک وقت تھا جب کسی بھی صحافی کے قلم کی طاقت سے بڑے بڑے لوگ ڈرتے تھے کوئی غلط راہ پر چلتا کوئی سیاست دان اپنی حدود سے تجاوز کرتا یا کسی سرکاری محکمے کا افسر اپنی ذمہ داری سے غفلت برتتا اور کسی اخبار کے صحافی کی نظر اس حرکت پر پڑ جاتی تو وہ حقیقت کو عوام کے سامنے رکھنے سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا نتیجہ یہ ہوتا کہ متعلقہ شخص کو اپنی حدود اور ذمہ داری کا احساس ہو جاتا تھا.
لیکن آج کا منظر کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ صحافت سیاست کی لونڈی بنتی جا رہی ہے بلکہ بعض صورتوں میں بن چکی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ خود صحافت سے وابستہ وہ نام نہاد صحافی ہیں جو اپنے قلم کی طاقت اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھول کر 24 گھنٹے کبھی کسی تاجر کی خوشامد میں مصروف نظر آتے ہیں اور کبھی کسی سیاست دان کی چاپلوسی میں..
یہ لوگ اس قدر مصلحتوں کے شکار ہو چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی خودداری اور پیشہ ورانہ وقار تک داؤ پر لگا دیا ہے۔ تعلیمی مافیا سے لے کر ایک معمولی سیاسی کارکن تک، بعض بااثر لوگ آج صحافی کو ایک کھلونا سمجھنے لگے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بعض صحافی چند مفادات کے سامنے اپنی آواز کمزور کر دیتے ہیں۔

*اصل مسئلہ آخر ہے کہاں؟*
اصل مسئلہ کہیں نہ کہیں ہم خود ہے چند سکوں کے عوض اپنی آواز اور قلم کی قیمت لگانے والے نام نہاد رپورٹرز اور بعض اخبارات کے ذمہ داران نے اپنی حیثیت خود کمزور کی ہے. جب صحافت کا مقصد حق اور سچ کے بجائے صرف پیسہ، اشتہار، تعلقات اور ذاتی مفاد بن جائے تو نقصان صرف ایک صحافی کا نہیں ہوتا، بلکہ پورے صحافتی طبقے کی عزت متاثر ہوتی ہے. آج بعض اخبارات کا استعمال صرف اشتہارات کے لیے ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں پورا اخبار کسی سیاسی شخصیت کی تعریف و توصیف میں بھرا ہوتا ہے تو کہیں چند مفادات کے لیے کسی تعلیمی ادارے یا بااثر کاروباری حلقے کے سامنے صحافت کا وقار پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے میں خود ایک اخبار کا مدیرِ اعلیٰ ہوں اس لیے جانتا ہوں کہ آج کے دور میں اخبار نکالنا کتنا مشکل کام ہے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، کئی اخبارات بند ہو چکے ہیں اور کئی بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات چاپلوسی، تعلقات اور مفاد پرستی کو ہی اخبار کے زندہ رہنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے.

*سب سے زیادہ نقصان اردو صحافت کا ہوا*
اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ نقصان اردو اخبارات کو پہنچا ہے اردو اخبار صرف ایک کاروباری ادارہ نہیں ہوتا بلکہ اردو زبان کے فروغ، بقا اور معاشرے میں اس کے مقام کو برقرار رکھنے کا بھی ذریعہ ہے
افسوس کہ بعض اوقات اردو کو جاننے اور سمجھنے والے ہی اردو صحافت کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہے 
کچھ اردو اخبارات کے لیے کسی بڑے سیاسی رہنما سے تعلق کسی کاروباری شخصیت سے قربت یا تعلیمی شعبے میں مضبوط روابط ہی کامیابی کا پیمانہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف بعض بااثر افراد اردو اخبارات کے مقابلے میں ہندی اور مراٹھی اخبارات کو زیادہ ترجیح دیتے ہے. یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اردو کے فروغ میں بڑے سیاسی رہنماؤں یا بڑے تاجروں کی وہ دلچسپی نظر نہیں آتی جس کی اردو صحافت کو ضرورت ہے۔ البتہ بعض اخبارات اپنے تعلقات اور خوشامد کے ذریعے اپنا کام نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

*عزت صرف پیسے سے نہیں ملتی*
غلطی ہماری بھی ہے کیونکہ ہم نے اپنی عزت خود کم کی ہے... جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیاکےجب صحافت سے وابستہ لوگ پیسے کو ہی کامیابی کا واحد معیار سمجھ لیں تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ صحافت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں. صحافت میں عزت، اعتماد، سکون، خودداری اور معاشرے میں مقام بھی شامل ہے۔
چند سکوں کے لیے اگر ہم یہ سب کچھ کھو دیں تو پھر ہمارے پاس بچتا ہی کیا ہے؟

*سینئرز کا مشورہ یا خوف کی سیاست؟*
ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج بعض سینئر لوگ ہمیں مشورہ دیتے ہے کہ...
*’’میاں...! آپ کسی کے خلاف لکھتے ہیں تو کیا ہونے والا ہے؟ لوگ جاگرت نہیں ہوتے، کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ ہم بھی لکھ کر بیٹھ چکے ہیں، سب بکواس ہے۔‘‘*

اور تو اور کبھی یہ کہہ کر ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ....
*’’اگر حکومت یا کسی بڑے محکمے کے خلاف زیادہ لکھو گے تو آئی بی یا ای ڈی آپ کے پیچھے پڑ جائے گی۔‘‘*
یہ سوچ ہمارے صحافتی ماحول کی ایک تلخ تصویر پیش کرتی ہے جن سینئر شخصیات کو ہم احترام دیتے ہیں ان سے ہمیں حوصلہ اور رہنمائی ملنی چاہیے ہمیں یہ سکھایا جانا چاہیے کہ حقائق کے ساتھ کیسے کھڑا ہونا ہے، نہ کہ کسی حکومت، سیاسی شخصیت یا طاقتور ادارے کا نام لے کر خوفزدہ کیا جائے.
میں کوئی بڑا صحافی نہیں.. بس غلط کو غلط کہتا ہوں...
میں نہ کوئی بڑا رائٹر ہوں اور نہ ہی خود کو بہت بڑا صحافی سمجھتا ہوں.. میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جو غلط دیکھتا ہوں اسے غلط کہنے اور لکھنے کی کوشش کرتا ہوں.
شاید یہی بات کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگتی کہ ایک اردو اخبار کا مدیر اعلیٰ آخر حق بیانی کیوں کر رہا ہے...؟ میری اس تحریر کا مقصد بھی یہی سوال اٹھانا ہے کہ جب ایک اردو اخبار کا مدیر اعلیٰ عوام کے سامنے کوئی حقیقت رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو کچھ لوگوں کو خوف کیوں محسوس ہونے لگتا ہے...؟ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بعض سینئر شخصیات کے ماضی میں ایسے فیصلے یا معاملات رہے ہو سکتے ہیں جن پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جب ہم جیسے کچھ سرپھرے لوگ قلم اٹھاتے ہیں تو شاید انہیں یہ خوف رہتا ہو کہ کہیں کوئی ان کے ماضی کے صفحات نہ کھول دے.

*لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ*....
ماضی کبھی کسی کا پیچھا نہیں چھوڑتا...
یہاں میں نے صرف ایک مثال کے طور پر ’’سینئر شخصیت‘‘ کا ذکر کیا ہے. یہ شخص کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق والا ہو سکتا ہے یا کسی ایسے محکمے، ادارے یا نظام سے وابستہ ہو سکتا ہے جس کے کسی معاملے پر سوالات اٹھتے رہے ہوں..

*شخصیت پرستی سے دور رہنا ضروری ہے
مانا کہ اخبار کے مدیرِ اعلیٰ کا مقام بڑا ہوتا ہے اور وہ حاضرِ وقت کے ہر قدآور انسان سے سوال پوچھنے کی طاقت رکھتا ہے اس کے باوجود میں ایک چھوٹا سا انسان ہوں لیکن سب سے پہلے شخصیت پرستی سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں.. کسی پروگرام کے اسٹیج کی زینت بننے کی دوڑ سے دور رہتا ہوں،جھوٹی شہرت سے دور رہتا ہوں۔ اور جو غلط ہے اسے غلط کہنے اور لکھنے کی کوشش کرتا ہوں... اسی حق بیانی کی وجہ سے مجھے کئی ہتکِ عزت (Defamation) کے مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ میرے لیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں، کیونکہ اس سے کم از کم یہ احساس ہوتا ہے کہ ابھی قلم کی آواز مکمل طور پر خاموش نہیں ہوئی.
صحافت میں خودداری پہلے... پیسہ بعد میں..

آخر میں ہر اس صحافی اور رپورٹر سے کہنا چاہتا ہوں جو ضرورت سے زیادہ خوشامد اور چاپلوسی میں مصروف ہے..
سب سے پہلے اپنی Self-Respect بچائیے، پھر پیسہ کمانے کے بارے میں سوچیے۔
کیونکہ آپ کی چاپلوسی صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکی اس سے پورے صحافتی طبقے اور تمام اخبارات کا وقار متاثر ہوتا ہے اور ان تمام سینئر شخصیات سے بھی میری گزارش ہے کہ ہمیں اچھے مشورے دیں، حوصلہ دیں، حق کے لیے کھڑے ہونے کا طریقہ سکھائیں.. کسی حکومت، کسی سیاسی رہنما، کسی طاقتور ادارے یا کسی بڑے شخص کا حوالہ دے کر ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ کریں. کیونکہ اگر سینئر ہی نوجوان قلم کاروں کو خوف سکھائیں گے تو پھر آنے والی نسل حق کیسے لکھے گی؟
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ....
وہ صحافت ہی کیا جس میں بے باکی نہ ہو...؟ 
جس صحافت میں حق کہنے کا حوصلہ نہ ہو.. جس قلم میں سچ لکھنے کی جرأت نہ ہو اور جس صحافی کو طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے سے خوف آئے....ایسی صحافت پر ہزار بار افسوس.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔