ابھی میں جوان ہوں! - بڑھاپا زندگی کا اختتام نہیں، تجربات، حوصلوں اور نئی امنگوں کا آغاز ہے - تحریر : سید فاروق احمد قادری، بیڑ
ابھی میں جوان ہوں! -
بڑھاپا زندگی کا اختتام نہیں، تجربات، حوصلوں اور نئی امنگوں کا آغاز ہے -
تحریر : سید فاروق احمد قادری، بیڑ
انسان کی زندگی بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے عمر کے مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بڑھاپا واقعی انسان کو کمزور اور بے بس بنا دیتا ہے؟ کیا سفید بال، چہرے کی جھریاں اور لڑکھڑاتے قدم اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان زندگی سے ہار چکا ہے؟ ہرگز نہیں!
بڑھاپا عمر کا تقاضا ہے، شکست کا اعلان نہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے بزرگ ایسے ہیں جو ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچتے ہی اپنے آپ کو بوڑھا سمجھنے لگتے ہیں۔ گھر سے باہر نکلنا کم کر دیتے ہیں، دوستوں سے ملاقاتیں چھوڑ دیتے ہیں، لکھنے پڑھنے سے دور ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ تنہائی کو اپنا مقدر سمجھ لیتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان جب تک سوچ سکتا ہے، بول سکتا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے اور زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے، تب تک اس کی زندگی میں تازگی باقی رہتی ہے۔
میں خود عمر کی اسی منزل سے گزر رہا ہوں جہاں انسان کے بال سفید ہو جاتے ہیں، جسمانی طاقت پہلے جیسی نہیں رہتی، مگر دل میں کچھ کرنے کا جذبہ آج بھی موجود ہے۔ میں آج بھی بولتا ہوں، لکھتا ہوں، معاشرتی حالات پر غور کرتا ہوں، اخبارات کے لیے مضامین تیار کرتا ہوں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر انسان اپنے آپ کو وقت سے پہلے بوڑھا تسلیم کر لے تو وہ ذہنی طور پر کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے مشاغل جاری رکھے، دوستوں سے ملے، مناسب ورزش کرے اور نئی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرے تو زندگی میں خوشی اور مقصد باقی رہتا ہے۔
بڑھاپے کی ہر تکلیف بیماری نہیں، لیکن ہر تکلیف کو بڑھاپا سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت میں معمولی تبدیلی، جسمانی طاقت میں کمی اور نیند کے اوقات میں فرق آ سکتا ہے۔ لیکن مسلسل بھولنے کی شکایت، اچانک لڑکھڑاہٹ، شدید درد یا نیند کی مستقل خرابی کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو محض بڑھاپے کا حصہ سمجھ کر علاج چھوڑ دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔
بزرگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں، حسبِ استطاعت روزانہ چہل قدمی کریں، دھوپ اور تازہ ہوا سے فائدہ اٹھائیں، متوازن غذا کھائیں اور اپنی ذہنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں۔
مگر ایک اور حقیقت بھی ہے جس پر ہمارا معاشرہ کم توجہ دیتا ہے، اور وہ ہے بزرگوں کی تنہائی۔
اولاد اپنی ملازمت، کاروبار اور گھریلو مصروفیات میں الجھی رہتی ہے۔ بزرگ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر کسی کے آنے، بات کرنے یا حال پوچھنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ انہیں صرف دواؤں، کھانے اور کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ محبت، عزت، توجہ اور اپنائیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ کچھ وقت گزارے، ان کی باتیں سنے، انہیں سیر کے لیے لے جائے اور اہم گھریلو فیصلوں میں ان کی رائے کو بھی اہمیت دے۔
بزرگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو کسی پر بوجھ نہ سمجھیں۔ جہاں تک صحت اور حالات اجازت دیں، اپنے فیصلے خود کریں، دوستوں سے رابطہ رکھیں، مطالعہ کریں، لکھیں، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور اپنی زندگی کے تجربات نئی نسل تک پہنچائیں۔
خصوصاً لکھنے پڑھنے کا شوق رکھنے والے بزرگ اپنی یادداشتوں، تجربات اور مشاہدات کو قلم بند کریں۔ یہ تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
میں اپنے ہم عمر بزرگ دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ عمر کے بڑھتے ہوئے اعداد سے گھبرائیے نہیں۔ اگر قدم آہستہ اٹھتے ہیں تو آہستہ چلیے، اگر آنکھوں کو دشواری ہوتی ہے تو مناسب چشمہ استعمال کیجیے، اگر ہاتھ سے لکھنا مشکل ہو تو بول کر اپنے خیالات محفوظ کیجیے، مگر زندگی سے اپنا رشتہ مت توڑیے۔
آج جدید ٹیکنالوجی نے بھی بزرگوں کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے ہم اپنے عزیزوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں، معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات کو تحریری شکل دے سکتے ہیں۔
یاد رکھیے! جوانی صرف مضبوط جسم، سیاہ بالوں اور تیز قدموں کا نام نہیں۔ جوانی ایک زندہ احساس، مثبت سوچ اور کچھ کر گزرنے کے جذبے کا نام بھی ہے۔
میرا پیغام یہی ہے کہ بڑھاپے کو قبول کیجیے، مگر بے عملی کو نہیں۔ بیماری کا علاج کیجیے، مگر عمر سے خوفزدہ نہ ہوئیے۔
زندگی کا ہر دن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اس نعمت کو شکرگزاری، محبت، خدمت اور خوش دلی کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
آخر میں اپنے بزرگ ساتھیوں سے صرف اتنا کہنا چاہوں گا:
بال سفید ہیں تو کیا ہوا، ارادے آج بھی جوان ہیں!
قدم سست ہیں تو کیا ہوا، زندگی کے سفر میں حوصلے آج بھی رواں ہیں!
عمر نے اسی کا نام بڑھاپا رکھا ہوگا، مگر میرا دل آج بھی کہتا ہے:
ابھی میں جوان ہوں!
سید فاروق احمد قادری
بیڑ، مہاراشٹر
Comments
Post a Comment