ارنڈول -جلگاؤں، پانڈو واڑا – جامع مسجد معاملے میں متوازی انتظامی جانچ پر سوال - "محصول وزیر باونکونٹھے کو محضر؛ ضلع کلکٹر کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت"
جلگاؤں : (عقیل خان بیاولی) ارَنڈول، ضلع جلگاؤں کے پانڈو واڑا–جامع مسجد تنازع کے سلسلے میں مختلف سماجی و مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے ریاستی وزیرِ محصولات چندرشیکھر باونکولے سے ملاقات کرکے جاری انتظامی جانچ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور ایک تحریری محضر پیش کی۔ نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت اور وقف ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اسی معاملے میں کسی بھی متوازی انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ عدالتی احکامات اور موجودہ قانونی صورتِ حال کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔
جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا کے کنوینر فاروق شیخ عبداللہ، حفاظ تنظیم کے صدر حافظ عبدالرحیم رحیم پٹیل، مولانا حافظ شفیق پٹیل، کل جماعتی کے صدر سید چاند، اے پی سی آر کے صدر عارف دیشمکھ سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے وزیرِ محصولات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ، وقف ٹریبونل اور متعلقہ عدالتی کارروائی سے وابستہ دستاویزات بھی پیش کی گئیں۔محضر میں سوال اٹھایا گیا کہ جب معاملہ مختلف عدالتی فورمز پر زیرِ سماعت ہے تو اسی موضوع پر متوازی انتظامی جانچ کس حد تک قانونی طور پر مناسب ہے؟ نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ کسی بھی انتظامی اقدام سے قبل متعلقہ عدالتوں کے احکامات اور مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے، تاکہ انتظامی کارروائی عدالتی عمل سے متصادم نہ ہو۔ محضر اور پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد وزیرِ محصولات چندرشیکھر باونکونٹھے نے اس پر ’اے' کا ریماک درج کرتے ہوئے ضلع کلکٹر، جلگاؤں کو معاملے کی جانچ کرکے مقررہ مدت میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ اسے انتظامی سطح پر معاملے کی قانونی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی سمت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ نمائندوں نے کہا کہ پانڈوواڑا–جامع مسجد معاملہ مذہبی اور تاریخی اعتبار سے حساس نوعیت کا حامل ہے۔ ایسے معاملات میں قانون کی بالادستی، عدالتی عمل کے احترام، فطری انصاف اور سماجی ہم آہنگی کے آئینی اصولوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ محضر پر جلگاؤں ضلع مسلم منیار برادری، اے پی سی آر مہاراشٹر، جلگاؤں ایکتا سنگھٹنا، حفاظ فاؤنڈیشن، واجد فاؤنڈیشن، کل جماعتی، صیقلگر برادری، لکی فاؤنڈیشن اور شیرِ ہند ٹیپو سلطان تنظیم سمیت مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے دستخط ہیں۔ فاروق شیخ نے کہا کہ عدالت اور ٹریبونل میں زیرِ سماعت معاملے میں انتظامی اقدامات متعلقہ عدالتی احکامات اور قانون کی روشنی میں ہی کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نمائندہ وفد کا مقصد انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا نہیں، بلکہ عدالتی عمل، آئینی اقدار اور قانون کی حکمرانی کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔
Comments
Post a Comment