امیرالمومنین حضرت عمر ابن عبدالعزیز حیات و خدماتتحریر: سید براءعازب ابن سید مرتضیٰ، (متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)


امیرالمومنین حضرت عمر ابن عبدالعزیز حیات و خدمات
تحریر: سید براءعازب ابن سید مرتضیٰ، 
(متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)

حضرت عمر بن عبدالعزیز جن کو عالم اسلام "عمر ثانی" کے نام سے جانتا ہے ایک جلیل القدر تابعی اپنے وقت کے بہترین فقیه و محدث ہونے کے علاوہ ایسے خلیفۃ المسلمین تھے جنہوں نے خلافت علی منہاج نبوہ کی ایک بہترین مثال پیش کی ہے ۔ تاریخ انسانی میں ایسی جامع صفات شخصیت شاز و نادر ہی ابھرتی ہے جو بیک وقت خادم القرآن وحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے تقریبا 43 لاکھ مربع میل پر حکومت کرتی ہوں۔ 
عمر بن عبدالعزیز کی پیدائش 61 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی والد ماجد کا نام عبدالعزیز بن مروان بن حکم تھا جو عظیم الشان مصر کے صوبے حلوان کے گورنر تھے والدہ ماجدہ کا نام ام عاصم تھا جو ایک انتہائی نیک صفت خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوتی بھی تھی ‌۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب شعور کی آنکھیں کھولی تو ہر جانب علوم و فنون کے دریا روا تھے آپ کی تعلیم و تربیت بڑے علمی ماحول میں بڑی خوشحالی کے ساتھ ہوئی، بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، آپ نے جلیل القدر صحابہ کرام جیسے حضرت انس بن مالک،عبداللہ ابن عمر، سہل بن سعد اور عبداللہ ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے کسب فیض کیا جس کی وجہ سے آپ کے اندر علمی صلاحیت و قابلیت کے ساتھ ساتھ فکری وعملی نشونما بھی بتدریج بڑھتی گئی، کبار تابعین میں سے آپ نے عروہ بن زبیر، سعید ابن مسیب اور خصوصا مشہور محدث صالح بن کیسان سے قرآن وحدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اپنی صاحبزادی فاطمہ بنت عبدالملک کا نکاح آپ سے کرا دیا، خلافت سے قبل آپ کا شمار دنیا کے نفیس ترین اور خوشحال شہزادوں میں ہوتا تھا تاریخی روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کے ایک لباس کی قیمت ایک ہزار درہم ہوتی تھی اور جو لباس ایک مرتبہ استعمال کرتے ، دوبارہ اس کی باری نہیں آتی تھی، آپ کا عطر اتنا عمدہ اور قیمتی ہوتا تھا کہ جب کسی راستے سے گزر جاتے تو دیر تک لوگ خوشبو کو محسوس کرتے تھے حتی کہ آپ کی ذاتی جائیداد کی سالانہ آمدنی 50 ہزار اشرفیوں تک پہنچ گئی تھی۔
 مدینۃ المنوره اور حجاز میں گورنری کے عہدے پر فائض ہونے کے بعد آپ نے چند اقدامات کیے جو آپ کی دینی طبیعت کا واضح ثبوت دیتی ہے ۔ 
جیسے مدینہ کے علماء گورنر کے دربار میں حاضری لگاتے تھے لیکن عمر بن عبدالعزیز نے بادشاہی روایات کو ختم کرتے ہوئے اس رسم کو ختم کیا ، 10 فقہاء کی شوری تجویز کی جس میں کبار تابعین موجود تھے اور فرمایا کہ میں کوئی بھی فیصلہ آپ کے مشورے کے بغیر نہیں کروں گا، مسجد نبوی کی عظیم الشان توسیع کی اور امہات المومنین کے حجرے کو علماء کے مشورے سے مسجدِ نبوی میں شامل کیا ، مدینہ کی گورنری کے دوران آپ نے ظالم حجاج بن یوسف کے لوگوں پر ظلم کی کھل کر مخالفت کی جس کی وجہ سے تنازعہ بڑھ گیا اور آپ مدینہ وحجاز کی گورنریوسے معزول کرا دیے گئے،
خلیفہ سلیمان بن عبدالملک جو آپ کا چچا زاد تھا اور آپ کا ہم مذاق و ہم مزاج بھی تھا وہ اپنے دور خلافت میں اکثر عمر بن عبدالعزیز سے مشورے کرتا رہتا تھا سلیمان بن عبدالملک طبیعت کے لحاظ سے اسائش پسند خوش خوراک اور زیب و زینت کا دل دادا تھا سلیمان بن عبدالملک نے وفات سے کچھ زیر قبل رجا بن حیوہ علیہ الرحمہ کے مشورے سے خلافت کے لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز کا نام طے کر دیا۔

99 ہجری کو تقریبا 37 سال کی عمر میں آپ مسند خلافت پر بیٹھے خلافت کی ذمہ داری پڑھتے ہی اچانک آپ کی دنیا ہی بدل گئی آپ نے مسجد میں جمع ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ میں تم پر زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتا لیکن مجمع نے آپ ہی کو خلیفہ تسلیم کر دیا۔
خلیفہ بنتے ہی آپ نے شاہی خاندانوں کی شاہی سواری اور قیمتی لباس اور مقبوضہ جاگیریں اور اپنی ذاتی جاگیریں یہاں تک کہ اپنی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کا سارا زیور بھی بیت المال میں جمع کروا دیا۔ شاہانہ کروفر ،فرعونی انداز، قیصر و کسری کے درباری طریقے سب رخصت کیے اور پہلے ہی روز سے شاہی ٹھاٹ باٹ کو ترک کر کے وہ طرز اختیار کیا جو مسلمانوں کے درمیان ان کے خلیفہ کا ہونا چاہیے۔

اپنے خاندان کی اصلاح کے بعد حکومت کے باطل نظام کی طرف توجہ کی ظالم اور بدکار گورنروں کو معزول کرایا اور بعضوں کو سزا بھی دی اور ان کی جگہ قابل و دیندار اشخاص کا انتخاب کیا عوام سے جبرا حاصل کی گئی جاگیریں واپس کر دی اور جو ناجائز ٹیکس جاری تھا اس کو یک قلم موقوف کر دیا ، زکوۃ کی تحصیل کا انتظام ازسر نو درست کیا اور بیت المال عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری کر دیا، غیر مسلموں کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کا قلع قمع کیا جس کی وجہ سے اکثریت کا دل اسلام کی طرف راغب ہونے لگا یعنی مکمل نظام زندگی کو اسلامی اصولوں پر قائم کر دیا۔
عوام الناس کی دینی تعلیم و تربیت کا بھی بھرپور انتظام کیا اور علوم قرآن ،حدیث اور فقہ کی طرف اہل علم کو متوجہ کیا اور خصوصا تدوین حدیث کے سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات کیے جن کی وجہ سے علوم حدیث کو عالمی سطح پر قبولیت حاصل ہوئی، شاہی نظام کی وجہ سے جو برائیاں عام ہو گئی تھی جیسے شراب نوشی، تصویر کشی، دنیاوی عیش و عشرت وغیرہ کا انسداد کیا اور قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کا مذاق اپنی ذات کو بنایا جس میں فرمایا گیا "الذين ان مكناهم في الارض اقاموا الصلاة واتوا الزكاة وامروا بالمعروف وانهى عن المنكر"

اس دور کے حالات کا اندازہ ایک راوی کے قول سے کیا جا سکتا ہے وہ لکھتا ہے ولید کے زمانے میں لوگ جب آپس میں بیٹھتے تو امارات اور باغوں کے متعلق گفتگو کرتے، سلیمان کا زمانہ آیا تو عوام کا مذاق شہوانیت کی طرف متوجہ ہوا مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز حکمراں ہوئے تو حالت یہ تھی کہ جہاں چار آدمی جمع ہوتے نماز روزہ اور قران کا ذکر چھڑ جاتا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز خوفِ خدا، بے مثال عدل و انصاف، علم و حکمت اور شاہانہ ٹھاٹ باٹ کو ٹھکرا کر زہد و تقویٰ اختیار کرنے کا ایک ایسا حسین امتزاج تھے جنہوں نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں خلافتِ راشدہ کی سنہری یاد تازہ کر دی۔ آپ نے ایک طرف خلافت راشدہ کے بے لوث عدل اور زہد و تقوی کی روح کو زندہ کیا تو دوسری طرف اپنے دور کے تقاضوں کو مکمل طور پر سمجھا اور تدوین حدیث ،معاشی نظام و انتظامی حالات کو بھی صحیح نہج عطا کیا گویا آپ قدیم صالح اور جدید نافع کا ایک حسین امتزاج تھے۔ 

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ صرف ایک عادل حکمران یا خلیفہ ہی نہیں تھے، بلکہ اپنی ذات میں ایک ہمہ جہت علمی، فکری ، روحانی شخصیت اور اسلام کے سب سے پہلے مجدد تھے ۔ آپ نے بہت ہی کم مدت میں ملوکیت و بادشاہت کا خاتمہ کیا اور حکومت کو دین اسلام کے تابع کیا ، حضرت عمر بن عبدالعزیز حکومت کو خاندانی ملوکیت سے باہر نکال کر شورائی خلافت کے حوالے کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سےبنو اُمیہ اور خصوصاً خاندان کے لوگ اس مجدد کے دشمن ہو گئے اور آپ کو خادم کے ہاتھ سے زہر دے دیا جو آپ کی موت کا سبب بنا۔ بالاخر 101 ہجری میں اسلام کا پہلا مجدد محض 39 سال کی عمر میں دین و ملت کی خدمت کرتا ہوا اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔