خود نوشت - میں کون ہوں؟ - ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا


خود نوشت - 
میں کون ہوں؟ - 
ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141

خاندانی پس منظر سے ادبی شناخت تک کا سفر

کوئی مجھ سے پوچھے کہ ’’آپ کون ہیں؟‘‘ تو اپنے شناختی کارڈ پر درج نام بتانا آسان ہے، لیکن اپنی اصل شناخت بیان کرنے کے لیے زندگی کے کئی اوراق پلٹنے پڑتے ہیں۔ انسان کی پہچان صرف اس کے نام، خاندان یا پیشے سے نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہوتی ہے، تربیت کے کئی مرحلے ہوتے ہیں، کچھ خواب ہوتے ہیں، کچھ محرومیاں ہوتی ہیں اور کچھ ایسے تجربات ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ میری زندگی بھی انہی مختلف تجربات کا مجموعہ ہے۔ میرا اصل نام اطہر مبین ملا ہے، جب کہ ادبی دنیا میں مجھے رہبر تماپوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میرے لیے یہ سفر محض ایک نام کے انتخاب کی کہانی نہیں، بلکہ اپنی ذات کو سمجھنے، سنوارنے اور اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش ہے۔

میرا تعلق ریاستِ کرناٹک کے ضلع یادگیر، تعلقہ شوراپور کے قصبے تماپور سے ہے۔ میری پیدائش ۱۹ فروری ۱۹۹۶ء کو ہوئی۔ میرا خاندان ایک زمانے سے تجارت سے وابستہ رہا ہے۔ میرے پردادا غلام رسول صاحب کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ’’مرغا چھاپ بیڑی‘‘ کی فیکٹری چلاتے تھے۔ اس زمانے میں چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کاروبار صرف ذریعۂ معاش نہیں، بلکہ خاندان کی سماجی شناخت کا بھی اہم حصہ ہوتا تھا۔ ہمارے خاندان کی زندگی میں بھی تجارت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

میرے دادا عطا الرحمن کی دکان پر اسٹیشنری سے لے کر روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا تک دستیاب ہوتی تھیں۔ یوں ایک ہی جگہ لوگوں کی کئی ضرورتیں پوری ہو جاتی تھیں۔ اس دور میں حیدرآباد سے سامان منگوانا آسان نہیں تھا، لیکن کاروبار چلانے کے لیے رابطے، محنت اور انتظام کی ضرورت ہوتی تھی۔ خاندان کے افراد انہی ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ مقامی سطح پر ہمارے خاندان کو ’’ملا صاحب‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور جامع مسجد سے بھی ہماری خاندانی وابستگی رہی ہے۔ یہ ماحول میرے لیے خاندانی تاریخ کا وہ پہلا باب ہے جس میں محنت، کاروبار اور سماجی تعلقات کی اہمیت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

میرے والد ظفر مبین ملا نے بھی خاندانی کاروبار میں حصہ لیا۔ تاہم کاروبار میں اتار چڑھاؤ اور مالی نقصانات کے باعث انہیں مختلف ملازمتیں اختیار کرنا پڑیں۔ کبھی منیجر کی حیثیت سے کام کیا، کبھی سیلز مین کی ذمہ داریاں نبھائیں اور کبھی بچوں کو ان کے گھروں میں اردو اور عربی پڑھاتے رہے۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد اور ذمہ داری کی مثال تھی۔ حالات جیسے بھی رہے، انہوں نے اپنی بساط کے مطابق خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو یہ سمجھ میں آیا کہ انسان کی اصل قوت ہمیشہ اس کے وسائل میں نہیں ہوتی؛ بعض اوقات اس کی اصل قوت مشکل حالات میں بھی کام کرتے رہنے کے حوصلے میں ہوتی ہے۔

میرے والد کی تربیت کا ایک پہلو خاص طور پر میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ وہ بچوں کے سوالات کو اہمیت دیتے تھے اور کسی بات کو سمجھنے کے بعد پوچھتے، ’’تم نے اس سے کیا سیکھا؟‘‘ یہ سوال بظاہر مختصر تھا، لیکن اس میں سوچنے، غور کرنے اور تجربے سے نتیجہ اخذ کرنے کی ترغیب موجود تھی۔ آج جب میں خود بچوں کو پڑھاتا ہوں تو والد کا یہی انداز یاد آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ چیزوں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے کا عمل بھی ہے۔

ہمارے خاندان میں تجارت کے ساتھ ادب سے دلچسپی رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔ میرے والد کے چچا اسماعیل پرویز ادبی ذوق رکھتے تھے۔ ان کی کتاب ’’غنچہ پرویز‘‘ کا ذکر میرے خاندانی ادبی پس منظر کا ایک اہم حصہ ہے۔ چچا حامی تماپوری سمیت اہلِ قلم سے وابستہ شخصیات نے بھی میرے ذہن پر اثر ڈالا۔ اگرچہ بچپن میں ادب کی دنیا کی وسعت کا مجھے پورا اندازہ نہیں تھا، لیکن خاندان کے اس ماحول نے میرے اندر الفاظ، مطالعے اور تخلیقی اظہار کے لیے ایک ابتدائی زمین ضرور تیار کی۔

بچپن، اسکول اور ابتدائی دلچسپیاں

میری ابتدائی تعلیم الامین ہائر پرائمری اسکول، تماپور میں ہوئی۔ بچپن ہی سے مجھے تصویریں بنانے اور کارٹونوں کی نقل اتارنے کا شوق تھا۔ پوپو جان اخباروں سے کارٹون کاٹنے اور ان کے نمونے بنانے میں میری مدد کرتے تھے۔ میں ان تصویروں کو غور سے دیکھتا، ان کی شکلوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور پھر خود بھی ویسا ہی بنانے کی مشق کرتا۔ اس زمانے میں یہ محض ایک شوق تھا، لیکن اسی شوق نے آگے چل کر مجھے ڈرائنگ کی طرف راغب کیا۔ بعد میں میں نے ڈرائنگ کے لوئر اور ہائر امتحانات بھی مکمل کیے۔ اس تجربے سے مجھے یہ احساس ہوا کہ بچپن کی دلچسپیاں اگر مناسب توجہ اور مسلسل مشق پائیں تو شخصیت کا مستقل حصہ بن سکتی ہیں۔

اسکول کی زندگی میں مجھے پڑھائی کے ساتھ دوسری سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا موقع ملا۔ میں مانیٹر بھی رہا، جس سے جماعت کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ بعض اساتذہ نے میری صلاحیتوں کو پہچانا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ محمد مشتاق احمد ساقی تماپوری نے ریاضی میں میری دلچسپی بڑھائی۔ ان کی رہنمائی اور اپنی محنت کے نتیجے میں دسویں جماعت میں مجھے ریاضی میں ۹۴ نمبر حاصل ہوئے۔ یہ کامیابی میرے لیے حوصلے کا باعث بنی اور اس نے مجھے بتایا کہ کسی مضمون میں دلچسپی پیدا ہو جائے تو مسلسل محنت سے بہتر نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی زمانے میں مجھے اردو ڈرامے میں حصہ لینے کا موقع بھی ملا۔ مختصر ڈراما ’’بچہ فیل کیوں کیا؟‘‘ میرے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا۔ اس ڈرامے نے ضلعی سطح پر کامیابی حاصل کی اور ریاستی سطح تک پہنچا۔ اس موقع پر مقامی اخبار میں میری تصویر اور خبر بھی شائع ہوئی۔ کم عمری میں اپنی سرگرمی کا اخبار میں ذکر دیکھنا میرے لیے خوشی اور حوصلے کی بات تھی۔ اس تجربے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ تعلیم کے ساتھ تخلیقی سرگرمیاں بھی انسان کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں اور اسے اپنے اندر چھپی ہوئی خوبیوں کو پہچاننے کا موقع دیتی ہیں۔

تعلیمی سفر کے اسی دور میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی یاد آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ شاہین ادارے میں داخلہ حاصل کرنے کا موقع ملا تھا۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کی، لیکن جس دن داخلے کے لیے پہنچنا تھا، بسوں کی ہڑتال ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ میری جگہ کسی دوسرے طالب علم کو داخلہ دے دیا گیا ہے۔ اس وقت یہ میرے لیے بڑا صدمہ تھا۔ انسان جس موقع کے لیے امید باندھتا ہے، جب وہ اچانک ہاتھ سے نکل جائے تو مایوسی فطری ہے۔ آج اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں نے تیاری اپنی طرف سے پوری کی تھی، مگر بسوں کی ہڑتال نے میری منصوبہ بندی کو ایسا جھٹکا دیا جس کا میرے پاس کوئی حل نہیں تھا۔ زندگی کے بعض موڑ واقعی انسان کی مرضی سے نہیں آتے؛ وہ اسے ایک دوسرے راستے پر چلنے کے لیے مجبور کر دیتے ہیں۔

تعلیم، فنی تربیت اور عملی زندگی

تعلیم کے معاملے میں میرا سفر ایک ہی راستے پر نہیں چلا۔ مختلف حالات اور ضرورتوں کے مطابق مجھے نئے مواقع تلاش کرنے پڑے۔ میں نے آئی ٹی آئی میں الیکٹریشن کا کورس کیا۔ اس تربیت کے دوران بجلی کی وائرنگ، نئی عمارتوں میں برقی کام اور موٹروں و سبمرسیبل پمپوں سے متعلق عملی کاموں کا تجربہ حاصل ہوا۔ فنی تعلیم نے مجھے کام کو قریب سے سمجھنے، اوزاروں کے استعمال اور عملی مسائل کا حل تلاش کرنے کا موقع دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کلاس روم اور کتاب تک محدود نہیں؛ ہنر سیکھنا بھی انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس کے بعد میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فاصلاتی طریقۂ تعلیم کے ذریعے پی یو سی کیا اور یادگیر سے ڈی ایڈ کی تعلیم مکمل کی۔ بی اے کی تعلیم بھی جاری رکھی اور بی اے کے آخری سال تک پہنچا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی دلچسپیوں کو زندہ رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا، لیکن میں نے کوشش کی کہ حالات کی وجہ سے سیکھنے کا سلسلہ مکمل طور پر رکنے نہ پائے۔ ڈرائنگ، فنی تربیت اور رسمی تعلیم کے مختلف مراحل نے مجھے الگ الگ تجربات فراہم کیے۔ ان تجربات نے میری سوچ میں وسعت پیدا کی اور مجھے مختلف شعبوں کی اہمیت سمجھنے میں مدد دی۔

تعلیم کے مختلف مراحل کے ساتھ میں نے مزید پیشہ ورانہ اور علمی کورسز میں بھی دلچسپی لی۔ ہاسپیٹیلٹی مینجمنٹ کی تربیت نے ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے سے متعلق کاموں کو سمجھنے میں مدد دی۔ صحافت و ابلاغِ عامہ کی تعلیم سے بھی وابستگی رہی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد سے اس شعبے کا ڈپلومہ مکمل کیا۔ اسلامیات اور زبانوں کے مطالعے سے متعلق کورسز نے بھی میری علمی دلچسپیوں کو وسعت دی۔ ان تمام کوششوں کے پیچھے ایک ہی جذبہ کارفرما رہا: میں اپنے لیے سیکھنے کے زیادہ سے زیادہ دروازے کھلے رکھنا چاہتا تھا۔

والد کی وفات، بنگلورو کا سفر اور روزگار کی جدوجہد

زندگی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد معمولات پہلے جیسے نہیں رہتے۔ میرے لیے والد کی وفات ایسا ہی ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی۔ والد کی جدائی نے جذباتی طور پر متاثر کیا اور خاندانی حالات نے بھی زندگی کی سمت بدل دی۔ مجھے تماپور چھوڑ کر بنگلورو جانا پڑا۔ گھر، خاندان اور اپنے مانوس ماحول سے دوری آسان نہیں تھی، لیکن زندگی کی ضروریات اور ذمہ داریوں کے سامنے نئے راستے تلاش کرنا پڑے۔

بنگلورو اور دوسرے مقامات پر روزگار کے سلسلے میں ہوٹل اور فوڈ سروس کے شعبے سے وابستگی رہی۔ ڈے فروٹ ہاؤس، برگر کنگ، دی للت ممبئی، گرین پارک ہوٹل بنگلورو اور میکڈونلڈز جیسے اداروں میں کام کرنے کے تجربات نے مجھے مختلف ماحول اور کام کے طریقوں سے متعارف کرایا۔ ان اداروں میں کام کرتے ہوئے وقت کی پابندی، نظم و ضبط، ٹیم کے ساتھ تعاون، ذمہ داری کی ادائیگی اور مختلف مزاج کے لوگوں سے معاملہ کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔

ہوٹل کی ملازمت بظاہر میری ادبی دلچسپیوں سے الگ دکھائی دیتی ہے، لیکن میں نے ان تجربات کو کبھی بے معنی نہیں سمجھا۔ روزگار انسان کو صرف آمدنی نہیں دیتا؛ وہ اسے لوگوں کو سمجھنے، مشکل حالات میں خود کو سنبھالنے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی تربیت بھی دیتا ہے۔ میں نے عملی زندگی میں دیکھا کہ ہر شعبے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ہر کام کو سیکھنے کے جذبے کے ساتھ کیا جائے تو وہ انسان کی شخصیت میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور کرتا ہے۔

تاہم روزگار کی مصروفیات اور خاندانی ذمہ داریوں کے باعث مطالعے اور ادبی سرگرمیوں میں وقفہ بھی آیا۔ کبھی وقت کی کمی، کبھی حالات کی سختی اور کبھی روزمرہ کے تقاضوں نے قلم سے دور رکھا۔ اس کے باوجود ادب سے میرا تعلق پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ کبھی کسی شعر کی یاد، کبھی کسی کتاب کا خیال اور کبھی کسی ادبی محفل کا تصور مجھے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرتا۔ میں نے محسوس کیا کہ کسی شوق سے وقتی دوری اختیار کرنا اور اس شوق کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینا دو الگ باتیں ہیں۔ میرے اندر لکھنے اور سیکھنے کی خواہش باقی تھی، اس لیے واپسی کا راستہ بھی کھلا رہا۔

مطالعے سے شاعری تک

میری ادبی دلچسپی کی ابتدائی کڑیوں میں بچوں کے رسائل کا اہم حصہ ہے۔ بچپن میں رسالہ ’’غبارہ‘‘ سے واقفیت ہوئی، جو بنگلورو سے ڈاکٹر فوزیہ چودھری کی نگرانی میں شائع ہوتا تھا۔ بعد میں ’’بچوں کی دنیا‘‘، ’’اردو دنیا‘‘ اور دوسری مطبوعات سے بھی استفادے کا موقع ملا۔ ان رسائل نے مطالعے کی طرف رغبت بڑھائی اور الفاظ و تحریر سے تعلق مضبوط کیا۔ اس وقت شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ مطالعے کی یہی ابتدائی عادت آگے چل کر شاعری اور نثر نگاری کی بنیاد بنے گی۔

رفتہ رفتہ شعر و ادب سے دلچسپی بڑھی اور شاعری کی مشق شروع ہوئی۔ ڈی ایڈ کے زمانے میں فضل افضل یادگیری سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے میری ابتدائی شاعری میں رہنمائی کی اور مجھے مقامی ادبی حلقوں اور اہلِ قلم سے متعارف کرایا۔ کسی نوآموز لکھنے والے کے لیے ابتدائی رہنمائی بہت اہم ہوتی ہے، کیونکہ اس مرحلے پر انسان کے اندر جذبہ تو ہوتا ہے، مگر اسے اپنے خیالات کو فنّی صورت دینے اور اپنی خامیوں کو پہچاننے کے لیے کسی تجربہ کار شخص کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔

اسی ادبی سفر میں اعظم اثر شاہ پور، شیدا رومانی رائچور، اقبال راہی، ڈاکٹر رفیق سوداگر یادگیر اور ڈاکٹر افتخار شکیل رائچور سمیت مختلف اہلِ قلم سے واقفیت اور رہنمائی کا موقع ملا۔ ہر ادبی شخصیت کا اپنا انداز، اپنا تجربہ اور اپنی فکری دنیا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں سے ملنے اور ان کے کلام و گفتگو سے استفادہ کرنے کے نتیجے میں مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ شاعری صرف جذبات کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ زبان، مطالعے، مشق، مشاہدے اور فنی شعور کا بھی تقاضا کرتی ہے۔

میری پہلی غزل ۲۰۱۶ء میں کے بی این (KBN) کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوئی۔ یہ میرے قلمی سفر کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ اپنی تخلیق کو مطبوعہ صورت میں دیکھنا ایک الگ تجربہ ہوتا ہے؛ اس سے خوشی بھی ملتی ہے اور یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ اب اپنے لفظوں کے بارے میں زیادہ ذمہ داری سے سوچنا چاہیے۔ پہلی اشاعت نے میری حوصلہ افزائی کی اور لکھنے کے عمل سے وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔

منیر احمد جامی اور ادبی تربیت کا اہم مرحلہ

میرے ادبی سفر میں منیر احمد جامی کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ادبی زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے کلام کی وجہ سے نہیں، بلکہ نئی نسل کے لکھنے والوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی کے باعث بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔ منیر احمد جامی معروف شاعر و ادیب ہیں اور نو مشق شعرا و ادبا کی تین سالہ تربیتی سرگرمیوں کے نگران رہے ہیں۔ اس تربیتی ماحول نے مجھے اپنی ادبی صلاحیتوں کو سنجیدگی سے دیکھنے، مشق جاری رکھنے اور تخلیقی سفر کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی تحریک دی۔

نو مشق لکھنے والے کے لیے تربیت کا مطلب صرف شعر کہنا یا نثر لکھنا نہیں ہوتا۔ اسے زبان کے استعمال، خیال کی ترتیب، اظہار کی صفائی، فنّی کمزوریوں کی شناخت اور تنقیدی رائے قبول کرنے کا سلیقہ بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ منیر احمد جامی کی ادبی سرگرمیوں اور تربیتی ماحول سے وابستگی نے مجھے اس بات کی اہمیت سمجھائی کہ تخلیقی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے مستقل مشق اور اہلِ فن سے رابطہ ضروری ہے۔ میرے لیے یہ تعلق ادبی سفر کو دوبارہ مضبوط کرنے اور اپنی شناخت کو زیادہ سنجیدگی سے بنانے کے مرحلوں میں شامل ہے۔

منیر احمد جامی کی ادبی پہچان کا ایک اور پہلو ان کی مزاحیہ پیش کش ’’اُدھر اُدھر سے‘‘ سے بھی وابستہ ہے، جس کے شاعر وہ ہیں اور جسے نیاز الدین نیاز نے گایا۔ اس نوعیت کی ادبی سرگرمیاں یہ بتاتی ہیں کہ اردو ادب کا دائرہ صرف سنجیدہ شاعری تک محدود نہیں؛ اس میں مزاح، پیش کش، آواز اور سامعین سے تعلق کے بھی کئی رنگ شامل ہیں۔ میرے لیے ایسے ادبی تجربات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ زبان کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف اصناف اور تخلیقی صورتوں سے رابطہ ضروری ہے۔

ادبی محفلوں اور تربیتی سرگرمیوں میں شرکت نے بھی حوصلہ بڑھایا۔ ’’ادبی نکات‘‘ جیسی تقریب میں دوسرے نو مشق شعرا و ادبا کے ساتھ مجھے بھی اسٹیج پر بلایا گیا اور معزز مہمانوں و ذمہ داران کے ہاتھوں کتابیں پیش کی گئیں۔ بظاہر یہ ایک مختصر تقریب تھی، لیکن کسی نوآموز لکھنے والے کے لیے ایسے مواقع حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔ ان سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان محنت جاری رکھے تو اس کی کوششوں کو پہچان مل سکتی ہے۔ میں ان تجربات کو منزل نہیں سمجھتا، بلکہ اپنے ادبی سفر میں آگے بڑھنے کی ترغیب سمجھتا ہوں۔

بنگلورو میں قیام کے دوران اردو مشاعروں اور ٹیلی ویژن پروگرام ’’واہ واہ کیا بات ہے‘‘ کو دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ان مشاہدات سے شاعری کی پیش کش، سامعین کے ذوق اور ادبی محفلوں کے ماحول کو سمجھنے میں مدد ملی۔ بعد میں کرناٹک اردو اکادمی کی نو مشق شعرا و نثر نگاروں کی تربیت گاہ اور منیر احمد جامی سمیت اہلِ ادب سے رابطے نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ یوں مطالعے سے شروع ہونے والی دلچسپی، ابتدائی مشق، پہلی اشاعت اور ادبی تربیت کے مراحل ایک دوسرے سے جڑتے گئے۔

شاعری سے صحافت اور نثر نگاری تک

وقت کے ساتھ میری دلچسپی صرف شاعری تک محدود نہیں رہی۔ میں نے نثر نگاری، رپورٹنگ اور کالم نویسی میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ میرے لیے صحافت ایک ایسا میدان ہے جس میں مشاہدے، زبان، معلومات اور ذمہ داری کا امتزاج درکار ہوتا ہے۔ کسی واقعے کو محض بیان کرنا کافی نہیں؛ اسے اس طرح پیش کرنا بھی ضروری ہے کہ قاری صورتِ حال کو سمجھ سکے۔ اسی سوچ کے ساتھ میں نے مختلف اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے لیے لکھنے کی کوشش کی۔

شوراپور کے نامہ نگار کی حیثیت سے مجھے مقامی حالات، تعلیمی سرگرمیوں اور سماجی واقعات کے بارے میں لکھنے کا موقع ملا۔ روزنامہ صدائے مہاراشٹر، حقیقت ٹائمز بنگلورو، بہمنی نیوز گلبرگہ اور انقلابِ دکن میں میری تحریریں، رپورٹس اور کالم شائع ہوئے۔ ان تجربات نے مجھے مختلف موضوعات پر لکھنے اور اپنے مشاہدات کو تحریر میں منتقل کرنے کا موقع دیا۔ صحافت اور ادب کے طریقۂ اظہار میں فرق ضرور ہے، لیکن دونوں کے لیے زبان پر گرفت، مشاہدے کی قوت اور بات کو واضح انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت اہم ہے۔

میرے لیے ’’ضمیر کب جاگے گا؟‘‘ جیسے کالم لکھنا بھی اسی کوشش کا حصہ رہا کہ سماجی سوالات کو تحریر کے ذریعے سامنے لایا جائے۔ اسی طرح غربت، ہجرت اور انسانی تجربات جیسے موضوعات پر لکھنے میں میری دلچسپی رہی ہے۔ میری تحریر ’’غربت سے بغاوت‘‘ کی اشاعت پیامِ سحر کے اکتوبر ۲۰۲۶ء کے شمارے میں ہوئی، جب کہ افسانہ ’’ہجرت‘‘ آنگن ماہِ نور کے ستمبر ۲۰۲۶ء کے شمارے میں شامل ہوا۔ یہ اشاعتیں میرے لیے حوصلہ افزا ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہر نئی تحریر اپنے ساتھ نئی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔ لکھنے والے کو اپنی زبان، خیال اور پیش کش کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

۲۰۲۵ء میں کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے بہترین نثر نگار کا اعزاز ملنا میرے لیے ایک اہم تجربہ تھا۔ میں اس اعزاز کو اپنی ادبی منزل نہیں سمجھتا، بلکہ اس بات کی یاد دہانی سمجھتا ہوں کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا اور بہتر بنانا باقی ہے۔ میرے نزدیک ادبی شناخت صرف انعامات یا اشاعتوں سے نہیں بنتی؛ اس کے لیے مسلسل مطالعہ، محنت، اپنی غلطیوں کی اصلاح اور قارئین کے ساتھ ایک بامعنی تعلق بھی ضروری ہے۔

میری غزلوں کا مجموعہ ’’سب کی رہبری‘‘ اور تاریخی کتاب ’’تاریخِ یادگیر‘‘ زیرِ ترتیب ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے میری کوشش ہے کہ ایک طرف اپنی شاعری کو کتابی صورت میں جمع کر سکوں اور دوسری طرف اپنے علاقے کی تاریخ و شناخت سے متعلق مواد کو محفوظ کرنے میں حصہ لے سکوں۔ یہ دونوں کام میرے لیے الگ الگ ذمہ داریاں رکھتے ہیں: شاعری میں ذاتی احساس اور تخلیقی اظہار کی گنجائش ہے، جب کہ تاریخی کام میں تحقیق، حوالوں کی صحت اور معلومات کی تصدیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

تدریس، موجودہ زندگی اور مستقبل کی سمت

زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آج میں جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، کرناٹک میں مہمان معلم کی حیثیت سے بچوں کو ریاضی اور سائنس پڑھاتا ہوں۔ روزگار کے مختلف تجربات کے بعد تدریس سے وابستگی میرے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہاں بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے اپنے اسکول کے دن، اساتذہ کی رہنمائی اور والد کا سوال یاد آتا ہے: ’’تم نے اس سے کیا سیکھا؟‘‘

میں چاہتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم صرف کتابی معلومات تک محدود نہ رہے۔ وہ سوال کریں، غور کریں، اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور علم کو عملی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ تدریس میں مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ استاد خود بھی سیکھنے کے عمل سے باہر نہیں ہوتا۔ بچوں کے سوالات، ان کی سوچ اور ان کے مختلف اندازِ فہم سے استاد کو بھی اپنے طریقۂ تدریس پر نظرثانی کا موقع ملتا ہے۔ میرے لیے تعلیم اور ادب دونوں میں یہی بات اہم ہے کہ انسان اپنے ذہن کو بند نہ کرے اور سیکھنے کے امکانات کو زندہ رکھے۔

جب میں اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر نظر ڈالتا ہوں تو خاندانی تجارت، والد کی محنت، بچپن کے شوق، اسکول کے تجربات، شاہین کے داخلے سے محرومی، فنی تربیت، اعلیٰ تعلیم کی کوشش، ہوٹلوں میں روزگار، والد کی وفات، بنگلورو کی زندگی، ادبی اساتذہ کی رہنمائی، منیر احمد جامی کی تربیتی سرگرمیوں، پہلی غزل کی اشاعت، صحافت، ادبی اعزاز اور تدریس کے مراحل ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ہر تجربے نے میری شخصیت پر کسی نہ کسی صورت اثر ڈالا ہے۔ کچھ واقعات نے خوشی دی، کچھ نے مایوس کیا، کچھ نے راستہ بدلا اور کچھ نے مجھے اپنی کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع دیا۔

میں اپنی زندگی کو کسی غیر معمولی کامیابی کی داستان کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے عام انسان کی طرح حالات کا سامنا کیا، اپنے لیے راستے تلاش کیے، کچھ مواقع حاصل کیے اور کچھ کھوئے۔ کئی مرتبہ اپنی دلچسپیوں اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن پیدا کرنا پڑا۔ اس سفر میں یہ سیکھا کہ انسان کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس نے کتنی منزلیں حاصل کیں، بلکہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر تجربے کے بعد کیا سیکھتا ہے اور آگے بڑھنے کی کتنی کوشش کرتا ہے۔

لوگ پڑھتے تھے زر، زمین، زیور کے لیے
رہبر تو پڑھتا بس سیکھنے کے لیے

اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ’’میں کون ہوں؟‘‘ تو شاید میرا جواب کسی ایک تعارف میں سمٹ نہ سکے۔ میں اطہر مبین ملا ہوں، قلمی نام رہبر تماپوری ہے؛ ایک طالبِ علم، معلم، شاعر، نثر نگار اور ادب کا مسافر۔ میری شناخت میرے خاندان، میری تربیت، میری تعلیم، میری محنت اور میرے ادبی سفر کے مختلف تجربات سے مل کر بنی ہے۔ میں کوئی مکمل شخصیت نہیں، بلکہ مسلسل تشکیل پاتی ہوئی ایک ذات ہوں۔ میرے پاس ابھی بہت کچھ سیکھنے، پڑھنے، لکھنے اور بہتر بنانے کے لیے باقی ہے۔

شاید میری اصل شناخت بھی یہی ہے کہ میں اپنی ذات کو مکمل سمجھ کر رک نہیں گیا۔ میں آج بھی سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، اپنی تحریروں کی اصلاح چاہتا ہوں، اہلِ قلم کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ زندگی نے مجھے یہ احساس دیا ہے کہ ہر نیا تجربہ انسان کے لیے ایک نیا سبق رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ اسے سمجھنے کے لیے تیار ہو۔

یہی میرا سفر ہے، یہی میری پہچان اور یہی میری خود نوشت کا حاصل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔