دکنی ادب پرکرناٹک اردو اکادمی کا ایک روزہ سیمینار، دکنی شاعروافسانچہ نگارجناب میرؔبیدری نے کیاخیرمقدم


بیدر۔ 14/اکٹوبر (پریس نوٹ) اردو اوردکنی زبان کے ممتاز شاعروادیب، اورافسانچہ نگارجناب میرؔبیدری (محمدیوسف رحیم میرؔبیدری) نے ایک تازہ صحافتی نوٹ جاری کرکے کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے”دکنی ادب“پر منعقدکئے جانے والے ایک روزہ سمینارکاخیرمقدم کیاہے۔ جناب میرؔبیدری نے سمینار کے کنوینر جناب منیراحمد جامی ؔ رکن کرناٹک اردو اکادمی کی دکنی ادب سے لگاؤ کو سراہتے ہوئے ان کے اس اقدام پر مبارک باد پیش کی ہے۔جب کہ چیرمین مولانا محمد علی قاضی، ایس اعجاز پاشاہ رجسٹرار کرناٹک اردواکادمی اور اراکین اکادمی کے دکنی زبان پر سمینار کرنے کے فیصلے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیاہے۔ محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے کہاکہ ”مجھے توقع ہے کہ دکنی ادب پر اس ایک روزہ سمینار کے بعد کرناٹک کے سرکاری اور غیرسرکاری (پرائیویٹ کالجس اور تنظیموں)دونوں سطحوں پر دکنی ادب کی بابت سنجیدہ پیش رفت دیکھنے کوملے گی۔ہمارا قطعہ ء دکن آج بھی دکنی زبان پرشاہانہ طریقے سے گزربسرکرتاہے۔ دکنی ویڈیوکلپ اس تیزی سے وائر ل ہوتی ہیں کہ دیکھنے والا حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ سوشیل میڈیا پر کئی ایک افراد دکنی میں خبریں پیش کرتے ہوئے دکنی صحافت کو استحکام بخش رہے ہیں۔ میرؔبیدری نے اس ضمن میں آئندہ کئے جانے والے اقدامات کابھی ذکرکیااور بتایاکہ آئندہ کے لئے دکنی ادب سے متعلق کام اس نہج پر بھی عین ممکن ہے (۱) ہمارے فنکار دکنی زبان میں شاعری کریں۔ عوامی حلقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی یہ زبان اس لائق ہے کہ صر ف شاعری ہی نہیں، افسانہ، افسانچہ، ڈرامہ اور خبریں بھی دکنی میں لکھی جائیں۔ (۲) دکنی زبان میں بچوں کاادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے (۳)دکنی خبروں کے لئے آزمائشی بنیادوں پر ای پیپر نکالنے اور اس کو عوامی مسائل سے جوڑنے کی سعی ہو(۴)جوویڈیوکلپ دکنی میں آرہی ہیں، ان کو دکنی زبان میں لکھ کر دکنی پڑھنے والوں تک بھی پہنچاناچاہیے۔ (۵)دکنی تہذیب اور دکنی تمدن کی بقا کے لئے حکومت سے نمائندگی ہو۔ اور دیگر کام بھی کئے جانے چاہیے۔ جناب میرؔبیدری نے زور دے کر کہاہے کہ ہرماہ /دوماہ میں دکنی محافل کاانعقاد زمینی سطح پر ہونا چاہیے۔اس ضمن میں دکنی جین زی کو آگے آنا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔