حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب کا اجمالی تعارف - (بانی و مہتمم ادارہ کہف الایمان حیدرآباد) - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - (استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)


حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب کا اجمالی تعارف 
(بانی و مہتمم ادارہ کہف الایمان حیدرآباد) - 
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - 
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 
پیش کش مولانا مجاہد الاسلام ملی 
(بانی و ناظم مدرسہ حقانیہ مالیگاؤں) 

شخص سے شخصیت بننے اور انفرادیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے معدودے چند مثالوں سے پَرے، عمومی طور پر جو لوگ کسی بھی میدان میں عظمت و رفعت اور ناموری کے بلند مقام پر پہنچے ہیں اس کے پیچھے ان کا جذبہ ایثار، اخلاق، محنت کوشی، فکری بالیدگی، دلسوزی اور عملی و ارادی قوتوں کا بھرپور دخل ہوتا ہے، ان ہی اوصاف کے حامل افراد معاشرہ میں فضل و کمال کے تابندہ و درخشندہ ستارے کہلاتے ہیں، زیرِ نظر تحریر میں ایک ایسی ہی شخصیت کا ذکر مقصود ہے جو اپنی علمی وسعت، فکری پختگی اور تقریری اثر پزیری سے اہلِ علم کے درمیان ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں مراد حضرت مولانا مفتی ابوبکرجابر قاسمی صاحب ہیں چوں کہ حضرت مفتی صاحب ماہِ نومبر کے اوائل میں شہرِ عزیز مالیگاؤں میں تشریف لا رہے ہیں اسی لیے ان کے تعارف پر قلم کو جنبیش دے کر خامہ فُرسائی کی کوشش کی گئی تاکہ شہریان حضرت مفتی صاحب کے مقام و مرتبہ اور علمی و فکری پختگی سے واقف ہوسکے چوں کہ تعارف سے ہی شخصیت کی اہمیت و عظمت واضح ہوتی ہے، 
⬜ تاریخ پیدائش و ابتدائی تعلیم 
حضرت مفتی ابو بکر جابر قاسمی صاحب کی پیدائش 10 مارچ 1981 میں صوبۂ تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی کے ایک اہم گاؤں مرخل میں ہوئی چوں کہ آپ کے والدِ بزرگوار دعوت و تبلیع سے منسلک ہیں اور بغرضِ دعوت و تبلیع متعدد ممالک کے سفر بھی کرچکے ہیں اسی دینی رنگ نے اُنھیں اپنے ہونہار بروا کے چکنے چکنے پاٹ کے محاوے پر صادق آنے والے فرزند کی تعلیم و تربیت پر اُبھارا چناں چہ ابتدائی مکتبی تعلیم اپنے قریب کے مکتب میں حاصل کی، پھر مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے علاقے سے دور بعض دیگر مدارس کا رُخ کیا جہاں پر یکسوئی کے ساتھ علومِ اسلامیہ کے حصول میں منہمک ہوگئے 
⬜ متوسطات و منتہی تعلیم
آپ نے اپنا عملی سفر جاری رکھتے ہوئے مدرسہ مفتاح العلوم (گجرات) جامعہ مظہر سعادت (ہانسوٹ گجرات) جامعہ اشاعت العلوم( اکل کوا مہاراشٹر) اور منبع رشد و ہدایت، اخلاص کا تاج محل دارالعلوم دیوبند " مذکورہ بالا مدارس میں حفظ تا افتاء تک کی تعلیم مکمّل کی، یہی پر آپ کی فطری صلاحیتیں اور خداداد ذہانت کے جوہر آشکارا ہوئے چناں چہ مذکورہ بالا مدارس کے علمی و تربیتی ماحول اور علم و فن کی جلوہ طرازیوں میں گُم ہوتے رہے اور نامور اصحابِ علم و فضل سے بھرپور انداز میں اکتساب فیص کرتے رہیں آپ کی علمی استعداد اس کا بین ثبوت ہے، 
⬜ اصلاحی تعلق و بیعت
درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد سندِ فضیلت سے بہرہ ور ہونے کے بعد آپ نے اپنا اصلاحی تعلق ملک کے نامور صاحبِ نسبت عالم دین ولی کامل مستجاب الدعوات حضرت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی رح ( برِّصغير میں علم و تحقيق کی پہچان نامور عالم دین حضرت مولانا نور الحسن راشد صاحب کے والدِ بزرگوار ہیں) سے قائم کیا 2019 میں حضرت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی رح کا انتقال ہوگیا تو اپنی ظاہری و باطنی اصلاحی کے لیے، فی الحال 2006 سے تا حال تلنگانہ کے امیرِ شریعت عارف باللہ حضرت شاہ مولانا جمال الرحمن صاحب مفتاحی سے بیعت و استرشاد کا تعلق قائم کیا، اور پابندی کے ساتھ اوراد و وظائف پر کاربند ہے چناں چہ مشاغل کی بے پناہی کبھی بھی اوراد و وظائف میں مخل نہیں ہوتی، نیز اپنے شیخ کی صحبتِ بافیض سے وابستہ ہوکر ان کے علمِ بیکراں سے خوشہ چینی کررہے ہیں، للہ الحمد، حضرت مولانا جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم قُطبِ دکن سلطان العارفين حضرت شاہ صوفی غلام محمد صاحب رح کے فرزند اور صاحبِ تصانیف کثیر مفسر قرآن حضرت شاہ مولانا کمال الرحمٰن صاحب قاسمی کے برادرِ خورد ہیں یعنی عینان تجریان سے بھرپور استفادہ کا موقع ملا اور مل رہا ہے ،
⬜ تدریسی خدمات اور بیرونی ممالک کے اسفار
آپ نے 2007 تا 2019 تقریباً بارہ سال تک خیر المدارس (حیدرآباد) میں عربی دوم سے لیکر افتاء کی کتابوں کا درس دیا جس سے آپ کی علمی پختگی عمیق مطالعہ اور فنون پر کامل درک آشکارا ہوتا ہے پھر 2019 میں کہف الایمان کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جہاں پر ناظرہ، حفظ، پانچ سالہ عالمیت، مومنہ کورس اور قرأت سبعہ عشرہ تک کی تعلیم کا ٹھوس و پختہ نظم ہے، اسی طرح پیشہ تدریس کے ساتھ سعودی عرب، مصر، ترکی اور ملک کے مختلف صوبوں میں 22 تبلیغی چلے مکمّل کئے یقیناً یہ احساسِ ذمہ داری کا بیّن ثبوت ہے،
⬜ دیگر اصلاحی کوششیں
حضرت مفتی ابو بکر جابر قاسمی صاحب عُمر کے اعتبار سے 45 کے سال میں ہیں مگر خداوند قدوس آپ سے خوب کام لے رہا ہیں چناں چہ آندھرا پردیش، تلنگانہ اور دیگر صوبوں کے متعدد مدارس و اسکولوں کے آپ ذمہ دار ہیں، اسی طرح آپ شاہین گروپ، ایم ایس ایجوکیشن، الفلاح انٹرنیشنل، دار ارقم اور انس ماڈل اسکول جیسے اداروں میں اساتذہ اور طلباء کے درمیان ماہانہ و سالانہ تربیتی مجالس کا انعقاد کرتے ہیں یقیناً یہ صالح معاشرہ کی ایک اہم کوشش ہے نیز حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب کی سرپرستی میں ملک کے مختلف اکابر اور بزرگان کی معیت و صحبت میں امتِ مسلمہ کے متفرق طبقات کے لیے سالانہ تربیتی اجتماعات آپ ہی کے زیر نگرانی میں منعقد کئے جاتے ہیں، ان اجتماعات میں بہت اہتمام سے تربیت الفضلاء، مدارس و مکاتب کمیٹیاں، قریش برادری، کاروباری افراد وُکلا، قانون دان حضرات، پروفیشنلز (انجینئر آئی ٹی پروفیشنلز) ڈاکٹرس تربیت الفاضلات اور اسکولوں کے ٹرسٹ شریک ہوتے ہیں 
⬜ تصنیف و تالیف اور خطاب
آپ نے امتِ مسلمہ کے سلگتے ہوئے مسائل اور اہم و ضروری موضوعات پر مختصر جامع آسان اور مدلل کتابیں تصنیف کی ہیں ان کتابوں کی تحقیق و تصنیف میں دیگر علماء کرام کا تعاون بھی شامل ہیں جن کی تعداد 30 ہیں مثلاً رئیل اسٹیٹ احکام و مسائل، حرمت مصاہرت، مستورات کی جماعتیں، عصری علوم، حضرت خلیفہ مہدی، جديد طبی مسائل، حج و عمرہ کے مسائل، اطاعت والدین کی حدود تقسیم جائداد کے اسلامی اصول، منظم مدارس 3 حصہ، مسنون نکاح، مسنون معاشرت 2 حصہ وغیرہ، مشتے از خر وارے بطورِ نمونہ معدودے چند کتابوں کے اسماء کو ذکر کردیا ورنہ مفتی صاحب کی علمی و فکری جولانی کا اندازہ کتابوں کے مطالعہ سے ہی ہوگا، جیسا کہ شہزادی زیب النساء نے اپنے شعر کے بابت فرمایا تھا " جس وقت ایرانی شاعر نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی" دَر سخن مخفی منم چوں بوئے گُل در برگِ گل ہرکہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا " میں اپنے کلام میں اسی طرح مخفی اور پوشیدہ ہوں،جس طرح پھول کی خوشبو پھول کی پتیوں میں مضمر رہتی ہے جو مجھ کو دیکھنا چاہیے وہ میرے کلام میں مجھ کو دیکھ سکتا ہے" یعنی صاحبِ کتاب کا تعارف اس کی تصنیف کردہ کتابیں ہوتی ہیں، مزید برآں تصنیفی خدمات کے علاوہ آپ کو تقریر و خطابت پر بھی کامل درک حاصل ہے چناں چہ مختلف مجالس اور پروگرام میں کیے گئے بیانات کو آپ کے ادارے کے اساتذہ کرام و دیگر اہلِ علم حضرات نے قلم بند کیا ہے جن کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، چناں چہ نیٹ پر آپ کے بیانات مختصر و مطول کتابی شکل میں دستیاب ہے مطالعہ کریں اور سر دھنیے! 
⬜شہر مالیگاؤں تشریف آوری
حضرت مفتی ابو بکر جابر قاسمی صاحب دیگر اکابر علماء کرام کے ہمراہ 11 نومبر 2026 بروز بدھ مالیگاؤں تشریف لا رہے ہیں اسی مناسبت سے 11 نومبر 2026 بروز بدھ صبح ساڑھے گیارہ بجے سے عصر تک نعمانی مسجد مدرسہ معھد ملت (گولڈن نگر) میں تربیت العلماء و الفضلاء کے عنوان سے ایک اہم پروگرام کا انعقاد ہوگا جس میں حضرت مفتی صاحب کا خصوصی خطاب ہوگا، چوں کہ حضرت مفتی صاحب ایک کہنہ مشق، تجربہ کار، ٹھوس و پختہ علمی و انتظامی استعداد کے مالک ہیں نیز اکابر کے مُعتمدِ خاص اور منظورِ نظر ہیں ایسی علمی شخصیت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے،  
⬜ ایک اہم گزارش
ادارہ فیضِ ابرار اور مدرسہ حقانیہ کے زیر اہتمام مختلف پروگرامات ترتيب دیئے گئے ہیں جس میں حضرت مفتی صاحب اور دیگر اکابر علماء کرام بطورِ خاص مقرر خصوصی ہیں اس لیے اہلیانِ شہر سے گزارش ہے کہ ان تمام پروگرام میں ضرور شرکت کریں، 

نیز ان پروگرام کے بارے میں مکمّل جانکاری کے لیے پروگرام کے کنوینر مولانا مجاہد الاسلام ملی صاحب سے رابطہ کریں
9226395095

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔