انا کی دیواریں گرا دیجیے اور دلوں کے فاصلے مٹا دیجیےجناب محمد فہیم احمد صاحب کا جامعۃ البنات حیدرآباد میں طالبات سے خطاب
حیدرآباد۔21/اکتوبر(راست)انا انسان کو قدم قدم پر ذلیل کرتی ہے یہاں تک کہ انسان خود اپنی نظر میں بھی گر جاتا ہے رشتے ٹوٹتے ہیں خاندانوں میں محبت باقی نہیں رہتی انا انسان کو اپنی نظر میں بڑا اور دوسروں کی نظر میں چھوٹا کر دیتا ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر غرور گھمنڈ جیسی چیزوں سے مکمل طور پر بچنے کی تاکید کی ہے اس لیے عزیز طالبات انا کی دیواریں گرا دیجئے اور دلوں کے فاصلے مٹا دیجیے اور ساری زندگی اس پر قائم رہی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان صرف اپنی ذات کی حد تک محدود ہو جاتا ہے وہ دوسروں کی طرف نظر تک نہیں کرتا اپنے اڑوس پڑوس کا بھی خیال نہیں کرتا کیونکہ اسے صرف اپنا خیال ہوتا ہے جبکہ اپنی ذات کے سوا بھی ایک دنیا ہے اور انسان کو اپنے علاوہ دوسروں کے لیے بھی جینا چاہیے آج وہی لوگ کامیاب ہیں جو دوسروں کے لیے کچھ کیا کرتے ہیں اسی کے ذریعے زندگی کو ایک مقصد بھی ملتا ہے چنانچہ میرا خود کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ جو کچھ قران مجید مجھے یاد تھا اس کی تلاوت کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا سامنے سے ایک بڑی گاڑی والے نے مجھے ٹکر دے دی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے میں بچ گیا میں نے غور کیا کہ آخر میری زندگی کا مقصد کیا ہے اللہ نے مجھے کیوں زندہ رکھا کچھ نہ کچھ تو اس کی وجہ ہوگی غور و فکر کرنے پر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے اللہ نے دوسروں کے لیے زندہ رکھا ہے شاید رب کی مرضی یہی تھی چنانچہ آج 45 سال سے امریکہ میں مقیم ہوں خیر و بھلائی کے کام کے لیے خاص طور پر پڑوسیوں کی دیکھ بھال اور ان کی صحیح رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ مجھ سے کام لے رہا ہے،ان خیالات کا اظہار ممتاز علمی شخصیت محترم جناب محمد فہیم احمد صاحب صدر امریکن مسلم ایسویشن فارنیرز نے جامعۃ البنات حیدرآباد سعید آباد میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،معزز مہمان نے کہا کہ آپ اپنی ذات کی حد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اپنے پڑوس سے بھی واقف ہوں اور ان کے لیے کام کریں آپ کو بہت خوشی حاصل ہوگی اور دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ملے گی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے پڑوسیوں کا باضابطہ حق قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے،کل قیامت کے دن ہم سے یہ بھی سوال کیا جائے گا کہ تم تو پیٹ بھر کر کھاتے رہے لیکن تمہارے قریب میں تمہارا پڑوسی بھوکا سونے پر مجبور ہو گیا اس وقت ہم کیا جواب دیں گے،مہمان محترم نے مختلف تجربات کی روشنی میں طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آج پر توجہ دو اور کل کو بھول جاؤ اور آئندہ کس نے دیکھا ہے اگر آپ نے آج اپنے آپ پر توجہ نہیں دی تو کل کی کیا امید کی جا سکتی ہے اسی طرح نوکری کے بجائے اپنا کاروبار اور اپنا بزنس شروع کیا جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آخر ہم جس سوسائٹی کے اندر رہ رہے ہیں وہاں کس چیز کی ضرورت سب سے زیادہ ہے بے کار کی ویڈیوز دیکھنے اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے سے بچو اس سے کوئی فائدہ نہیں،سوشل میڈیا پر تو آج کل بعض جاہل قسم کے لوگ بیٹھے ہیں،آپ ان کی بات سن کر نہ صرف یہ کہ گمراہ ہوں گے بلکہ اپنے اچھے کاموں کے تعلق سے بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جائیں گے،اور اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں جنات کے وسوسوں سے پناہ مانگنے کا تذکرہ کیا وہیں انسانوں کے وسوسے سے بھی پناہ مانگنے کا ذکر فرمایا،محترم جناب محمد معراج الدین سکریٹری جامعۃ البنات نے مہمان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ جناب فہیم صاحب انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور امریکی سیاست میں ایکٹیو رہے ہیں اور اپنے پڑوسیوں کے لیے مثالی کارنامے انجام دے رہے ہیں، پڑوسیوں کے لیے باضابطہ ایک تنظیم چلا رہے ہیں اور اس کے ذریعے سے سینکڑوں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ ممتاز کالج اور عثمانیہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں انہوں نے یو پی ایس سی ایگزام دیا تھا اور اعلیٰ رینک سے پاس کیا مگر وہ امریکہ منتقل ہو گئے اور آج مختلف انداز میں دوسروں کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مہمان محترم کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عزیز طالبات علم کی انا سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے اس کے ذریعے سوائے ذلت اور پستی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا،اور ہر ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہیں،قبل ازیں محترم جناب مولانا حافظ رفیق احمد نظامی ناظم جامعہ نے افتتاحی کلمات پیش کیے اور کہا کہ آپ کہیں بھی رہیں دین کا کام کرتے رہیں، انہوں نے معزز مہمان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں کے ہیں لیکن امریکہ جانے کے باوجود دین کے کاموں سے وابستہ رہے۔ یہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ ہم کہیں بھی ہوں اور کہیں بھی جائیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت انجام دیتے رہیں، اس موقع پرطالبات کے علاوہ اساتذہ و معلمات بھی موجود تھے۔مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی نے معزز مہمان کا شکریہ ادا کیا۔
Comments
Post a Comment