ضلع بیدر میں ضلع پنچایت انتخابات کی گہماگہمی، ٹکٹ کے دعوے دار سرگرم - سرمایہ دار امیدواروں کی تلاش، ٹکٹوں کی تقسیم اور باغی امیدواروں کے امکانات پر سیاسی حلقوں میں بحث
بیدر، 13 اکتوبر (نامہ نگارمحمد عبدالصمد): ضلع بیدر میں ضلع پنچایت انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں بتدریج تیز ہونے لگی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے علاوہ آزاد امیدواروں کے ممکنہ دعوے دار بھی اپنی اپنی سطح پر انتخابی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر نت نئے انداز میں تشہیری مہم چلائی جارہی ہے۔ کہیں عوامی خدمات اور سماجی سرگرمیوں کو اجاگر کیا جارہا ہے تو کہیں عوامی رابطوں اور سیاسی وابستگیوں کے ذریعے اپنی دعوے داری مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ انتخابی ماحول کے پیش نظر درگاہوں، عاشورخانوں، مندروں اور دیگر مذہبی اداروں کے علاوہ مختلف اہم مقامات پر حاضری دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ ممکنہ امیدوار مذہبی شخصیات، بزرگوں اور بااثر افراد سے ملاقاتیں کرکے دعاؤں اور آشیرواد کی درخواستیں کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے حامیوں کے ذریعے عوامی رابطوں کو وسعت دینے اور اپنی مقبولیت کا تاثر قائم کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔
سیاسی منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے متعدد دعوے داروں کے پاس اپنا مضبوط ووٹ بینک موجود ہے، جبکہ کئی آزاد امیدوار بھی اپنے اپنے علاقوں میں اچھی خاصی عوامی تائید رکھتے ہیں۔ ایسے میں ضلع پنچایت کی نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب سیاسی جماعتوں کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوگا۔ کسی ایک دعوے دار کو ٹکٹ دینے کی صورت میں دوسرے مضبوط امیدواروں کی ناراضگی جماعت کے لیے انتخابی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر کسی جماعت سے طویل عرصے سے وابستہ اور عوامی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے امیدوار کو ٹکٹ سے محروم رکھا جاتا ہے تو وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اتر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پارٹی کے روایتی ووٹ تقسیم ہونے کا امکان رہتا ہے، جس سے مخالف امیدواروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح ٹکٹ سے محروم امیدوار کی بغاوت جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِبحث ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں، جن کی مقامی سطح پر سرگرمیاں محدود دکھائی دیتی ہیں، انتخابات کے پیش نظر سرمایہ دار اور مالی وسائل رکھنے والے امیدواروں کی تلاش میں ہیں۔ بعض مقامات پر انتخابی ٹکٹوں کے لیے مالی لین دین کی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک اہم سوال ہے کہ امیدواروں کے انتخاب میں عوامی مقبولیت، سماجی خدمات، پارٹی سے وابستگی اور انتخابی صلاحیت کو ترجیح دی جائے گی یا مالی وسائل بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
ٹکٹوں کی تقسیم کے مرحلے میں سیاسی جماعتوں کو امیدواروں کی عوامی مقبولیت، مقامی سطح پر ان کے ووٹ بینک، سماجی اثر و رسوخ، سابقہ خدمات اور عوامی مسائل کے تئیں ان کی سنجیدگی کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اگر مقامی سیاسی حالات اور زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا تو جماعتوں کو اندرونی اختلافات اور باغی امیدواروں کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
دوسری طرف آزاد امیدوار بھی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر کسی آزاد امیدوار کی اپنے حلقے میں مضبوط عوامی بنیاد موجود ہے تو وہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔ بالخصوص ایسے حلقوں میں جہاں متعدد دعوے دار میدان میں ہوں، ووٹوں کی تقسیم انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
فی الحال سوشل میڈیا پر تشہیری سرگرمیوں، عوامی ملاقاتوں اور مختلف مقامات پر حاضریوں کے ذریعے اپنی موجودگی درج کرانے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اصل سیاسی امتحان ٹکٹوں کی تقسیم اور امیدواروں کے اعلان کے بعد شروع ہوگا۔ کون ٹکٹ حاصل کرتا ہے، کون ناراض ہوکر آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترتا ہے اور کون اپنے حامیوں کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں کے اہم موضوعات ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں امیدواروں کے انتخاب میں کس حکمت عملی کو اختیار کرتی ہیں اور دعوے داروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں انتخابی منظرنامے کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ ضلع بیدر میں ضلع پنچایت انتخابات کی گہماگہمی کے ساتھ سیاسی جوڑ توڑ، ٹکٹوں کی تقسیم اور آزاد امیدواروں کی سرگرمیوں پر عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔
Comments
Post a Comment