حیدرآباد میں بین الاقوامی یومِ ترجمہ کی پُروقار تقریب، نمایاں شخصیات کو خصوصی اعزازات - ترجمہ، مصنوعی ذہانت، لسانی تنوع اور دکنی ورثے کے تحفظ پر اہلِ علم و دانش کا اظہارِ خیال۔


حیدرآباد۔یکم اکتوبر (پریس نوٹ)بین الاقوامی یومِ ترجمہ کے موقع پر جے آئی ایل ٹی کانفرنس ہال، حیدرآباد میں ایک پُروقار علمی، ادبی اور ثقافتی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت مولانا عبدالرحیم خرم عمری، جامعی نے کی، جبکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ فن کار عالی جناب عبد اللطیف فاروقی نے سرپرستی فرمائی۔ تقریب میں عالی جناب احمد ارشد حسین، ڈائریکٹر نوبل انفو ٹیک اور جناب راشد احمد، ڈائریکٹر ای بھاشا سیتو پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت علمی، ادبی، لسانی، سماجی اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ متعدد شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔یہ تقریب سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء کے سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی، جو28 ستمبر تا 12 اکتوبر2026ء جاری ہے۔ تقریب کے دوران ترجمہ کی اہمیت، اس کے بدلتے ہوئے تقاضوں، مصنوعی ذہانت اور ترجمہ، لسانی تنوع، لسانی حقوق، بین اللسانی روابط اور دکنی تہذیب و ورثے کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ مختلف زبانوں، تہذیبوں اور معاشروں کے درمیان مکالمے، رابطے اور باہمی تفہیم کا مؤثر ذریعہ ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور لسانی ٹیکنالوجی نے ترجمے کے میدان میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں، تاہم زبان، ثقافت اور تاریخی تناظر کی صحیح تفہیم کے لیے انسانی علمی و لسانی صلاحیت کی اہمیت بھی برقرار ہے۔
تقریب کے دوران مختلف شعبہ ہائے حیات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء کے تحت خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر محمد وسیع الدین، مترجم و محقق کو ترجمہ اور تحقیق کے میدان میں ان کی قابلِ قدر خدمات کے اعتراف میں ”درخشاں ستارہ اعزاز“ سے نوازا گیا۔جناب ریاست علی اسرار، بانی کبکیج فاؤنڈیشن کو فن اور دکنی تاریخ کی تشریح و بازیافت کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ”پسِ پردہ خدمات اعزاز“ سے سرفراز کیا گیا۔اسی طرح جناب سید قطب الدین مسعود، سکریٹری، انجمن برائے سماجی و معاشی پسماندہ طبقات کی خود اختیاری کو نمایاں قانونی خدمات اور عوامی سطح پر حقوق کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں ”پسِ پردہ خدمات اعزاز“ پیش کیا گیا۔جناب محمد عبدالغفار، صدرِ شعبہ خطاطی، ادارہ ادبیاتِ اردو کو خطاطی کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ”عبقری خطاط“ کے خصوصی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
اس تقریب کے انعقاد اور سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء کے انتظام و انصرام میں جے آئی ایل ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابو مظہر خالد صدیقی کا اہم کردار رہا۔ڈاکٹر ابو مظہر خالد صدیقی گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقوامی یومِ ترجمہ کے انعقاد کے ذریعے ترجمہ کے علمی، ادبی اور عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔2017ء سے، جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے30ستمبر کو بین الاقوامی یومِ ترجمہ کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی، وہ بلاناغہ اس دن کی مناسبت سے مختلف علمی و فکری سرگرمیوں کا اہتمام کرتے آرہے ہیں۔
ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد ترجمہ کی علمی و عملی اہمیت کو اجاگر کرنا، مختلف زبانوں کے درمیان رابطے کو فروغ دینا، لسانی تنوع اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی طرف توجہ مبذول کرانا اور ترجمے کے جدید تقاضوں، بالخصوص مصنوعی ذہانت اور لسانی ٹیکنالوجی کے امکانات سے اہلِ علم اور عوام کو روشناس کرانا ہے۔
تقریب کے شرکاء اور اعزاز یافتگان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ترجمہ کے فن و پیشے کو مزید فروغ دینے، لسانی تنوع اور لسانی حقوق کے تحفظ، مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان روابط کو مستحکم کرنے اور بالخصوص دکنی تہذیبی و تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر تمام اعزاز یافتگان کو مبارک باد پیش کی گئی اور ان کی علمی، ادبی، فنی، سماجی اور ثقافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترجمے کو محض ایک لسانی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے علم، تہذیب، تاریخ اور ثقافت کے باہمی تبادلے کا مؤثر وسیلہ بنایا جائے۔
یہ پروگرام مزید بارہ دنوں تک جاری رہے گا۔ جس میں قدیم کتابوں کی نمائش اور قدیم دستاویزات کا ترجمہ اور عملی امور کی نمائش کی جائے گی۔ جس کی کوئی فیس نہیں ہے۔ مزید معلومات کے لئے 7396719556پر رابطہ کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔