ولا الضالین کیا ہے؟از قلم : ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔
ولا الضالین کیا ہے؟
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔
ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں سورہ فاتحہ میں ذکر کیے ہوئے تین گروپ کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے - نمبر ایک وہ خوش قسمت گروپ جن کے نیک اعمال سے اللہ راضی ہو گیا اور آخرت میں جنت جیسا عظیم الشان اور سب سے بڑا انعام دیا-
دوسرا گروپ المغضوب علیہم یعنی یہودی جن کی سرکشی نافرمانی شرک کرنے کی عادت نبیوں کا قتل سود کا کھانا حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بولنا ، جو شخص بھی انصاف کا مطالبہ کرے اسے قتل کر دینا وغیرہ وغیرہ- ان سب انتہائی غلط گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناراض ہوگیا -
اب ہم تیسرے گروپ یعنی ولا الضالین کے جرائم کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہر مسلمان ان دو گروپس کی بھیانک غلطیوں سے دور رہے ورنہ اللہ تعالیٰ ایسے مسلمان سے بھی ہمیشہ کے لئے ناراض ہو جائے گا-
حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے قرآن کریم میں نصاریٰ اور مسلم سوسائٹی میں عیسائی کہلائے- یہ قوم بھی یہودیوں کی طرح ہی نکلی - اس قوم نے بھی شرک اور کفر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی - عیسائیوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ گستاخی کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا لیا - اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اس بے تکی بات کو بہت برا کہا - سورہ اخلاص یعنی قل ہو اللہ احد ، اللہ الصمد ، لم یلد ولم یولد ، ولم یکن له کفوا احد جیسی بے مثال سورہ نازل فرمائی- اے محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دو اللہ صرف ایک ہے - اللہ ہر طرح سے بے نیاز ہے - یعنی اس کی بنائی ہوئی دنیا اور تمام انسانوں اور جنوں میں سے کسی کی بھی کسی طرح کی ضرورت اللہ تعالیٰ کو نہیں ہے - نہ وہ پیدا ہوا اور نہ پیدا کیا گیا اور نہ اس کے برابر کوئی بھی ہو سکتا ہے-
دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ما کان للہ أن یتخذ من ولد سبحنه ، إذا قضی أمرا فانما یقول له کن فیکون اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کوئی بیٹا اپنے لئے بنائے- وہ تو جب کوئی بات ٹھان لیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا بس وہ بات ہو جاتی ہے-سورہ مریم آیت نمبر 35-
ایک اور جگہ بیان فرمایا : و قالوا اتخذ الرحمن ولدا، لقد جئتم شیئا ادا ، تکاد السموات یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا ، وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا وہ ( عیسائی ) کہتے ہیں رحمان نے ایک بیٹا بنا لیا ہے-یقینا تم لوگوں بہت ہی بری بات لے آئے- اس بری بات کی وجہ سے کہیں آسمان کے ٹکڑے نہ ہو جائیں اور زمین نہ پھٹ پڑے اور پہاڑ ریزہ ریزہ نہ ہو جائے-
جس اعلیٰ ذات ( اللہ تعالی ) کی طرف اس قدر جھوٹی بات کہی گئی اس نے اس غلط بات کی جگہ جگہ قرآن مجید میں تردید کر دی ہے-
اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے ہمیں مسلمان بنایا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیری ذات اکیلی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور ہم سب یہود و نصاریٰ کی ہر بات کا انکار کرتے ہیں -
Comments
Post a Comment