میرا مطالعہ - تبصرہ بر کتاب : سوانح شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا علیہ الرحمہ - مصنف : مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تبصرہ نگار : افضال احمد ملّی


میرا مطالعہ - 
تبصرہ بر کتاب : 
سوانح شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا علیہ الرحمہ - 
مصنف : 
مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ 
تبصرہ نگار : افضال احمد ملّی، ( 28 اکتوبر 2026) 

     علوم وفنون کا بیش بہا خزانہ ہم تک یونہی نہیں پہنچا، ان کو جمع کرنے میں ہمارے اسلاف نے بے پناہ جد و جہد صبر، استقامت، جانکاہی اور دلسوزی کاثبوت دیا ہے؛ راہ طلب کی صعوبتوں، مشقتوں کو جھیلا اور سرمایۂ علم وفن جمع کرتے رہے۔ ان نفوسِ قدسیہ کی داستانِ حیات نہ صرف باعث فخروناز بلکہ عزم وحوصلہ کو جواں کرنے اور راہ طلب میں ہمت، صبر، محنت کو پروان چڑھانے کا سبب ہوتی ہیں،
   انہی نفوس قدسیہ اور رجال کار میں ایک شخصیت حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا علیہ الرحمہ کی گزری ہے،
ماہ اکتوبر 2026 میں بندہ نے حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی تالیف کردہ کتاب *سوانح شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا* کا مطالعہ کیا.

   تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حضرت شیخ کے خاندانی پس منظر، اور ان کے اجداد میں سے ممتاز علمی و دینی افراد کا تعارف پیش کیا گیا ہے،
جھنجھانہ اور کاندھلہ کے اس صدیقی خاندان میں ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے باکمال افراد کو پیدا فرمایا جسے پڑھ کر دل اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ *ایں خانہ ہمہ آفتاب است*
نیز آپ کے حصول علم کی جد جہد اور میدان عمل کی دعوت و تبلیغ اور اصلاح ظاہر و باطن کی تمام کاوشوں کو بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے.
اسی طرح آپ کے انفرادی و اجتماعی معمولات ( خاص طور پر رمضان المبارک میں آپ کے یومیہ ایک ختم قرآن) کو پڑھ کر ایک جوش و جذبہ پروان چڑھتا ہے، اور عزم و حوصلے کو جلاء ملتی ہے
     اس کتاب میں حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا علیہ الرحمہ کی تعلیمی و تدریسی خدمات کے تذکرے اور تصنیف و تالیف کی سرگرمیوں کا ذکر بھی ہے،
نیز آپ کی بلند ہمتی، عالی حوصلگی، عبادت و قرب الہی کے جذبے، اور زھد و توکل کو انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے،
ویسے تو پوری کتاب ہی اہم ہے، لیکن اس کے اندر مجھے جو سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والی چیز ملی وہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے عشاق الہی کیلئے جو خوبصورت مثال شعر میں بیان کی وہ دل کو بھا گیا
حضرت تحریر فرماتے ہیں کہ :
آدم کا جسم جبکہ عناصر سے مل بنا
کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا
ایک مرتبہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں...

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔