مراٹھواڑہ پدوی دھر انتخاب: اٹھارہ سالہ اقتدار کا امتحان، سیاسی بساط پر کس کی چال کامیاب ہوگی؟ - سید فاروق احمد قادری، بیڑ، مہاراشٹر


مراٹھواڑہ پدوی دھر انتخاب: اٹھارہ سالہ اقتدار کا امتحان، سیاسی بساط پر کس کی چال کامیاب ہوگی؟ - 
سید فاروق احمد قادری، بیڑ، مہاراشٹر

کیا ستیش چوہان اپنی سیاسی برتری برقرار رکھ سکیں گے؟ کیا جئے دت شیرساگر کنگ میکر ثابت ہوں گے؟ یا تعلیم یافتہ ووٹر نئی تاریخ رقم کریں گے؟
تحریر: سید فاروق احمد قادری، بیڑ
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ پدوی دھر انتخاب نے اس مرتبہ ایک دلچسپ سیاسی صورت اختیار کرلی ہے۔ انتخابی میدان میں تقریباً 41 امیدواروں کی موجودگی نے مقابلے کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ بظاہر مقابلہ مہایوتی، شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے امیدواروں کے درمیان دکھائی دیتا ہے، لیکن سیاسی بساط پر کچھ ایسے مہرے بھی موجود ہیں جو آخری وقت میں انتخابی حساب کتاب بدل سکتے ہیں۔
اٹھارہ سال کی نمائندگی، مگر کارکردگی کا حساب کون دے گا؟
ستیش چوہان گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پدوی دھر حلقے کی نمائندگی کرتے آئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اٹھارہ برسوں میں مراٹھواڑہ کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں، گریجویٹ امیدواروں، اساتذہ اور ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کے مسائل کس حد تک حل ہوئے؟
کیا تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے؟ کیا سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں کی رکاوٹیں دور ہوئیں؟ کیا گریجویٹ ووٹروں کی آواز ایوان تک مؤثر انداز میں پہنچائی گئی؟
یہ سوالات کسی ایک امیدوار کی مخالفت نہیں بلکہ جمہوری جواب دہی کا تقاضا ہیں۔ اٹھارہ سال کی نمائندگی یقیناً ایک طویل مدت ہے، مگر جمہوریت میں مدتِ اقتدار سے زیادہ اہم اس دوران انجام دی گئی خدمات ہوتی ہیں۔
جئے دت شیرساگر: سیاسی خاموشی کے پیچھے کوئی نئی حکمت عملی؟
بیڑ ضلع کی سیاست میں سابق وزیر جئے دت شیرساگر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ضلع میں ان کا سیاسی اثرورسوخ، تعلیمی اداروں، امدادِ باہمی کے شعبے اور مختلف سماجی اداروں سے ان کی وابستگی سیاسی حلقوں میں موضوعِ گفتگو رہی ہے۔
ماضی میں سیاسی جماعتوں کی تبدیلی اور انتخابی ٹکٹ کے معاملات کے پس منظر میں ایک اہم سوال ابھر رہا ہے کہ کیا جئے دت شیرساگر اس انتخاب میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں؟
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کریں گے یا کس کے خلاف سیاسی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ لیکن اگر ان کے حامی اور سیاسی رابطے کسی ایک سمت میں متحرک ہوئے تو بیڑ ضلع میں ووٹوں کے حساب کتاب پر اس کا اثر پڑنے کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
سیاست میں کبھی کبھی انتخاب لڑنے والا نہیں بلکہ انتخاب کا رخ بدلنے والا شخص زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ کیا جئے دت شیرساگر اس مرتبہ کنگ میکر ثابت ہوں گے؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
مہایوتی کے سامنے اپوزیشن کا چیلنج
شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس کی جانب سے ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کی جانب سے دیپک گھوگے انتخابی میدان میں ہیں۔ یہ مقابلہ محض تین سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ تنظیمی طاقت، مقامی اثرورسوخ، سیاسی وفاداری اور ووٹروں کے اعتماد کا امتحان بھی ہے۔
مراٹھواڑہ کی سیاست میں شرد پوار کا سیاسی تجربہ اور ٹھاکرے گروپ کی تنظیمی سرگرمیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم ووٹوں کی تقسیم کس کے حق میں جائے گی اور کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی، اس کا اندازہ ابھی آسان نہیں۔
تعلیم یافتہ ووٹر اور بدلتی ہوئی سیاسی سوچ
پدوی دھر حلقے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ووٹر تعلیم یافتہ ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ محض سیاسی نعروں، جماعتی وابستگی یا بڑے رہنماؤں کی اپیلوں کے بجائے امیدواروں کی کارکردگی، اہلیت اور مستقبل کے منصوبوں کو بھی اہمیت دیں گے۔
بے روزگاری، مقابلہ جاتی امتحانات، بھرتیوں میں تاخیر، امتحانی شفافیت اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے مسائل انتخابی بحث کا حصہ بننے چاہئیں۔
ملک میں انتخابی شفافیت، ووٹر فہرستوں اور انتخابی نظام کے بارے میں اٹھنے والے سوالات بھی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، تاہم ان معاملات سے متعلق الزامات اور دعووں کو ثابت شدہ حقائق سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
41 امیدوار، ووٹوں کی تقسیم اور غیر متوقع نتائج
اگرچہ انتخابی میدان میں 41 امیدواروں کی موجودگی کا ذکر کیا جارہا ہے، لیکن محض امیدواروں کی تعداد سے نتیجے کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کس امیدوار کے پاس مضبوط تنظیم ہے، کون ووٹروں کو پولنگ مرکز تک پہنچانے میں کامیاب ہوگا اور کس کے حق میں خاموش ووٹر فیصلہ دیں گے۔
اس مرتبہ چھوٹے امیدوار بھی اہم ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ بعض اوقات چند ہزار ووٹوں کی تقسیم بڑے سیاسی دعوؤں کو ناکام بنا دیتی ہے۔
آخر فیصلہ کس کا ہوگا؟
مراٹھواڑہ پدوی دھر انتخاب صرف ایک نشست کی جنگ نہیں بلکہ اٹھارہ سالہ نمائندگی کے احتساب، سیاسی جماعتوں کی ساکھ اور تعلیم یافتہ طبقے کی ترجیحات کا امتحان ہے۔
ستیش چوہان کے سامنے اپنی سابقہ کارکردگی پیش کرنے کا چیلنج ہے، جبکہ مخالف امیدواروں کے سامنے یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض تبدیلی کا نعرہ نہیں بلکہ ایک بہتر متبادل بھی پیش کرسکتے ہیں۔
اور اس تمام سیاسی کشمکش میں جئے دت شیرساگر جیسے تجربہ کار رہنماؤں کے ممکنہ کردار پر بھی نگاہیں رہیں گی۔
سوال یہ نہیں کہ کس جماعت کا امیدوار جیتے گا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا مراٹھواڑہ کا تعلیم یافتہ ووٹر اپنے مستقبل کے حق میں فیصلہ کرے گا؟
کیونکہ جمہوریت میں آخری فیصلہ نہ کسی وزیر کا ہوتا ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کا، نہ کسی کنگ میکر کا، بلکہ ووٹر کی انگلی پر لگنے والی سیاہی کا ہوتا ہے۔
سید فاروق احمد قادری
بیڑ، مہاراشٹر

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔