بالی ووڈ پر گولیاں: خوف، طاقت اور ایک نازک سماج۔ | جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور


بالی ووڈ پر گولیاں: خوف، طاقت اور ایک نازک سماج۔ 
| جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور 
9845498354 

ممبئی کے جوہو میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر اتوار 17 اکتوبر 2026 کی شام فائرنگ ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق تین گولیاں چلائی گئیں؛ ٹائیگر شروف بال بال بچ گئے، مگر ان کے ڈرائیور سمیت دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ صرف ایک اداکار کی سلامتی کا سوال نہیں، بلکہ بالی ووڈ اور اس کے گرد پروان چڑھتی جرائم، دھمکیوں اور طاقت کی سیاست کا ایک پرانا زخم دوبارہ کھول دیتا ہے۔
بالی ووڈ پر پہلی بار گولی نہیں چلی۔ فروری میں فلمساز روہت شیٹی کے جوہو واقع گھر کے باہر پانچ راؤنڈ فائرنگ ہوئی، اور لارنس بشنوئی گینگ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اپریل 2024 میں سلمان خان کے باندرا واقع گھر کے باہر دو موٹر سائیکل سواروں نے پانچ گولیاں چلائی تھیں؛ اس کیس میں متعدد گرفتاریاں ہوئیں اور مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
یہ سلسلہ آج کا نہیں۔ جنوری 2000 میں فلمساز راکیش روشن کو گولی ماری گئی تھی، جبکہ اگست 1997 میں ٹی سیریز کے بانی گلشن کمار کو ممبئی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان واقعات نے بتا تھا کہ فلمی دنیا کی چمک کے پیچھے ایک ایسا ماحول بھی ہے، جہاں پیسہ، شہرت اور رسائی کو خطرے، بلیک میلنگ اور تشدد کا ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔
بالی ووڈ اپنی فلموں میں خوف کو توڑنے والے ہیرو پیدا کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہی ستارے اکثر خوف کے سائے میں جیتے ہیں۔ ٹائیگر شروف کے معاملے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا؛ پولیس نے تصدیق کی کہ اداکار محفوظ ہیں، مگر ڈرائیور زخمی ہوا۔
یہ تضاد سوچنے پر مجبور کرتا ہے: جو فلمیں کروڑوں لوگوں کو تفریح اور حوصلہ دیتی ہیں، ان کے تخلیق کاروں کی زندگی کیوں اتنی آسانی سے خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے؟ جب گینگ سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا اعلان کرتی ہے، تو یہ صرف جرم نہیں رہتا؛ یہ ایک پیغام بھی بن جاتا ہے کہ قانون سے بڑھ کر ڈر اور تشدد کو اثر و رسوخ کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
ضروری ہے کہ معروف فنکاروں کی حفاظت بہتر ہو، تحقیقات تیز اور شفاف ہوں، اور مجرموں کو سخت سزا ملے۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب ایک گینگ جیل میں بیٹھے بھی اپنے نام سے خوف پھیلا سکتی ہے، تو معاشرے کا اعتماد کہاں ٹوٹ رہا ہے؟
بالی ووڈ کو محض تفریح کی صنعت سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ روزگار، ثقافت، قومی شناخت اور لاکھوں خوابوں سے جڑی دنیا ہے۔ اگر اس دنیا کے لوگ گولیوں کے خوف میں جیں، تو یہ صرف فلمی اداکاروں کی ناکامی نہیں، پورے معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے نظام کی ناکامی ہوگی۔
ٹائیگر شروف بچ گئے، مگر یہ "بچ جانا" کوئی حل نہیں۔ گلشن کمار کی موت سے آج کی فائرنگ تک کا سفر بتاتا ہے کہ بالی ووڈ پر تشدد کا سایہ وقتی واقعہ نہیں، ایک مسلسل مسئلہ ہے۔ اس کا جواب صرف پولیس کی گاڑیوں اور باڈی گارڈز میں نہیں؛ اس کا جواب ایسے معاشرے میں ہے جو خوف کو طاقت نہیں بننے دیتا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔