نشہ آور چیزوں کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سماجی ناسور ! - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔ ( ترجمان تنظیم علماء ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں )
نشہ آور چیزوں کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سماجی ناسور ! -
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔
( ترجمان تنظیم علماء ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں )
خداوند قدوس نے انسان کو مخدومِ کائنات بناکر کائنات کی ساری چیزوں کو اس کے لیے مسخر کردیا اور حلال و پاکیزہ غذا و اشیاء کے استعمال کا حکم دے کر حرام و نقصان دہ غذا و اشیاء کے استعمال سے منع فرمایا کیوں کہ ان نقصان دہ چیزوں کے استعمال سے جہاں اخلاق و اعمال اور عادات پر بُرا اثر پڑتا ہے، وہی انسان کے جسم کے اندر طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتیں ہیں، جو سماج و معاشرہ اور خاندان کے لیے ایک ناسور ہوتی ہے ان نقصان دہ اشیاء میں نشہ آور چیزوں کا استعمال بھی ہے، شہرِ عزیز مالیگاؤں اپنی دینی و علمی نیک نامی کی وجہ سے ملک میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے مگر بعض سماجی و اخلاقی بُرائیاں اور نشہ آور چیزوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے شہر کی مسلسل بدنامی ہورہی ہے اور اس کی نیک نامی و علمی شہرت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے کہ ایسی علمی و عصری دانش گاہوں اور مساجد و مکاتب سے آباد اہلِ علم کی بستی میں بُرائیاں عروج پر ہیں کہ بعض چھوٹے چھوٹے بچے بھی منشیات کی بُری عادت میں مبتلا ہوگئے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ چھوٹے چھوٹے بچے، نوجوان نسل اور عُمرِ کہولت میں قدم رکھنے والے بعض افراد اس جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوگئے؟ حالاں کہ نشہ سماج و معاشرہ کے لیے ایک ناسور ہے اسی لیے احادیث مبارکہ میں نشہ آور چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا گیا، چناں چہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کُلُّ مُسْکِرٌ حرامٌ ہر نشہ آور چیز حرام ہے (ترمذی شریف) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شئ کی مقدار نشہ کا باعث ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے (ترمذی شریف) چوں کہ شروع میں اس کا آغاز تھوڑی مقدار سے ہوتا ہے پھر آدمی اس میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس لیے فطرتِ سلیمہ کے نزدیک نشہ آور اشیاء، گندی اور قابلِ نفرت چیز اور شیطانی جال ہے جس میں پھنس جانے کے بعد انسان بےشمار مفاسد اور مہلک خرابیوں کے گھڑے میں گِر جاتا ہے اور نشہ میں ایسی ایسی حرکات صادر ہوتیں ہیں جو باہمی غلیظ و غضب اور جنگ و جدل کا سبب بن جاتی ہے، آئے دن اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے یہ تو صرف روحانی نقصانات ہیں جسمانی نقصانات مزید برآں چناں چہ اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شراب اور نشہ ایک سست رفتار زہر ہے جو ہولے ہولے انسان کے جسم کو کھوکھلا اور عمر کو کم کرتا جاتا ہے بل کہ انسانی جسم میں سب سے زیادہ اس کا اثر معدہ پر ہوتا ہے، چناں چہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معدہ بدن کا حوض ہے سارے بدن کی رگیں اسی حوض سے سیراب ہوتی ہیں اگر معدہ درست ہے تو ساری رگیں یہاں سے صحت مند غذا لے کر لوٹیں گی اور اگر وہ خراب ہے تو ساری رگیں بیماری لیکر بدن میں پھیلیں گی (بیہقی شعب الایمان) حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ کُلِّ مُسْکِر و مُفْتر(ابوداؤد شریف) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اُس چیز کے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے جو نشہ آور اور مُفتر ہو یعنی اس سے صحت میں خلل واقع ہوتا ہو،، نشہ کے کثرتِ استعمال سے معدہ بیماریوں کا گھر بن جاتا ہے اور نشہ کا عادی شخص کم عمر میں زیادہ کا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ارذل العمر کے مثل ہوجاتا ہے الغرض نشہ مالی جسمانی سماجی اور اخلاقی ہر پہلو سے انتہائی نقصان دہ لت ہے کہ بعض اوقات اس سے گھر اُجڑ جاتا ہے طلاق کی نوبت آجاتی ہے اور مال وغیرہ بھی ختم ہو جاتا ہے اس لیے اس سے مکمل طور پر اجتناب کریں اور اپنے متعلقین میں اگر اس طرح کے افراد یا بچے ہو تو ان کو اس بُری لت سے آزاد کرانے کی کوشش کریں، اور اس کے علاوہ شہر میں پنپ رہی دیگر سماجی بُرائیاں، بدکاری، سود، جوا، خودکشی، قتل و غارتگری پر بھی اظہارِ نفرت کریں تاکہ فان لم یستطع فبقلبه و ذلک أضعف الایمان میں ہی شمار ہوجائے
لمحہ فکریہ ! اس وقت شہرِ عزیز مالیگاؤں میں قسم قسم کی منشیات کی کثرت اور اس کے استعمال میں جو عموم پیدا ہورہا ہے وہ حد درجہ تشویشناک بات ہے کہ نئی عمر کے کچھ بچے جن کے ہاتھوں میں کاپی اور قلم ہونا چاہیے تھا کہ وہ نشہ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس میں برابر ترقی کررہے ہیں اور جسم و مال دونوں اعتبار سے کمزور و لاغر ہورہے ہیں حالاں کہ نوجوان قوم کا سرمایہ و اثاثہ اور مستقبل ہوتا ہے ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہوتی ہے اب اگر اسی طرح معاملہ رہا تو قوم کا مستقبل تابناک کے بجائے غم ناک ہوجائے گا اس لیے ان کو ان تمام بُرائیوں سے دور رکھنے کے لیے اپنی بساط بھر طاقت کے مطابق کوشش کرتے رہنا چاہیے،
الحمدللہ! حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ العالی کی قیادت اور صدارت میں تنظیم علماء ائمہ حفاظ کے نام سے ایک مضبوط و مستحکم پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا جس کے ذریعے شہر میں پنپ رہی سماجی و اخلاقی بُرائیاں بدکاری، زنا کاری سود، قتل و غارتگری خودکشی وغیرہ جیسے سنگین گناہوں کے تدارک اور ان پر قدغن لگانے کے لیے اقدامات طے کئے گئے جس کے لیے فی الحال 6 اکتوبر 2026 سے لیکر 6 نومبر 2026 تک پورے شہر میں مذکورہ بالا تنظیم کے زیر اہتمام اصلاح معاشرہ کے عنوان سے 15 پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا جس میں نشہ، شراب سود خودکشی اور بدکاری وغیرہ پر بیان کرکے عوام میں بیداری پیدا کی جائے گی اور بُرائیوں کی قباحت و شناعت سے روشناس کرایا جائے گا نیز مستورات میں بھی اس بابت پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا اور بیداری پیدا کی جائے گی اس لیے اہلیانِ شہر سے مودبانہ اپیل و گزارش ہے کہ شہرِ عزیز کو ہر طرح کی بُرائیوں سے پاک و صاف کرنے اور مثالی و آئیڈیل بنانے کے لیے اس تنظیم سے مربوط ہو اور اپنے وقت اور صلاحیت سے اس کا بھرپور تعاون کریں
نوٹ مذکورہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے
تنظیم علماء ائمہ حفاظ شہرِ مالیگاؤں
Comments
Post a Comment