کتبو بریانی - افسانہ؛ عقیل خان بیاولی جلگاؤں


کتبو بریانی - 
افسانہ؛ عقیل خان بیاولی جلگاؤں

شہر سے کچھ دور ایک چھوٹی سی بستی میں قطب الدین تعلیم یافتہ نوجوان رہتا تھا۔ اسے علم و ادب سے گہرا شغف تھا۔ کتابوں کی خوشبو، لفظوں کی مہک اور خیالات کی دنیا اسے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی تھی۔ وہ اکثر روزگار کی تلاش میں ضلع کے صدر مقام آتا جاتا رہتا تھا۔ اس دوران اس نے شہر کی گہماگہمی، بازاروں کی رونق اور کاروبار کی وسعت کو قریب سے دیکھا تھا۔
لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سا خیال گھر کر گیا تھا۔ وہ سوچتا کہ جب شہر میں اتنی دکانیں، اتنے کاروبار اور اتنے مواقع موجود ہیں تو اس کی اپنی بستی میں بھی کوئی ایسا کاروبار کیوں نہ ہو جو لوگوں کی ضرورت بھی پوری کرے اور اسے باعزت روزگار بھی فراہم کرے۔
اس کی بستی کوئی معمولی بستی نہ تھی۔ یہاں مدارس تھے، مساجد تھیں، اسکول اور کالج تھے۔ تعلیم یافتہ افراد کی خاصی بڑی تعداد آباد تھی۔ گلیوں میں طلبہ کے جتھے دکھائی دیتے، کہیں اساتذہ کی محفلیں جمتیں، کہیں اہلِ علم کی گفتگو ہوتی۔ بظاہر یہ علم و شعور کا ایک آباد مرکز تھا۔
مگر شام ڈھلتے ہی اس بستی کا ایک دوسرا منظر بھی سامنے آتا۔ چائے خانوں پر رونق بڑھ جاتی، ہوٹلوں میں بھیڑ لگ جاتی، بریانی اور کباب کے مراکز پر گاہکوں کی قطاریں دکھائی دیتیں۔ کہیں شوارمے کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تو کہیں چائنیز کھانوں کے نام پر نوجوانوں کا ہجوم جمع ہوتا۔ پان، گٹکے، عطر، کپڑے، جوتے، چپل، کرانے اور ڈرائی فروٹ کی دکانیں بھی خوب چل رہی تھیں۔ رات گئے تک بازار کی چہل پہل جاری رہتی۔
قطب الدین ان مناظر کو بڑے غور سے دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ آخر ایسا کون سا کاروبار شروع کیا جائے جس میں مقابلہ کم ہو اور ترقی کے امکانات زیادہ ہوں۔ اس نے باقاعدہ سروے شروع کیا۔ جب کبھی بستی آتا، بازار کا چکر لگاتا، دکانوں کا جائزہ لیتا اور لوگوں کی دلچسپی کا اندازہ لگاتا۔ کئی دنوں کی سوچ بچار کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا۔
’’کتابوں کی دکان!‘‘
اس نے خود سے کہا، ’’یہاں ہر چیز کی دکان ہے، مگر کتابوں کی نہیں۔ بستی میں کالج ہیں، مدارس ہیں، اساتذہ ہیں، پروفیسر ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں۔ پڑھنے لکھنے والوں کی کمی نہیں۔ اگر میں ایک اچھی کتابوں کی دکان کھول دوں تو کاروبار بھی چلے گا اور علم و ادب کی خدمت بھی ہوگی۔‘‘
اسے اپنا فیصلہ بے حد معقول معلوم ہوا۔ اس نے تصور ہی تصور میں اپنی دکان کو کامیاب دیکھ لیا۔ اسے یقین تھا کہ اہلِ علم کی اس بستی میں کتابوں کے قدر دانوں کی کمی نہیں ہوگی۔
چنانچہ اس نے ایک ایجنٹ کی مدد سے بھرے پُرے چوک میں کرائے پر ایک دکان لے لی۔ اپنی جمع پونجی لگائی، کچھ قرض لیا، الماریاں بنوائیں اور مختلف ناشرین سے رابطہ کرکے کتابیں منگوائیں۔ مذہب، تاریخ، ادب، شاعری، افسانہ، ناول، بچوں کے ادب اور نصابی ضروریات سے متعلق کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہوگیا۔
آخر افتتاح کا دن بھی آگیا۔
دکان کے باہر خوب صورت بینر آویزاں تھا۔ افتتاحی تقریب میں بستی کے معززین، اساتذہ، پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئر، علماء، شعراء اور ادباء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کسی نے مبارک باد دی، کسی نے قطب الدین کی علمی ذوق کی تعریف کی، کسی نے اسے بستی کے لیے نیک شگون قرار دیا۔
چائے کے دور چلے، کرسیاں بھرتی رہیں، تصاویر بنتی رہیں اور مبارک بادوں کا سلسلہ جاری رہا۔
قطب الدین پھولا نہ سما رہا تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ جب افتتاح کے اعلان پر اتنی بڑی تعداد میں لوگ آگئے ہیں تو کتابیں خریدنے والوں کی تعداد کا اندازہ ہی کیا ہوگا! اسے محسوس ہوا جیسے اس کے کاروبار کی بنیاد نہیں، کامیابی کی عمارت تعمیر ہوچکی ہے۔
مگر زندگی کے بعض سبق تقریبات کے شور میں نہیں، خاموشی کے طویل وقفوں میں سمجھ میں آتے ہیں۔
افتتاح کے بعد پہلا دن گزرا، دوسرا گزرا، پھر ہفتہ گزر گیا۔ دکان کی الماریوں میں کتابیں اپنی جگہ سجی رہیں۔ ان کے سرورق خاموشی سے گزرنے والوں کو دیکھتے رہے، مگر کوئی خریدار نہ آیا۔
کبھی کوئی استاد تشریف لاتے، کتابوں پر سرسری نگاہ ڈالتے، دو چار ورق پلٹتے اور کہتے، ’’بہت اچھا کام شروع کیا ہے، قطب الدین صاحب! اللہ برکت دے۔‘‘
پھر وہ پان کی دکان یا چائے خانے کی طرف روانہ ہوجاتے۔
کوئی شاعر آتا تو نئی کتابوں کے نام پوچھتا، کوئی ادیب کسی معروف مصنف کا حوالہ دیتا، کوئی پروفیسر علمی ذوق پر گفتگو کرتا۔ بعض لوگ تو اتنی دیر تک کتابوں کے صفحات الٹتے پلٹتے کہ قطب الدین کو امید ہونے لگتی کہ اب ضرور کوئی کتاب خریدی جائے گی۔ لیکن گفتگو ختم ہوتے ہی سب کے قدم دکان سے باہر کی طرف اٹھ جاتے۔
کتابیں پھر خاموش ہوجاتیں۔
قطب الدین نے دکان میں دو تین کرسیاں رکھ دیں۔ اخبار بھی منگوانا شروع کردیا تاکہ آنے والوں کو بیٹھنے اور پڑھنے کی سہولت رہے۔ حالاں کہ اخبار کا ماہانہ خرچ بھی اس کے لیے آسان نہ تھا، مگر اس نے اسے کاروبار میں سرمایہ کاری سمجھا۔
اب دکان پر لوگ آنے لگے۔ کرسیاں بھرنے لگیں۔ اخبار پڑھا جانے لگا۔ ملکی سیاست، عالمی حالات، مہنگائی، حکومت اور سماجی مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ کوئی سرخی پڑھ کر دوسرے کو سناتا، کوئی اداریے پر تبصرہ کرتا، کوئی کسی خبر سے اختلاف کرتا۔
قطب الدین خوش ہوتا کہ چلو، دکان میں رونق تو ہوئی۔
لیکن اس رونق کا کتابوں سے کوئی خاص تعلق نہ تھا۔
لوگ آتے، اخبار پڑھتے، سلام دعا کرتے، چائے پینے کا پروگرام بناتے اور رخصت ہوجاتے۔ کسی کو کتاب خریدنے کی جلدی نہ تھی۔ یوں اس کی دکان رفتہ رفتہ کتابوں کی دکان سے زیادہ مفت مطالعہ گاہ اور دوستوں کی بیٹھک بنتی جارہی تھی۔
ایک مہینہ گزرا۔ پھر دوسرا مہینہ بھی گزر گیا۔ چند کتابیں فروخت ہوئیں، وہ بھی اتفاقاً۔ دوسری طرف دکان کا کرایہ، گھر کے اخراجات اور ادھار کی رقم اس کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگے۔
وہ اکثر دکان میں بیٹھا باہر کے منظر کو دیکھتا رہتا۔
سامنے چائے خانے پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ بریانی کی دیگیں کھل رہی تھیں۔ کباب سینٹر پر دھواں اٹھ رہا تھا۔ نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ کھانوں پر خرچ کررہے تھے۔ چند قدم کے فاصلے پر لوگ سینکڑوں روپے کی بریانی، کباب اور چائنیز کھانے خرید رہے تھے، مگر اس کی دکان میں رکھی چند سو روپے کی کتاب خریدنے والا کوئی نہ تھا۔
اسے حیرت ہوتی کہ یہ وہی بستی ہے جہاں تعلیم یافتہ لوگوں کی کثرت ہے، جہاں ہر دوسرے شخص کے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی علمی یا پیشہ ورانہ نسبت جڑی ہوئی ہے۔ پھر کتابوں کے لیے لوگوں کے پاس نہ وقت تھا، نہ ضرورت، نہ شاید بجٹ!
وہ کبھی خود کو ملامت کرتا کہ شاید کاروبار کا انتخاب غلط ہوگیا۔ کبھی سوچتا کہ ابھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے؛ علم و ادب کی قدر کرنے والے لوگ ضرور آئیں گے۔ لیکن امید بھی آخر کب تک خالی جیب کا سہارا بنتی؟
اسی کشمکش میں دن گزرتے رہے۔
ایک شام مغرب سے کچھ پہلے اس کا پڑوسی رمجو گھبرایا ہوا دکان میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔
’’ارے کتبو! بڑی مصیبت ہوگئی۔ میرے ایک رشتے دار کا انتقال ہوگیا ہے۔ مجھے ابھی گاؤں جانا پڑے گا۔ بریانی اور کباب تیار ہیں۔ اتنا مال گھر لے جاکر کیا کروں گا؟ تم ایسا کرو کہ یہیں فروخت کردو۔ جو پیسے ملیں، حساب کرلینا۔ کچھ تم رکھ لینا، باقی مجھے دے دینا۔ نقصان ہوا تو کوئی بات نہیں۔ جو بچے، گھر لے جانا۔ بس، آج رات کھانا مت بنوانا۔ گھر والوں کو کہہ دینا کہ بریانی لے کر آرہے ہو۔‘‘
قطب الدین نے ایک لمحے کے لیے رمجو کی طرف دیکھا۔ پھر اس کی دکان کی خالی الماریاں، خاموش کتابیں اور ویران گاہک کاؤنٹر اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔
اس نے سوچا، چلو کسی کی مشکل میں کام آنا بھی اچھی بات ہے۔
’’اچھا بھائی، تم فکر نہ کرو۔ میں دیکھ لیتا ہوں۔‘‘
رمجو نے بریانی کا بورڈ، پلیٹیں، پارسل کے لفافے اور دیگر ضروری سامان اس کے حوالے کیا اور جلدی میں روانہ ہوگیا۔
قطب الدین نے دکان کے باہر ایک کاغزی بینر لگایا۔ اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا,
’’لذیذ بریانی.... خصوصی رعایتی نرخوں پر!‘‘
بس پھر کیا تھا!
جو لوگ روزانہ اس کی دکان کے سامنے سے بے اعتنائی کے ساتھ گزر جاتے تھے، آج وہیں قدم روکنے لگے۔ کسی نے بورڈ پڑھا، کسی نے قیمت پوچھی، کسی نے دوست کو آواز دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند لوگ جمع ہوئے، پھر مجمع بڑھنے لگا۔ بریانی کی خوشبو پھیلی تو آس پاس کے محلوں تک خبر پہنچ گئی۔
’’ارے، آج کتبو کی دکان پر بریانی مل رہی ہے! وہ بھی رعایتی قیمت پر!‘‘
کچھ ہی دیر میں قطب الدین کے کاؤنٹر پر گاہکوں کا ہجوم تھا۔ کوئی دو پلیٹ لے رہا تھا، کوئی چار۔ کوئی گھر کے لیے پارسل بنوا رہا تھا، کوئی وہیں کھڑے کھڑے کھانے لگا تھا۔
ایک گھنٹے کے اندر سارا مال فروخت ہوگیا۔
قطب الدین نے حساب لگایا تو اس کے چہرے پر مدتوں بعد مسکراہٹ آئی۔ اس روز اس نے اتنی رقم کمائی تھی جتنی کتابوں کی دکان سے کئی دنوں میں بھی حاصل نہ ہوئی تھی۔
گھر پہنچا تو بیوی نے پوچھا، ’’بریانی کہاں ہے؟ آپ تو کہہ رہے تھے کہ آج بریانی لے کر آئیں گے!‘‘
وہ ہنس پڑا۔
’’بریانی ختم ہوگئی۔ ایک دانہ بھی نہیں بچا!‘‘
بیوی نے حیرت سے دیکھا۔ قطب الدین نے سارا قصہ سنایا۔ وہ بھی خوش ہوئی، مگر دونوں کو یہ اندازہ نہ تھا کہ ایک اتفاق ان کی زندگی کا رخ بدلنے والا ہے۔
اگلے دن مغرب کے قریب قطب الدین دکان پر بیٹھا تھا کہ دو نوجوان آئے۔
’’کتبو بھائی، آج بھی بریانی ملے گی؟‘‘
اس نے مسکرا کر جواب دیا، ’’نہیں بھائی، کل تو پڑوسی رمجو کا مال تھا۔ آج میری دکان پر کتابیں ہی ملیں گی۔‘‘
نوجوان مایوس ہوکر چلے گئے۔
کچھ دیر بعد ایک اور شخص آیا۔ اس نے بھی بریانی کے متعلق پوچھا۔ پھر دو اور لوگ آئے۔ کوئی قیمت دریافت کرتا، کوئی رعایت کی امید لگاتا، کوئی پوچھتا کہ کل کس وقت ملے گی۔
قطب الدین ہر ایک کو یہی جواب دیتا رہا کہ بریانی کا کاروبار اس کا نہیں، وہ تو کتابیں فروخت کرتا ہے۔
لیکن ان سوالوں نے اس کے ذہن میں ایک نیا دروازہ کھول دیا تھا۔
رات کو گھر لوٹا تو دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ بیوی نے اس کی پریشانی محسوس کی۔
’’کیا بات ہے؟ آج پھر کوئی کتاب نہیں بکی؟‘‘
اس نے تلخی سے مسکراتے ہوئے کہا، ’’کتاب تو جیسے اس بستی کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ البتہ بریانی کی طلب میں کوئی کمی نہیں۔ آج بھی کئی لوگ پوچھنے آئے تھے۔‘‘
بیوی کچھ دیر سوچتی رہی، پھر بولی، ’’آپ نے بتایا تھا کہ رمجو بھائی کی بریانی ایک ہی گھنٹے میں فروخت ہوگئی تھی۔ اگر ہم خود کوشش کریں تو کیا حرج ہے؟ مجھے روایتی چولھے پر بریانی بنانی آتی ہے۔ کچھ اور بھی سیکھ لوں گی۔ آپ دکان پر بریانی کا انتظام کیجیے۔ کتابیں بھی رہنے دیجیے، شاید کوئی نہ کوئی خریدنے لگے۔ اگر کاروبار چل پڑا تو اچھی بات ہے، ورنہ دکان تو ویسے بھی خالی کرنے کا سوچ ہی رہے ہیں۔‘‘
قطب الدین نے بیوی کی طرف دیکھا۔ اسے اس تجویز میں کاروبار سے زیادہ اپنی مجبوری کا جواب نظر آیا۔ بہت سوچ بچار کے بعد اس نے حامی بھرلی۔
جمعہ کے دن سے دکان پر ایک نیا بورڈ لگ گیا:
’’کتبو کی روایتی چولھے والی بریانی؛ منفرد ذائقے کے ساتھ!‘‘
اس روز اس کی بیوی نے گھر سے بریانی تیار کرکے بھیجی۔ قطب الدین نے کتابوں کی چند الماریاں ایک طرف کردیں، کاؤنٹر کے پاس پارسل رکھنے کی جگہ بنائی اور بریانی فروخت کرنے لگا۔
نتیجہ وہی نکلا جس کا اسے اندازہ ہوچکا تھا، مگر اس بار حیرت کی شدت زیادہ تھی۔
گاہکوں کی قطار لگ گئی۔ کسی نے ذائقے کی تعریف کی، کسی نے روایتی چولھے کی خوشبو کو پسند کیا، کسی نے اگلے دن کے لیے پیشگی آرڈر دے دیا۔ چند ہی دنوں میں ’’کتبو کی بریانی‘‘ آس پاس کے محلوں میں مشہور ہوگئی۔
اب قطب الدین کو دکان میں بیٹھ کر گاہکوں کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ وہ صبح سے شام تک مصروف رہتا۔ کبھی چاول اور مصالحوں کا حساب، کبھی پارسل کی تیاری، کبھی گاہکوں کی فرمائشیں، کبھی نئے آرڈروں کی بکنگ۔ بیوی باورچی خانے میں مصروف رہتی اور قطب الدین دکان سنبھالتا۔
جس کاؤنٹر پر کبھی کتابوں کے خریدار کی راہ دیکھی جاتی تھی، اب وہاں بریانی کے پارسل سجتے تھے۔ جن کرسیوں پر کبھی اخبار پڑھنے والے مفت خوراک کی طرح مفت مطالعے سے لطف اندوز ہوتے تھے، اب ان پر گاہکوں کے آرڈر لکھے جاتے تھے۔
وقت گزرتا گیا۔ کاروبار بڑھتا گیا۔ رمضان المبارک آیا تو طلب میں مزید اضافہ ہوگیا۔ افطار سے سحری تک کے آرڈر ملنے لگے۔ قطب الدین نے ایک نیا بورڈ بنوایا:
’’رمضان اسپیشل ؛ افطار تا سحری بریانی اور دیگر لذیذ پکوان دستیاب ہیں۔‘‘
چند برسوں میں اس کا کاروبار اس قدر چل نکلا کہ اس نے اپنے والدین اور بھائی کو بھی معلم کالونی میں منتقل کرلیا۔ گھر کے حالات بہتر ہوگئے، قرض اتر گیا اور اس کے چہرے پر اطمینان لوٹ آیا۔
اب بستی میں اسے کوئی قطب الدین کے نام سے کم ہی پکارتا تھا۔ ہر زبان پر ایک ہی نام تھا:
’’کتبو بریانی والا!‘‘
کوئی اسے ’’کتبو خانساماں‘‘ کہتا، کوئی اس کی بریانی کی تعریف کرتا، کوئی اپنے مہمانوں کے لیے خصوصی آرڈر دیتا۔ اس کی دکان کے باہر روزانہ رونق رہتی۔ شام ہوتے ہی خوشبو دور تک پھیل جاتی اور گاہکوں کا تانتا بندھ جاتا۔
ایک دن ایک پرانے شناسا ادیب اس کی دکان پر آئے۔ انہوں نے بریانی کا پارسل لیا، پھر اچانک ان کی نظر کونے میں رکھی کتابوں کی چند پرانی الماریوں پر پڑی۔
’’ارے قطب الدین! یہ کتابیں اب بھی تمہارے پاس ہیں؟‘‘
قطب الدین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ’’جی صاحب! کچھ تو اب بھی موجود ہیں۔‘‘
ادیب نے ایک کتاب اٹھائی، اس کے صفحات پلٹے اور پوچھا، ’’کتنی کی ہے؟‘‘
قطب الدین نے قیمت بتائی۔
ادیب نے جیب سے پیسے نکالے اور کتاب خرید لی۔ پھر ہنستے ہوئے بولے، ’’دیکھو بھئی، آج تو میں نے بریانی کے ساتھ کتاب بھی خرید لی!‘‘
قطب الدین بھی ہنس دیا، لیکن اس کی ہنسی میں ایک ایسی کسک تھی جسے شاید وہ خود بھی پوری طرح بیان نہ کرسکتا تھا۔
ادیب صاحب کے جانے کے بعد وہ دیر تک اس کتاب کو دیکھتا رہا۔ پھر اس کی نگاہ دکان کے باہر لگی بریانی کی قطار پر پڑی۔ ایک طرف خوشبو، ذائقہ، بھاپ اور گاہکوں کا شور تھا؛ دوسری طرف الماریوں میں خاموش پڑی کتابیں، جن کے صفحات میں احادیث اقوال زریں، زندگی کے تجربے، انسانی تہذیب، فکر کی روشنی اور زمانوں کا علم محفوظ تھا۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا،
’’عجیب بستی ہے! یہاں پیٹ کی بھوک کے لیے ہر شخص بے قرار ہے، مگر ذہن کی بھوک کا احساس کتنے لوگوں کو ہے؟ بریانی کی خوشبو لوگوں کو دور سے کھینچ لاتی ہے، مگر کتابوں کی خوشبو شاید کسی کو محسوس ہی نہیں ہوتی۔ چاول کے دانوں کی قیمت سب کو معلوم ہے، مگر علم کے موتیوں کی قدر کون جانے؟‘‘
اسی لمحے ایک نوجوان آیا اور پوچھنے لگا، ’’کتبو بھائی، آج بریانی میں کون سا مصالحہ ڈالا ہے؟ ذائقہ لاجواب ہے!‘‘
قطب الدین نے اسے خوش دلی سے جواب دیا، ’’بیٹا، ذائقے کا راز محنت اور مناسب مصالحے میں ہے۔‘‘
نوجوان نے دوسرا سوال کیا، ’’اچھا، کل بھی یہی بریانی ملے گی نا؟‘‘
’’ضرور ملے گی!‘‘ قطب الدین نے کہا۔
نوجوان مطمئن ہوکر چلا گیا۔
قطب الدین کی نظر پھر کتابوں پر پڑی۔ اس نے ایک کتاب اٹھائی، گرد جھاڑی اور الماری میں رکھ دی۔
دکان کے باہر آواز گونجی:
’’کتبو بھائی! پانچ پارسل تیار کردو!‘‘
وہ فوراً اٹھا اور کام میں لگ گیا۔
اس روز بھی بریانی کی دیگ خالی ہوگئی، پارسل ختم ہوگئے، گاہک مطمئن ہوکر گھروں کو لوٹ گئے۔ مگر کتابوں کی الماری میں رکھی کتابیں بدستور اپنی جگہ موجود رہیں۔
ان کے صفحات میں ایک پوری دنیا آباد تھی، لیکن اس دنیا میں داخل ہونے کے لیے کسی نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ اور یوں علم و ادب کی تاریخی بستی میں، شاہی مساجد کے شھر میں سالک و مجذوب کے قدموں میں آباد بستی جہاں کتابوں کے خریدار نہیں تھے، بریانی کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔
قطب الدین نے روزگار تو پالیا تھا، مگر اس کی دکان کی خاموش کتابیں آج بھی ایک سوال بن کر کھڑی تھی, کیا ہم نے اپنی بھوک کی فکر کرتے کرتے اپنے شعور کی بھوک کو بھلا دیا ہے؟ کیا ہماری ترجیحات میں ذائقے کی اہمیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ فکر، مطالعہ اور علم کی قدر گھٹتی جارہی ہے؟ شاید اس بستی کو بریانی کی نہیں، کتابوں کی بھی ضرورت تھی؛ فرق صرف اتنا تھا کہ بریانی کی ضرورت ہر شخص کو فوراً محسوس ہوتی تھی، جبکہ کتاب کی ضرورت محسوس کرنے کے لیے بھی مطالعہ درکار تھا۔ اور مطالعہ؟
وہ تو کب سے ایک خاموش الماری میں بند پڑا تھا! اسی لئے "یوم ترغیب مطالعہ" کی بنیاد پڑی ۔؟؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔