نماز کی فکر کیجیے — آخرت کے امتحان کی تیاری کیجیےازقلم : عالمہ مبین پالیگا، پرنسپل مونٹ سنائی پی یو کالج بیلگام


نماز کی فکر کیجیے — آخرت کے امتحان کی تیاری کیجیے
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار
Alima M A M ED 
پرنسپل مونٹ سنائی پی یو کالج بیلگام

آج میں آپ کے سامنے کوئی مشکل مسئلہ لے کر نہیں آئی، صرف ایک سوال لے کر آئی ہوں۔
ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی کتنی فکر کرتے ہیں؟
اور ان کی آخرت کے مستقبل کی کتنی فکر کرتے ہیں؟
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے، ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، پروفیسر بنے، افسر بنے، اس کا اچھا کیریئر ہو، اس کا مستقبل روشن ہو۔
اس کے لیے ہم کیا کچھ نہیں کرتے؟
اسکول، کالج، ٹیوشن، کوچنگ، نوٹس، ٹیسٹ، امتحان، فیس، کتابیں—ہم ہر چیز کا انتظام کرتے ہیں۔
اگر استاد کہہ دے:
"یہ سوال بہت اہم ہے، امتحان میں ضرور آئے گا!"
تو بچہ اس سوال کو بار بار پڑھتا ہے، یاد کرتا ہے، دہراتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے نیند سے جگا کر پوچھا جائے تو بھی وہ فوراً جواب دے دیتا ہے۔
لیکن ذرا اپنے دل سے پوچھیں:
اللہ کے رسول ﷺ نے بھی تو ہمیں بتا دیا ہے کہ آخرت میں سب سے پہلے کس چیز کا سوال ہوگا!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ»
"قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔"
پھر فرمایا کہ اگر نماز درست ہوئی تو بندہ کامیاب ہوا، اور اگر اس میں کمی ہوئی تو اس کی کمی کو دیکھا جائے گا، اور نوافل کے ذریعے فرض نماز کی کمی پوری کیے جانے کا ذکر بھی حدیث میں آیا ہے۔
(جامع ترمذی، حدیث 413)
تو میں پوچھنا چاہتی ہوں:
جس سوال کا جواب آخرت کے امتحان میں سب سے پہلے دینا ہے، کیا ہم نے اس سوال کی تیاری کی ہے
ہم بچوں کو دنیا کا علم دیتے ہیں، آخرت کا علم کیوں نہیں؟
ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں:
"بیٹا! پڑھو، تمہارا مستقبل بنے گا۔"
لیکن کیا ہم نے کبھی کہا:
"بیٹا! نماز سیکھو، تمہاری آخرت بنے گی۔"
ہم پوچھتے ہیں:
"تمہارا ہوم ورک ہوا؟"
لیکن کیا ہم پوچھتے ہیں:
"تمہاری نماز ہوئی؟"
ہم پوچھتے ہیں:
"امتحان کی تیاری کی؟"
لیکن کیا ہم پوچھتے ہیں:
"آخرت کے امتحان کی تیاری کی؟"
ہم بچے کے اسکول کے بیگ کو دیکھتے ہیں، اس کی کتابیں دیکھتے ہیں، اس کی کاپیاں دیکھتے ہیں۔
لیکن کیا کبھی بیٹھ کر یہ دیکھا کہ:
اسے وضو آتا ہے؟
اسے نماز کے فرائض معلوم ہیں؟
اسے نماز کے واجبات معلوم ہیں؟
اسے نماز توڑنے والی چیزیں معلوم ہیں؟
اسے بھول چوک کی صورت میں سجدۂ سہو کا طریقہ معلوم ہے؟
اس کی قرآن کی تلاوت درست ہے؟
یہ بھی تو ہمارے بچے کے مستقبل کا حصہ ہے!
عبادت کا شوق کافی نہیں، عبادت کا علم بھی ضروری ہے
ایک بات بہت اچھی طرح سمجھ لیجیے:
صرف عبادت کرنے کا جذبہ کافی نہیں، عبادت کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کا علم بھی ضروری ہے۔
ہم دنیا کا کوئی کام بغیر سیکھے نہیں کرتے۔
ڈاکٹر بننے کے لیے طب پڑھتے ہیں۔
انجینئر بننے کے لیے انجینئرنگ پڑھتے ہیں۔
وکیل بننے کے لیے قانون پڑھتے ہیں۔
استاد بننے کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
تو پھر اللہ کے بندے بننے کے لیے دین کیوں نہیں سیکھتے؟
نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو نماز سیکھنی ہوگی۔
وضو کرنا ہے تو وضو سیکھنا ہوگا۔
روزہ رکھنا ہے تو روزے کے مسائل سیکھنے ہوں گے۔
حلال و حرام جاننا ہے تو دین کا علم حاصل کرنا ہوگا۔
کیونکہ جب انسان کو معلوم ہی نہیں کہ فرض کیا ہے، واجب کیا ہے، نماز کس چیز سے فاسد ہوتی ہے، کہاں سجدۂ سہو ہوتا ہے، کیا چیز وضو توڑ دیتی ہے، تو پھر وہ اپنی عبادت کے بارے میں کیسے مطمئن ہوسکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
"اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔"
(سورۃ النحل: 43)
اس لیے یاد رکھیے:
عبادت کا شوق نعمت ہے، لیکن عبادت کا صحیح علم اس نعمت کی حفاظت ہے۔
والدین! اللہ نے آپ کو صرف اولاد نہیں، ذمہ داری دی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا﴾
"اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔"
(سورۃ طٰہٰ: 132)
غور کیجیے!
اللہ تعالیٰ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ خود نماز پڑھو۔
بلکہ فرمایا:
اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دو۔
اور فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔"
(سورۃ التحریم: 6)
والدین!
آپ کے بچے کی فیس دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔
اس کی کتابیں خریدنا ذمہ داری ہے۔
اسے تعلیم دلانا ذمہ داری ہے۔
لیکن اس کے ایمان، نماز، اخلاق اور دینی تربیت کی فکر کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
بچے کو دنیا کے لیے تیار کرنا اچھی تربیت ہے،
لیکن اسے آخرت کے لیے تیار کرنا اصل ذمہ داری ہے۔
نماز کو زندگی کے آخری کاموں میں نہ رکھیں
ہم میں سے بہت سے لوگ نماز کو کہتے ہیں:
"ابھی کام کرلوں، پھر پڑھ لوں گا۔"
"ابھی مہمان آئے ہیں، بعد میں پڑھ لوں گا۔"
"ابھی بازار میں ہوں، گھر جاکر پڑھوں گا۔"
"ابھی بہت مصروف ہوں۔"
لیکن ذرا سوچیں:
اگر موت آگئی تو؟
موت یہ نہیں دیکھتی کہ:
آپ کا کام مکمل ہوا یا نہیں۔
آپ کا کاروبار مکمل ہوا یا نہیں۔
آپ کی میٹنگ ختم ہوئی یا نہیں۔
آپ کا امتحان ختم ہوا یا نہیں۔
آپ کے بچوں کی تعلیم مکمل ہوئی یا نہیں۔
موت صرف وقت دیکھتی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾
"جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔"
(سورۃ الاعراف: 34)
تو پھر نماز کو "بعد میں" کے لیے کیوں چھوڑتے ہیں؟
جو کام اللہ کے لیے ہے، اسے زندگی کا آخری کام نہیں، سب سے اہم کام بنائیے۔
موت کے وقت کلمہ پڑھنے کی گارنٹی کس کے پاس ہے؟
ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں:
"ابھی زندگی پڑی ہے، بڑھاپے میں توبہ کرلیں گے۔"
"ابھی جوانی ہے، بعد میں نماز کی پابندی کریں گے۔"
"موت آئے گی تو کلمہ پڑھ لیں گے۔"
لیکن سوال یہ ہے:
کیا کسی کے پاس اس بات کی ضمانت ہے کہ موت کے وقت اسے کلمہ پڑھنے کی مہلت ملے گی؟
نہیں!
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ موت آنے کے بعد انسان واپسی کی مہلت مانگے گا، لیکن اسے مہلت نہیں دی جائے گی:
﴿رَبِّ ارْجِعُونِ ۝ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا﴾
"اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے، شاید میں نیک عمل کرلوں۔"
لیکن جواب ہوگا:
﴿كَلَّا﴾
"ہرگز نہیں!"
(سورۃ المؤمنون: 99–100)
اس لیے نیکی کو کل پر مت چھوڑیں۔
توبہ آج کیجیے۔
نماز آج شروع کیجیے۔
قرآن آج کھولیے۔
دین آج سیکھیے۔
اپنے بچوں کو آج نماز سے جوڑیے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہ ہوں
یہ بات بھی یاد رکھیے کہ ہمارا رب صرف حساب لینے والا نہیں، رحمن و رحیم بھی ہے۔
ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔
اگر کسی کی نمازوں میں کوتاہی رہی ہے تو وہ یہ نہ سوچے:
"اب تو بہت دیر ہوگئی۔"
نہیں!
جب تک سانس باقی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
آج سے نماز شروع کیجیے۔
آج سے دین سیکھیے۔
آج سے اپنی اولاد کی فکر کیجیے۔
لیکن اللہ کی رحمت کو بہانہ بنا کر گناہ پر قائم رہنا بھی درست نہیں۔
رحمت کی امید رکھیے، مگر اصلاح کی کوشش بھی کیجیے۔
والدین! ایک آخری سوال اپنے دل سے کیجیے
آپ اپنے بچے کے لیے کیا چاہتے ہیں؟
کہ وہ دنیا میں کامیاب ہو؟
بہت خوب!
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے بھی کامیاب ہو۔
آپ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے کالج میں داخل ہو؟
لیکن یہ بھی چاہیے کہ وہ جنت میں داخل ہو۔
آپ چاہتے ہیں کہ اس کا نام دنیا میں روشن ہو؟
ضرور!
لیکن یہ بھی چاہیے کہ اس کا نام اللہ کے ہاں نیک بندوں میں لکھا جائے۔
دنیا کی ڈگری قبر کے اندر ساتھ نہیں جائے گی،
لیکن دنیا میں کیے ہوئے نیک اعمال ضرور ساتھ جائیں گے۔
دنیا کا عہدہ ختم ہوجائے گا۔
مال ختم ہوجائے گا۔
جائیداد رہ جائے گی۔
گاڑی رہ جائے گی۔
دکان رہ جائے گی۔
لیکن انسان اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال لے کر کھڑا ہوگا۔
اور وہاں ایک سوال ہوگا:
نماز کا کیا کیا؟
آئیے آج عہد کریں
آج ہم صرف یہ فیصلہ نہ کریں کہ:
"ہم خود نماز پڑھیں گے۔"
بلکہ یہ فیصلہ کریں:
ہم نماز سیکھیں گے۔
نماز درست کریں گے۔
اپنے بچوں کو نماز سکھائیں گے۔
اپنے گھر میں نماز کا ماحول بنائیں گے۔
ضروری دینی علم حاصل کریں گے۔
اور اپنی آخرت کی تیاری کو دنیا کی تیاری سے کم نہیں سمجھیں گے۔
کیونکہ ہمیں دنیا کا امتحان بھی دینا ہے، مگر ایک دن وہ امتحان بھی دینا ہے جس کے بعد دوبارہ کوئی موقع نہیں ملے گا۔
دنیا کا امتحان فیل ہو جائے تو دوبارہ امتحان ہوسکتا ہے،
لیکن آخرت کا امتحان دوبارہ نہیں ہوگا۔
اس لیے ابھی وقت ہے۔
سانس چل رہی ہے۔
دل دھڑک رہا ہے۔
سجدے کا دروازہ کھلا ہے۔
توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
قرآن ہمارے سامنے ہے۔
اللہ ہمیں پکار رہا ہے۔
تو پھر ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی حقیقت سمجھنے، نماز کو صحیح طریقے سے ادا کرنے، ضروری دینی علم حاصل کرنے، اپنی اولاد کی دینی تربیت کرنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُقِيمِينَ لِلصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّاتِنَا، رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ۔
اے اللہ! ہمیں نماز قائم کرنے والا بنا، اور ہماری اولاد میں بھی نماز قائم کرنے والے پیدا فرما، اور ہماری دعا قبول فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔