یکساں سول کوڈ پر سوالات کے شرعی و آ ئینی جوابات - اظہر ظہیرالدین کردمے شریوردھن ضلع رایگڈھ


یکساں سول کوڈ پر سوالات کے شرعی و آ ئینی جوابات  - 
اظہر ظہیرالدین کردمے شریوردھن ضلع رایگڈھ

یہ تحریر گورنمنٹ آف مہاراشٹر نے عوام سے پوچھے گئے 
 یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کے حوالے سے 37 سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ ان تمام جوابات کو دستورِ ہند (آئینِ ہند)، اسلامی شریعت اور بین المذاہب ہم آہنگی و انسانی حقوق کے مروجہ اصولوں کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ یہ حکومت، قانونی ماہرین اور تمام مذاہب کے لیے معقول، مدلل اور قابلِ قبول ہوں۔
حصہ اول: یکساں سول کوڈ اور مذہبی آزادی
1. کیا آپ مہاراشٹر میں اس وقت
 یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی حمایت کرتے ہیں؟
جواب: نہیں۔ یکساں سول کوڈ کا نفاذ بھارت جیسے کثیر الثقافتی اور کثیر المذاہب ملک کے آئینی ڈھانچے اور تنوع کے خلاف ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔  
2. کیا یکساں سول کوڈ نافذ کرتے ہوئے مذہبی آزادی کے آئینی حق کو متاثر کیے بغیر ایسا کرنا ممکن ہے؟
جواب: نہیں۔ مذہبی آزادی کا لازمی حصہ شریعت اور خاندانی قوانین (Personal Laws) پر عمل کرنا ہے۔ جب قوانین یکساں کر دیے جائیں گے تو شہریوں کی مذہبی آزادی پر راست اثر پڑے گا۔  
3. کیا یکساں سول کوڈ نافذ ہونے سے قانونی تنازعات میں کمی آئے گی؟
جواب: نہیں۔ قانونی تنازعات کا تعلق قوانین کے یکساں ہونے سے نہیں بلکہ عدالتی نظام کی سستی، انتظامی کوتاہیوں اور آگاہی کی کمی سے ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے قانونی الجھنیں اور نئے تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔  
4. کیا یکساں سول کوڈ سے قانونی کارروائیوں کو زیادہ آسان اور مؤثر بنایا جا سکے گا؟
جواب: نہیں۔ عدالتی کارروائیوں کی بہتری کے لیے سول اور کرمنل پروسیجر کوڈز (CPC & CrPC) میں اصلاحات کی ضرورت ہے، نہ کہ شریعت اور مذہبی پرسنل لاز میں مداخلیت کی۔  
شادی اور اس کا اندراج
5. کیا شادی، طلاق، لیو ان ریلیشن شپ اور یکساں سول کوڈ کے دائرے میں آنے والے دیگر معاملات کے اندراج اور ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک مشترکہ نظام ہونا چاہیے؟
جواب: اندراج (Registration) کی حد تک سہولت ہونی چاہیے، لیکن قوانین میں یکسانیت نہیں۔ شادی کا اندراج ایک انتظامی کارروائی ہے جو تمام المذاہب کے لیے مددگار ہو سکتی ہے، لیکن مذہبی طریقوں کو یکسر بدلنا درست نہیں۔  
6. مرد اور عورت کی شادی کی کم از کم عمر کیا ہونی چاہیے؟ (18، 21، اور 27 سال کے متبادل)
جواب: بلوغت اور عقلی پختگی۔ قانونی اعتبار سے لڑکے کے لیے 21 سال اور لڑکی کے لیے 18 سال کی موجودہ حد مناسب ہے، کیونکہ یہ جسمانی اور نفسیاتی بلوغت کے مطابق ہے۔  
7. کیا کسی شخص کو پہلے سے شادی شدہ ہونے کے باوجود دوسری شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟
جواب: جی ہاں، مشروط اجازت ہونی چاہیے۔ اسلام میں انصاف اور عدل کی سخت ترین شرائط کے ساتھ محدود اجازت ہے، جو معاشرتی برائیوں، بے راہ روی اور بے سہارا عورتوں کی کفالت کے لیے ایک اخلاقی و قانونی حل فراہم کرتی ہے۔  
8. کیا شادی کے سلسلے میں مختلف مذاہب کی روایتی رسومات اور مذہبی طریقوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ ہر مذہب کی شادی کی رسومات (نکاح، سپت پدی، انند کارج وغیرہ) اس کی مذہبی شناخت کا حصہ ہیں اور ان کا تحفظ آئینی حق ہے۔  
9. کیا تمام مذاہب کے لیے ان رشتوں کی ایک یکساں فہرست ہونی چاہیے جن کے درمیان شادی نہیں ہو سکتی؟
جواب: نہیں۔ ہر مذہب میں ممنوعہ رشتوں (Prohibited Relationships) کا تعین مذہبی احکامات اور حیاتیاتی/خاندانی اصولوں پر مبنی ہے، لہٰذا اس میں یکسانیت ممکن نہیں۔  
10. کیا شادی کے اندراج کے لیے تمام مذاہب میں یکساں قانونی اصول ہونے چاہئیں؟
جواب: انتظامی طریقہ کار یکساں ہو سکتا ہے، لیکن مذہبی رسومات کی شرط لازمی ہونی چاہیے۔
طلاق اور ازدواجی معاملات
11. کیا تمام مذاہب کے لیے طلاق کی بنیادیں یکساں ہونی چاہئیں؟
جواب: نہیں۔ ہر مذہب میں شادی کا تصور مختلف ہے (مثلاً اسلام میں شادی ایک معاہدہ/میثاقِ غلیظ ہے، جبکہ ہندو مذہب میں یہ ایک مقدس سنسکار ہے)۔ لہٰذا طلاق کی بنیادیں بھی مذہبی احکام کے مطابق ہونی چاہئیں۔  
12. کیا طلاق کا طریقہ کار تمام مذاہب کے لیے یکساں ہونا چاہیے؟
جواب: نہیں۔ طلاق کا طریقہ کار عقیدے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسلامی طریقہ کار (طلاقِ احسن، حسن) تدریجی اور مصالحت کا موقع فراہم کرتا ہے۔  
13. کیا مرد اور عورت کے لیے طلاق کی بنیادیں یکساں ہونی چاہئیں؟
جواب: اسلام میں دونوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ مرد کو طلاق کا اور عورت کو خلع یا فسخِ نکاح کا حق حاصل ہے تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو۔  
14. کیا عدالت سے باہر طلاق دینے کے طریقوں پر پابندی ہونی چاہیے؟
جواب: نہیں۔ عدالت سے باہر مصالحتی کونسلوں، شرعی پنچایتوں اور خاندانی بزرگوں کے ذریعے مسئلے کا حل عدالتی بوجھ کو کم کرتا ہے اور جلد انصاف فراہم کرتا ہے۔  
15. کیا موجودہ ازدواجی قوانین اور طلاق سے متعلق پیچیدہ قانونی کارروائیوں کی وجہ سے جوڑے شادی کے بجائے لیو ان ریلیشن شپ کو ترجیح دیتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، قانونی پیچیدگیوں اور اخلاقی قدروں کی کمی اس کا سبب ہے۔ اسی لیے قانونی طریقہ کار کو آسان بنایا جانا چاہیے نہ کہ غیر اخلاقی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔  
16. کیا ایک سے زیادہ شادیوں کے معاملے میں تمام مذاہب کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے؟
جواب: نہیں۔ ہر مذہب کی سماجی اور مذہبی ضروریات مختلف ہیں۔ جہاں مذہبی اجازت اور ضرورت ہو، وہاں قانون کو مانع نہیں ہونا چاہیے۔  
17. کیا نکاحِ حلالہ سے متعلق معاملات کو یکساں سول کوڈ کے تحت قانون سازی میں شامل کیا جانا چاہیے؟
جواب: اسلامی شریعت کے اصل اصولوں کی غلط تعبیر پر روک ہونی چاہیے۔ اسلام میں مشروط یا طے شدہ حلالہ حرام اور لعنت کا باعث ہے۔ اصل شریعت کا غلط استعمال روکنے کی ضرورت ہے۔  
بچوں کے حقوق اور کفالت
18. کیا تمام مذاہب کے بچوں کی کفالت اور نان نفقہ کے لیے یکساں قانونی اصول ہونے چاہئیں؟
جواب: اصولی طور پر بچے کا فلاح و بہبود (Welfare) اہم ہے۔ تاہم، کفالت کی مالی ذمہ داری اسلامی قانون میں بنیادی طور پر والد پر عائد ہوتی ہے جو کہ ایک مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے۔  
19. کیا بچوں کی تحویل اور سرپرستی کے فیصلوں میں بچے کی فلاح و بہبود اور اس کے بہترین مفاد کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ اسلامی فقہ میں بھی بچے کی پرورش (حضانت) میں بچے کے بہترین مفاد اور اس کی نفسیاتی و جسمانی ضرورت کو اولیت دی جاتی ہے۔  
20. کیا بچوں کے وراثتی حقوق ان کے والدین کی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر یکساں ہونے چاہئیں؟
جواب: اسلامی قانون میں نسلی پاکیزگی اور وراثت کے واضح اصول مقرر ہیں۔ نطفہ کی حفاظت اور خاندانی ساخت کے تحفظ کے لیے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کے فقہی احکام مختلف ہیں، تاہم معصوم بچے کی کفالت کی انسانی ذمہ داری بہرحال قائم رہتی ہے۔  
وراثت اور جائداد
21. کیا کسی شخص کے وصیت کے بغیر انتقال کر جانے کی صورت میں جائداد کی تقسیم کے لیے تمام مذاہب میں یکساں اصول ہونے چاہئیں؟
جواب: نہیں۔ اسلام میں وراثت (علم الفرائض) قرآنِ کریم کی صریح آیات سے ثابت ہے جس میں ہر وارث کا حصہ مقرر ہے۔ اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔  
22. کیا تمام مذاہب میں مردوں اور عورتوں کے لیے وراثت کے حقوق یکساں ہونے چاہئیں؟
جواب: عدل اور مساوات میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام میں عورت کو وراثت کا حق دیا گیا ہے اور اسے کسی قسم کی مالی ذمہ داری (نان نفقہ) کا مکلف نہیں بنایا گیا، جبکہ مرد پر تمام مالی بار رکھا گیا ہے۔ اس معاشی نظام کے تحت حصے کا تعین عین عدل و انصاف ہے۔  
23. کیا کسی شخص کو اپنی پوری جائداد وصیت کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق منتقل کرنے کا اختیار ہونا چاہیے؟
جواب: نہیں۔ لامحدود وصیت کا اختیار اصل وارثوں کی حق تلفی کا باعث بنتا ہے۔ اسلام میں وصیت کا اختیار صرف ایک تہائی (1/3) جائداد تک محدود ہے تاکہ قانونی وارث محروم نہ ہوں۔  
لیو ان ریلیشن شپ اور متعلقہ حقوق
24. کیا یکساں سول کوڈ میں لیو ان ریلیشن شپ سے متعلق قانونی ضابطے شامل ہونے چاہئیں؟
جواب: نہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ (بدونِ نکاح قائم کیا جانے والا تعلق) سماجی اور اخلاقی قدروں کی تباہی کا باعث ہے۔ اسے قانونی تحفظ دینے کے بجائے خاندانی نظام (شادی) کو مضبوط بنانا چاہیے۔  
25. کیا لیو ان ریلیشن شپ شروع کرنے کے لیے لازمی رجسٹریشن ہونی چاہیے؟
جواب: رجسٹریشن سے اس غیر اخلاقی فعل کو قانونی جواز مل جائے گا۔ اس لیے اس طرح کے تعلقات کو قانونی طور پر کیٹلاگ یا رجسٹرڈ کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔  
26. کیا لیو ان ریلیشن شپ ختم ہونے پر بھی اس کے خاتمے کا اندراج لازمی ہونا چاہیے؟
جواب: غیر قانونی یا غیر شرعی تعلق کا بنیادی وجود ہی مسلمہ نہیں، لہٰذا اس کے خاتمے کا بھی کوئی انتظامی اندراج موزوں نہیں۔  
27. کیا لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی عورت کو مخصوص حالات میں نان نفقہ اور وراثت کے حقوق ملنے چاہئیں؟
جواب: حقوق صرف شرعی اور قانونی نکاح سے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر بغیر نکاح کے حقوق دیے گئے تو نکاح کا انسٹی ٹیوشن اور مقدس ادارہ تباہ ہو جائے گا۔  
28. کیا لیو ان ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو وراثت کا حق ملنا چاہیے؟
جواب: انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر بچے کی کفالت اور تحفظ لازمی ہے، تاکہ بچہ بے قصور ہوتے ہوئے برباد نہ ہو، لیکن خاندانی وراثت کے اصولوں میں اسلامی احکام کی پابندی ضروری ہے۔  
29. کیا ایسے بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی کفالت کی ذمہ داری ان کے والدین پر قانونی طور پر عائد ہونی چاہیے؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ جن والدین کے فعل سے بچہ دنیا میں آیا ہے، ان پر بچے کی پرورش کی مکمل قانونی اور مالی ذمہ داری عائد ہونی چاہیے۔  
30. کیا مختلف مذاہب کے خاندانی قوانین میں موجود اختلافات کو دور کرنے کے لیے شادی، طلاق اور وراثت کے معاملات میں مشترکہ قانونی نظام ہونا چاہیے؟
جواب: نہیں۔ ہندستان کا آئین "تنوع میں وحدت" (Unity in Diversity) کے اصول پر مبنی ہے۔ مختلف پرسنل لاز کا وجود اس ملک کا حسن ہے، اس لیے مشترکہ نظام کی ضرورت نہیں۔  
31. کیا یکساں سول کوڈ کے تحت خاندانی اور عائلی معلومات کے لیے تمام شہریوں پر یکساں قانونی ضابطے لاگو ہونے چاہئیں؟
جواب: شہری اور فوجداری قوانین (Civil & Criminal Laws) پہلے ہی تمام شہریوں کے لیے یکساں ہیں، عائلی امور (Personal Laws) کو الگ رکھا جانا ہی آئینی تقاضا ہے۔  

حصہ دوم: تفصیلی تجاویز
 (سوالات نمبر 32 تا 37)
32. آپ کے خیال میں یکساں سول کوڈ میں کن عائلی اور شرعی معلومات کو شامل کیا جانا چاہیے؟
جواب:
ایک سیکیولر ملک میں کسی بھی مذہبی برادری پر دوسرے مذہب کے قوانین مسلط نہیں کیے جانے چاہئیں۔  
یکساں سول کوڈ کے بجائے، ہر مذہب کے پرسنل لا کو ان کی مذہبی کتابوں اور معتبر علماء/رہنماؤں کے اصولوں کے مطابق محفوظ رکھا جانا چاہیے۔  
33. شادی، طلاق، کفالت، وراثت یا دیگر خاندانی معاملات میں آپ کو کن قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
جواب:
سب سے بڑی قانونی مشکل عدالتی التوا (Pendency of cases) اور کارروائیوں کا طویل ہونا ہے۔  
وراثت اور خاندانی تنازعات کا سول عدالتوں میں سالہا سال زیرِ التوا رہنا خاندانی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔  
اس کا حل قوانین کو یکساں بنانا نہیں، بلکہ دار القضاء، شرعی پنچائتوں اور متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے نظام کو قانونی تقویت دینا ہے۔  
34. موجودہ خاندانی قوانین میں خواتین کے ساتھ ناانصافی یا امتیاز کی کون سی صورتیں پائی جاتی ہیں؟
جواب:
اسلامی شرعی قوانین خواتین کو مکمل مالی خودمختاری (مہریہ، نفقہ، جائداد میں ملکیت کا حق) دیتے ہیں۔  
ناانصافی اسلامی قوانین کی وجہ سے نہیں بلکہ جہالت، ناخواندگی اور شرعی قوانین پر صحیح عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔  
اصلاح کے لیے آگاہی، تعلیمی بیداری اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کی تجاویز پر کام کیا جانا چاہیے۔  
35. کیا زرعی زمین اور دیگر جائداد کی وراثت کے اصول دیگر جائدادوں سے مختلف ہونے چاہئیں؟
جواب:
نہیں۔ اسلامی شریعت کی رو سے زرعی زمین ہو یا غیر زرعی، منقولہ جائداد ہو یا غیر منقولہ، وراثت کی تقسیم کے اصول تمام تر جائدادوں پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔  
ملکیت کا حق ہر قسم کی جائداد میں وارثین کا شرعی حق ہے۔  
36. موجودہ خاندانی قوانین میں کون سی ایسی دفعات ہیں جن میں ترمیم یا تبدیلی کی ضرورت ہے؟
جواب:
مختلف مذاہب کے پرسنل لاز کے اندر اگر خود ان کی برادری کے لوگ اصلاح چاہتے ہوں تو ان کی رضامندی سے اندرونی ترمیم کی جا سکتی ہے۔  
مسلمان پرسنل لا کے تحت دار القضاء اور شرعی کونسلوں کی تجاویز کو قانونی تسلیم دیا جائے تاکہ عدالتوں کا بوجھ کم ہو اور جلد فیصلے ہو سکیں۔  
37. یکساں سول کوڈ کے تجویز کردہ دائرے، اس کے نفاذ اور دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں اپنی اضافی تجاویز۔
جواب:
آئینی تحفظ: آئین کے باب 3 (بنیادی حقوق) کے تحت آرٹیکل 25، 26 اور 29 کے تحت اقلیتوں کو دیے گئے مذہبی و ثقافتی تحفظات کی مکمل پاسداری کی جائے۔  
تنوع کی پاسداری: بھارت ایک کثیر المذاہب ملک ہے، یکسانیت کے بجائے ہم آہنگی (Harmony) پر زور دیا جائے۔  
اختیاری یکساں کوڈ (Optional UCC): اگر حکومت یکساں کوڈ بنانا ہی چاہتی ہے تو اسے اختیاری (Optional) رکھا جائے، جیسے کہ اس وقت 'اسپیشل میرج ایکٹ' موجود ہے، تاکہ جو لوگ اس کا انتخاب کرنا چاہیں کر سکیں، لیکن مذہبی پرسنل لاز پر جبر نہ کیا جائے۔  

اظہر ظہیرالدین کردمے 
شریوردھن ضلع رایگڈھ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔