متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی عوام کو عزت کے ساتھ روٹی روزی - حکمرانوں کے پیار'محبت اور خلوص کو سلام "- "عمران پرتاب گڑھی" - دبئی کےشیخ راشد آڈیٹوریم میں عالمی مشاعرہ- شعرا کو زبردست داد-شائقین اردو بھاری تعداد میں شریک- محبان اردو سے فرحان واسطی کا اظہار تشکر
دبئی 26-اکتوبر( محمد حسام الدین ریاض) ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر اور رکن پارلیمنٹ عمران پرتاب گڑھی نے نوجوان نسل سے اپیل کی کے وہ اپنے والد کی محبت 'شفقت اور محنت کو کبھی فراموش نہ کریں اور ہر روز اپنے والد کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں اپنی ماں کے علاوہ اپنے رشتہ داروں بزرگوں اور ساتھیوں کا بھی ہر حال میں لازمی طور پر ادب و احترام کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جشن اردو کے دس سال کی تکمیل کے سلسلے میں دبئی میں منعقدہ عالمی مشاعرہ وہ کوی سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہی جشن اردو دبئی کے بانی جناب فرحان واسطی کی جانب سے منعقد ہوئے اس بین الاقوامی مشاعرے نے ایک عظیم الشان تاریخ بنائی اور مشاعرہ ڈھائی بجے رات (ہندوستانی وقت کے مطابق چار بجے شب) تک جاری رہا شیخ راشد آڈیٹوریم شائقین اردو سے کھچا کھچ بھر چکا تھا محبان اردو نے مقررہ وقت سے کافی دیر قبل ہی آکر اپنی نشستیں سنبھالی تھیں اردو والوں کی اس مشاعرہ سے محبت کا یہ عالم دیکھا گیا کہ آڈیٹوریم میں جگہ نہ ملنے کے باوجود کئی سامعین کھڑے ہو کر گھنٹوں مشاعرہ سنتے رہے عمران پر تاب گڑھی نے اس موقع پر اپنی تازہ نظم والد "محترم"سنائی جس پر شیخ راشد آڈیٹوریم زبردست تالیوں سے گونج اٹھا شائقین بار بار تالیاں بجاتے اور ہر شعر پر داد و تحسین سے نوازتے رہے عمران پرتاب گڑھی نے جو شعر سنائے اس میں قابل ذکر
کوزہ گر کیا ہمیں ڈرائے گا
ہم تو مٹی کے خاندان سےہیں
وہ شہنشاہ یا بھکاری ہو
سب کھلونے اسی دکان کے ہیں
صبر کا دامن تھام کے رکھنا
یہ جو کچھ دن ہیں امتحان کے ہیں
عمران پر تاب گڑھی نے کہا کہ وہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ متحدہ عرب امارات کے7 ریاستوں کے حکمرانوں کے پیار و محبت اور خلوص کو سلام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کے ملک میں تقریبا ساڑھے چار تک پانچ بلین ہندوستانی عوام عزت کے ساتھ روٹی روزی کما رہے ہیں پورے متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی کے حکمرانوں کو عمران پرتاب گڑھی نے پیار بھرا سلام پیش کیا اور کہا کہ ہندوستانیوں کو آپ لوگوں نے عزت دی ہے 'محبت دی ہے 'پناہ دی ہے' پورے ہندوستان کی طرف سے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں عمران نے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی وسیع النظری اور پیار و محبت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جس کام کو ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے وہ کام متحدہ عرب امارات میں بحسن خوبی انجام پا رہا ہے اس بات کا سارے اسٹیڈیم میں تالیوں کی گونج میں زبردست خیر مقدم کیا گیا انہوں نے مشاعرو کے کنوینر فرحان واسطی کی اردو زبان کے فروغ اور مشاعروں کے انعقاد سے متعلق کوششوں اور دلچسپی کو خوب سراہا ممتاز و معروف ادبی و کاروباری شخصیت بو عبداللہ مہمان خصوصی تھے جو سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے جشن اردو کے بانی جناب فرحان واسطی نے اپنے خطاب میں تمام شعراء کرام اور سامعین کا دلی خیر مقدم کیا انہوں نے دبئی سے اپنی عقیدت پر فخر کا اظہار کیا اور بھاری تعداد میں شرکت کرنے پر؛شائقین اردو سے اظہار تشکر کیا جناب فرحان واسطی نے دبئی کے حکمرانوں کے لیے تمام ہندوستانی عوام کی جانب سے اظہار تشکر کیا اور ملک کی مزید ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی جناب فرحان واسطی کی دختر عمل فاطمہ واسطی نے تمام شعراء کرام کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ان کے والد محترم نے چند احباب کے ہمراہ اس جشن کی بنیاد ڈالی تھی اور رفتہ رفتہ یہ جشن دنیا بھر میں مقبول ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ اردو اور ہندی زبان کو زندہ رکھنا اور اس سے لوگوں کو جوڑے رکھنا میرے والد محترم جناب فرحان واسطی کا شاندار کارنامہ ہے انہوں نے بڑی تعداد میں شرکاء کی شرکت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ جناب فرحان واسطی نے جو بیج بویا تھا اب وہ ثمر آور درخت بن چکا ہے انہوں نے جناب فرحان واسطی اور ان کی ٹیم کے تمام احباب کو دلی مبارکباد بھی دی عمل فاطمہ واسطی نے جشن کے مہمان خصوصی جناب بو عبداللہ کا بھی بطور خاص شکریہ ادا کیا اس کے علاوہ تمام معاونین سے اظہار تشکر بھی کیا جن جناب پرویز احمد صدیقی بارہ بنکی نے ایک منظر نامہ پیش کیا اور ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب پر روشنی ڈالی جناب آفتاب علوی نے شاندار مشاعرہ کہ انعقاد پر پر جناب فرحان واسطی کی ستائش کی اور کہا کہ لوگ اردو کو بھی مسلمان سمجھ لیتے ہیں جبکہ کئی غیر مسلم شعرا نے اردو میں شاعری کی ہے مشاعرے کا اغاز جناب فرحان واسطی کی دختر عمل واسطی نے شمع روشن کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جناب پرویز احمد صدیقی جناب سید عباس علوی قاری محمد عبدالرحمن حیدراباد جناب محمد حسام الدین ریاض حیدرآباد 'جناب محمد حسین قادری عارف دبا الفجیرہ' جناب افتاب علوی' جناب سید فرحان اعظمی' جناب عمیر خان 'جناب محمد اشرف' جناب عبدالرحمن 'جناب سراج احمد فاروقی'
جناب کیف عباس 'جناب شبلی چوان' جناب شاہد نثار' جناب شہاب الدین اور دیگر معززین موجود تھے
اس مشاعرے کو جناب راحت اندوری اور جناب منوررانا کے نام منسوب کیا گیا تھا صدر مشاعرہ جناب اظہر عنایتی کے علاوہ جناب عمران پرتاپ گڑھی 'جناب شکیل اعظمی' جناب ابرار کاشف' جناب راحت ستلج' جناب احمد سلمان' جناب تبریز منور رانا' جناب شمیم عباس 'جناب عثمان مینائی' جناب اختر کانپوری' پروفیسر رحمان مصور' ڈاکٹر سلمی شاہین' محترمہ ملیکادوبے' محترمہ ہمانشی بابرا نے کلام سنایا تمام شعراء کو سامعین نے زبردست دادی شیخ راشد آڈیٹوریم وقفے وقفے سے زبردست تالیوں سے گونج رہا تھا
Comments
Post a Comment