کامیاب والدین، کامیاب نسل - معاشرے کی اصلاح کا آغاز والدین کی اپنی اصلاح سے
رنگم پیٹ (رہبر تماپوری) 28 اکتوبر 2026ء: طیبہ ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام اور جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم کے بانی الحاج محمد عثمان صاحب تالیکوٹی کی سرپرستی میں بروز بدھ، 28 اکتوبر 2026ء کو مسجد حاجی عبدالرحیم چودھری، متصل جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، دیوکیرہ روڈ، رنگم پیٹ میں ’’کامیاب والدین، کامیاب نسل‘‘ کے عنوان سے ایک اہم اصلاحی و تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد والدین اور اساتذہ کو ان کی تربیتی ذمہ داریوں کا احساس دلانا، بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کی اہمیت اجاگر کرنا اور معاشرے کی اصلاح کے لیے گھر اور تعلیمی اداروں کی سطح پر مثبت تبدیلی کی ضرورت کو واضح کرنا تھا۔
پروگرام میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی شرکت کی۔ خواتین کے لیے جامعہ مریم تزکیۃ للبنات میں پردے کے اہتمام کے ساتھ الگ انتظام کیا گیا تھا، تاکہ وہ بھی اس اصلاحی و تربیتی نشست سے استفادہ کرسکیں۔ پروگرام میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریوں، بچوں کی شخصیت سازی، گھریلو و تعلیمی ماحول، اخلاقی اقدار، موبائل فون کے استعمال، مطالعے کی عادت اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ پاک سے آغاز
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد نعتِ پاک پیش کی گئی۔ اس کے بعد مفتی محمد توفیق اشاعتی نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے خصوصی مقرر حضرت مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی کو خطاب کی دعوت دی۔ مولانا موصوف رحمان فاؤنڈیشن، نیرل کے سابق خادم رہ چکے ہیں، جو حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی سرپرستی میں کام کرتی ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں والدین اور اساتذہ کی تربیتی ذمہ داریوں اور بچوں کی شخصیت سازی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی کامیاب تربیت محض نصیحت کرنے یا ان سے اچھے رویّے کی توقع رکھنے سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے والدین اور اساتذہ کو اپنی عملی زندگی میں بھی ان خوبیوں کو اپنانا ضروری ہے جن کی تعلیم وہ بچوں کو دینا چاہتے ہیں۔
کامیاب نسل کی تعمیر والدین اور اساتذہ کی اصلاح سے
مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں والدین اور اساتذہ دونوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچے اپنے گھر اور تعلیمی ادارے کے ماحول، بڑوں کی گفتگو، ان کے روزمرہ معمولات اور دوسروں کے ساتھ ان کے برتاؤ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کی عادات اور عملی رویّے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ چاہتے ہیں کہ بچے سچ بولیں، وعدے پورے کریں، دوسروں کا احترام کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو انہیں خود بھی ان اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ والدین اور اساتذہ اکثر بچوں کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اپنی عادات اور رویّوں کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر بڑے بچوں کو کسی کام سے منع کریں، مگر خود اسی کام میں مشغول رہیں تو ان کی نصیحت کا اثر کم ہوجاتا ہے۔ بچوں کی تربیت میں قول و عمل کا تضاد رکاوٹ بنتا ہے، جب کہ بڑوں کا اچھا کردار بچوں کے لیے عملی نمونہ ثابت ہوتا ہے۔
مقرر نے واضح کیا کہ معاشرے کی اصلاح کا آغاز اپنی ذات، گھر اور تعلیمی ماحول سے ہونا چاہیے۔ دوسروں کی خامیوں کی نشان دہی کرنا آسان ہے، لیکن اپنی اصلاح کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا زیادہ اہم ہے۔ والدین اور اساتذہ جب اپنے اخلاق، عادات اور طرزِ عمل کو بہتر بناتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات بچوں کی شخصیت اور ماحول پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
بچوں کی فطرت اور تربیت کی اہمیت
خطاب میں بچوں کی فطری صلاحیتوں اور ان کی تربیت میں والدین و اساتذہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مولانا نے سمجھایا کہ بچپن میں بچے اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت تیزی سے سیکھتے ہیں۔ وہ بڑوں کی باتوں کے ساتھ ان کے اعمال کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں اور اکثر انہی عادات کو اپنانے لگتے ہیں جو انہیں گھر اور تعلیمی اداروں میں نظر آتی ہیں۔
اس لیے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں میں ابتدائی عمر ہی سے اچھی عادتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ سچ بولنا، بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا اور ذمہ داری سے کام لینا ایسی خوبیاں ہیں جن کی تربیت روزمرہ زندگی کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ بچوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے والدین اور اساتذہ کو صبر، مستقل مزاجی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ہر بچے کی عمر، مزاج اور سمجھنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے؛ اس لیے اس کی رہنمائی کرتے وقت ان باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ محض سختی، ڈانٹ ڈپٹ یا پابندیوں کے ذریعے بچوں کی شخصیت کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ محبت، شفقت، مناسب رہنمائی اور عملی مثال بھی ضروری ہیں۔
سچائی، دیانت داری اور وعدے کی پابندی
مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی نے بچوں میں سچائی اور دیانت داری پیدا کرنے کی ضرورت پر خصوصی توجہ دلائی۔ انہوں نے عملی زندگی کی مثالوں کے ذریعے سمجھایا کہ اخلاقی تعلیم صرف زبانی نصیحتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو اس وقت سچائی کی اہمیت زیادہ بہتر طور پر سمجھ آتی ہے جب وہ اپنے والدین اور اساتذہ کو خود سچ بولتے، وعدے پورے کرتے اور دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے قرض کی ادائیگی اور وعدے کی پابندی جیسی مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ والدین کا مالی اور معاشرتی معاملات میں ذمہ دارانہ رویّہ بچوں کی تربیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کا طلبہ کے ساتھ منصفانہ برتاؤ، دیانت داری اور ذمہ داری کا مظاہرہ بچوں کے اخلاقی شعور کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مقرر نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ والدین اور اساتذہ کو اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ جب بڑے اپنی کوتاہی کو تسلیم کرکے اس کی اصلاح کرتے ہیں تو بچوں کو بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور انہیں درست کرنے کا عملی سبق ملتا ہے۔ اس طرح گھر اور تعلیمی ادارے میں سچائی، اعتماد اور ذمہ داری کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔
والدین، اساتذہ اور بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ
خطاب کے ایک اہم حصے میں والدین اور بچوں کے درمیان مضبوط تعلق اور باہمی اعتماد کی ضرورت پر گفتگو کی گئی۔ مولانا نے کہا کہ بچوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ بلاخوف اپنی بات بیان کرسکیں اور ضرورت کے وقت والدین سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔
اسی طرح اساتذہ کو بھی طلبہ کے ساتھ شفقت، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر طالب علم اپنے استاد سے سوال کرنے اور اپنی مشکل بیان کرنے میں جھجک محسوس نہ کرے تو اس کے لیے سیکھنے کا عمل زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔ استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرانا نہیں، بلکہ طلبہ کی اخلاقی و ذہنی نشوونما میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
انہوں نے بچوں کے سوالات کو اہمیت دینے اور ان کی عمر و فہم کے مطابق جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ بچوں میں تجسس فطری ہوتا ہے؛ وہ مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اپنے مشاہدات سے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر والدین اور اساتذہ ان سوالات کو نظرانداز کریں تو بچوں کی رہنمائی کے مواقع ضائع ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان کی بات توجہ سے سننے اور مناسب جواب دینے سے سیکھنے کا شوق بڑھتا ہے۔
گھر اور تعلیمی ادارے کا ماحول
مقرر نے گھر کو بچے کی پہلی تربیت گاہ اور تعلیمی ادارے کو اس کی شخصیت سازی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ گھر اور اسکول میں ہونے والی گفتگو، افراد کے درمیان تعلقات اور روزمرہ معمولات بچوں کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچے گھر میں احترام، تعاون اور ذمہ داری سیکھتے ہیں، جب کہ تعلیمی ادارے میں نظم و ضبط، اجتماعی زندگی، باہمی احترام اور سیکھنے کے آداب سے واقف ہوتے ہیں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ گھر میں ایک دوسرے کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، بچوں کے سامنے غیر ضروری تلخی سے گریز کریں اور اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اساتذہ کو چاہیے کہ وہ تعلیمی ادارے میں مثبت، منصفانہ اور حوصلہ افزا ماحول قائم کریں، تاکہ طلبہ اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔
مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کی تربیت کے لیے والدین اور اساتذہ کے درمیان رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ اگر گھر اور تعلیمی ادارے میں تربیتی کوششیں ایک دوسرے کی تکمیل کریں تو بچوں کی اخلاقی اور تعلیمی نشوونما بہتر انداز میں ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے والدین کو بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں اور رویّوں سے باخبر رہنا چاہیے، جب کہ اساتذہ کو بھی طلبہ کی ضروریات اور مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
موبائل فون کے استعمال میں اعتدال
موجودہ دور میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے والدین اور اساتذہ کو متوجہ کیا کہ بچوں کے اسکرین ٹائم اور موبائل سرگرمیوں پر مناسب نگرانی رکھنا ضروری ہے۔ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی معلومات اور تعلیم کے حصول میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن ان کا غیر ضروری اور بے مقصد استعمال بچوں کے وقت، توجہ اور روزمرہ معمولات کو متاثر کرسکتا ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کے موبائل استعمال کے لیے مناسب حدود مقرر کریں اور انہیں مفید سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اس کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو خود بھی موبائل فون کے استعمال میں اعتدال اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ بچے بڑوں کے طرزِ عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر بڑے خود زیادہ تر وقت موبائل میں مصروف رہیں تو بچوں سے اس کے محدود استعمال کی توقع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مقرر نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بچوں کو صرف موبائل سے روکنا کافی نہیں، بلکہ ان کے لیے متبادل سرگرمیاں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان سے گفتگو کرنا، مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنا اور کھیل کود و دیگر مفید مشاغل کے مواقع فراہم کرنا ان کی مثبت نشوونما میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کی ضرورت
خطاب میں مطالعے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مولانا نے کہا کہ کتابوں سے تعلق بچوں کی معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ان کی سوچ، زبان، فہم اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی عمر اور دلچسپی کے مطابق مفید کتابیں فراہم کریں اور ان میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لیے بڑوں کا اپنا عملی نمونہ اہم ہے۔ اگر گھر اور تعلیمی ادارے میں کتابوں، علمی گفتگو اور سیکھنے کے عمل کو اہمیت دی جائے تو بچوں میں بھی مطالعے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کے سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں اور ان کی علمی کوششوں کی حوصلہ افزائی کریں تو ان کے اندر سیکھنے کا شوق مزید بڑھ سکتا ہے۔
تربیتِ اولاد ایک مسلسل ذمہ داری
مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی تربیت کسی ایک دن یا چند نصیحتوں سے مکمل ہونے والا عمل نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل توجہ، صبر اور عملی کوشش درکار ہوتی ہے۔ والدین کو بچوں کی تعلیمی ترقی کے ساتھ ان کے اخلاق، عادات، گفتگو کے انداز اور ذمہ داری کے احساس پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اسی طرح اساتذہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ طلبہ کی اخلاقی تربیت اور شخصیت سازی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی کامیابی کا تصور صرف اچھے نمبروں، اعلیٰ ڈگریوں یا معاشی ترقی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ تعلیم کے ساتھ اخلاقی پختگی، ذمہ داری، دوسروں کے حقوق کا احترام اور معاشرے کے لیے مفید بننے کا جذبہ بھی اہم ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں مثبت سمت میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔
مقرر کے مطابق بچوں کی تربیت میں فوری نتائج کی توقع کرنے کے بجائے مستقل مزاجی سے کام لینا چاہیے۔ بچوں کی غلطیوں کو اصلاح کا موقع سمجھتے ہوئے انہیں مناسب انداز میں سمجھانا اور ان کی اچھی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
والدین کی تربیت اور آن لائن کورس کا ذکر
پروگرام کے دوران والدین کی تربیت اور رہنمائی کے لیے تین ماہ کے آن لائن تربیتی کورس کا ذکر بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے والدین کی اپنی اصلاح، بچوں کی ضروریات کو سمجھنے، تربیتی مسائل سے نمٹنے اور گھر میں بہتر ماحول قائم کرنے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
اس طرح کی تربیتی کوششوں کا مقصد والدین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ بچوں کی مؤثر تربیت کے لیے علم، شعور اور مسلسل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین جب اپنی تربیتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے ہیں تو وہ بچوں کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں اور ان کی رہنمائی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خواتین کے لیے پردے کے ساتھ الگ انتظام
پروگرام میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے جامعہ مریم تزکیۃ للبنات میں پردے کے اہتمام کے ساتھ الگ انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے خواتین کو بھی خطاب سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ بچوں کی تربیت کے موضوع پر خواتین کی شرکت خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ گھر کے روزمرہ معمولات اور بچوں کی ابتدائی تربیت میں ماؤں کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
والدین کی مشترکہ کوشش، گھر کے ماحول کی بہتری اور بچوں کی ضروریات کو سمجھنے سے تربیتی مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کا تعاون کریں اور اساتذہ کے ساتھ بھی مثبت رابطہ برقرار رکھیں۔
دعا اور نمازِ عصر کے ساتھ اختتام
حضرت مولانا مفتی محمد طاہر صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں والدین اور اساتذہ کی تربیتی ذمہ داریوں، بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت، سچائی و دیانت داری، گھر اور تعلیمی ادارے کے ماحول کی بہتری، بچوں کے ساتھ اعتماد، موبائل فون کے محتاط استعمال اور مطالعے کی عادت جیسے اہم موضوعات پر مفصل گفتگو کی۔
ان کی تقریر کے اختتام پر دعا کی گئی، جس کے بعد شرکائے پروگرام نے نمازِ عصر ادا کی۔ پروگرام کے اختتام پر حاضرین کی تواضع چائے سے کی گئی۔
یہ اصلاحی و تربیتی پروگرام والدین اور اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے اور نسلِ نو کی بہتر تربیت کے لیے عملی کوششوں کی ضرورت اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا۔ پروگرام کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ کامیاب نسل کی تعمیر کے لیے والدین اور اساتذہ کی اپنی اصلاح، اچھا عملی نمونہ، بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق اور تربیت میں مسلسل توجہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو پہچانے اور اصلاح کا آغاز اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے تعلیمی ماحول سے کرے۔
Comments
Post a Comment