ڈاکٹر ستار ساحر کے تحقیقی و تنقیدی مضامین میں آندھرا پردیش کے ادباء و شعراء - ( " نقد ساحر " اور " تحقیق و تنقید " کتابوں کے حوالے سے ) - مضمون نگار...... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا
ڈاکٹر ستار ساحر کے تحقیقی و تنقیدی مضامین میں آندھرا پردیش کے ادباء و شعراء -
( " نقد ساحر " اور " تحقیق و تنقید " کتابوں کے حوالے سے ) -
مضمون نگار...... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا
میرے مشیر ورہنما ڈاکٹر ستار ساحر کو اردو دنیا بخوبی چانتی ہے. میں انہیں 46 برس سے جانتا ہوں. یہ میرے ایک بہترین ،دوست، رشتہ دار، مشیر ورہنما ہیں. میں نے آپ کو قریب سے دیکھا ہے، آپ کی کئی صحبتیں مجھے نصیب ہوئیں. آپ کے اندر بہت ساری خوبیاں ہیں جو آپ کی شخصیت کو نکھارتی ہیں. آپ سے ملنے والا ایک یا دو ملاقاتوں میں متاثر ہوکر رہ جاتا ہے. آپ کی طبیعت میں سادگی شرافت فراخ دلی، بردباری، وسیع النظری، ملنساری، نرم لہجہ وغیرہ موجود ہیں.
ڈاکٹر ستار ساحر ایک منفرد شخصیت کے مالک ہیں.بظاہر ایک فرد نظر آتے ہیں مگر لشکر ہیں. جن کے اندر بےشمار حوصلے نئے افکار شعوروبصیرت، بلندخیالات، امداد کا جذبہ رہنمائی کا عنصر، مفید مشوروں سے نوازنا محسوس کیا گیا ہے. درس وتدریس سے لگاؤ نے آپ کو پروفیسر بنایا. اللہ کے فضل وکرم سے آپ نے آج تک خوشحال زندگی بسر کی ہے. ڈاکٹر ستار ساحر ایک بے مثال استاذ ہی نہیں بلکہ ایک شاعر و ادیب، بہترین محقق و نقاد بھی ہیں گلوکار کے علاوہ اداکار بھی آپ کے اندر چھپا ہوا ہے. اللہ تعالیٰ آپ پر مہربان ہے. آپ کو عزت ، شہرت اور دولت سے نوازا ہے. آپ کی تقریباً 15 کتابیں ہیں. آندھرا پردیش ریاستی حکومت نےآپ کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے کارنامہ حیات ایوارڈ ، ڈاکٹر عبدالحق ایوارڈ اور مولانا ابوالکلام آزاد قومی ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے. آپ نے اردو ادب میں مخلص و معتبر قلم کار کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا ہے.
ڈاکٹر ستار ساحر کا نقطہ نظر عالمانہ ہے. وہ ہرمضمون کو سلیقہ اور شگفتگی سے بیان کرتے ہیں. وہ مضمون کے تمام پہلوؤں پر قدرت رکھتے ہیں. آپ کی زبان میں اثر، تحریر میں روانی و سلاست ہے. پہلے جس پر لکھا جائے اس سے متعلق ڈھیر ساری معلومات اکٹھا کرلیتے ہیں. تضحیک کم تعریف زیادہ نہیں بلکہ حقیقت بیانی پر زرو دیتے ہیں. آپ تنقید میں تمہید کے ساتھ نفس مضمون پر بھی خیال مرکوز کرتے ہیں. حسن وخوبی سے مضمون کو اختتام پر پہنچاتے ہیں. اپنے خیالات کا نچوڑ پر اثر طریقہ سے پیش کرتے ہیں اور اپنی رائے قائم کرتے ہیں.
تحقیق و تنقید کے میدان میں آپ کی گراں قدر اور نمایاں خدمات ہیں. تنقید میں گہری نظر اور تحقیق میں تلاش و جستجو کے نقوش ملتے ہیں. آپ کے تنقیدی و تحقیقی مضامین کی تعداد ایک سو سے زائد ہے. تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل آپ کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں. اگر زمانہ قریب کی بات کریں تو " نقد ساحر " کے نام سے 2029 میں اور " تحقیق و تنقید " بالترتیب 2019 اور 2024 قارئین کے ہاتھوں میں آچکی ہے. نقد ساحر کتاب 250 صفحات پر مشتمل ہے. جس میں 18طویل مضامین ہیں. ان میں 6 مضامین کا تعلق آندھرا پردیش کے ادبی منظر نامہ اور یہاں کے معتبر شعراء و ادباء پر اپنے تاثرات اور نقد و تبصرہ سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً.1. دیوان شاہ میر کے امتیازات 2.لہجے کے عناصر خمسہ 3.اشک درد کی تاثیر (محمد عظمت علی عظمت) 4.کشکول کرم کا تجزیاتی مطالعہ (قمر امینی کا نعتوں کا مجموعہ) 5.نظام الدین اور نقد یسیر کرنولی 6.منتخبہ اردو غزلوں کا تنقیدی جائزہ رایل سیما کے حوالے سے چند باتیں ۔ یہ مضامین بالخصوص خطہ رایلسیما پر تحقیق کرنے والے طلبہ کے لیےمفید ثابت ہوں گے۔
مضامین کی دوسری کتاب تحقیق و تنقید 176 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں کل 21 مضامین شامل ہیں. اس کتاب کے گیارہ مضامین میں خاص کر ریاست آندھرا پردیش کے سرمایہ ادب ، ادباء و شعراء کا ذکر کیا گیا ہے. 1.تصوف اور شہ میری اولیا ۔ گنج عرفان 2.آندھرا پردیش میں دکنی تحقیق وتدریس روایت اور معاصر صورت حال 3.مینارہءنور(حضرت یعقوب صاحب صادق) 4.آفتاب علم(حضرت سید شاہ مصطفیٰ حسین بخاری صاحب) 5.مدرکات کی تحقیقی ، علمی وادبی اہمیت 6 .پروفیسر بشیر احمد تابش شخص اور ادیب 7.جعفر امیر کی نثرنگاری8. سید خادم رسول عینی شخص اور شاعر 9.ڈاکٹر سید امجد علی کی تصنیف : رضیہ سجاد ظہیر،10. ن. م. جالب سوغات سخن کے آئینے میں 11.گلشن لولاک کی تجلیات ( ڈاکٹر امام قاسم ساقی کی نعتوں کا مجموعہ) ان مضامین میں اپنی ریاست کے معروف ادبا و شعراء کے کلام پر خاص توجہ دی ہےنیز ان کو منظر عام پر لانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے. نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی میں ڈاکٹر ستار ساحر صاحب پیش پیش رہتے ہیں. آپ کے تحقیقی و تنقیدی مضامین قارئین کو اطمینان کے علاوہ معلومات فراہم کرتے ہیں.
تحقیق و تنقید دونوں میدان خشک سمجھے جانتے ہیں، پھر بھی ڈاکٹر ستار ساحر نے مختلف حقائق کے حوالے اور شواہد سے نئے انکشافات کی روش اختیار کی ہے جس سے اردو ادب میں یقیناً اضافہ ہوگا.
Comments
Post a Comment