مولیہ وردھن: اقدار کی تعلیم کے فروغ کی سمت ایک بامقصد پیش رفت.......ریاستی سطح کے تسہیل کاروں کا ٹی۔او۔ٹی۔پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی سے ہمکنار......
مولیہ وردھن: اقدار کی تعلیم کے فروغ کی سمت ایک بامقصد پیش رفت.......
ریاستی سطح کے تسہیل کاروں کا ٹی۔او۔ٹی۔پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی سے ہمکنار......
بمقام: بی جے ایس کالج، واگھولی، پونے، مہاراشٹر
تعلیم محض حصولِ علم کا نام نہیں، بلکہ کردار سازی، تعمیرِ سیرت اور نسلِ نو کے اذہان و قلوب میں اخلاقی اقدار کی آبیاری کا نام بھی ہے۔ اسی فکرِ صالح اور مقصدِ بلند کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ریاستی ادارہ برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (SCERT)، مہاراشٹر کے زیرِ اہتمام اور شانتی لال متھا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے بی جے ایس کالج، واگھولی، پونے میں ’مولیہ وردھن‘ کے تحت اقدار کی تعلیم کے فروغ سے متعلق ریاستی سطح کی 5تا9ستمبر2026 پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ* کا انعقاد عمل میں آیا۔
اس تربیتی پروگرام کا افتتاح آنجناب ڈاکٹر پربھاکر شرساگر صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر سمتا وبھاگ SCERT PUNE) کی صدارت میں عمل میں آیا، جس میں ڈاکٹر ورشارانی بھوپڑے میڈم صاحبہ (سمٹا وبھاگ scrt) شانتی لال متھا فاؤنڈیشن کے فعال رکن وینکٹ سر، ایس سی ای آر ٹی کے شعبۂ اردو کے کو-آرڈینیٹر عالی جناب توصیف پرویز صاحب اور فاؤنڈیشن کی ماسٹر ٹرینر محترمہ مینل دش پُترے صاحبہ کی موجودگی نے تقریب کو وقار بخشا۔
افتتاحی نشست میں ڈاکٹر پربھاکر شیر ساگر صاحب اور ڈاکٹر ورشا رانی بھوپڑے میڈم نے نئی تعلیمی پالیسی، قومی نصابی خاکے اور ریاستی نصابی خاکے میں اقدار کی تعلیم کو حاصل اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کا حقیقی مقصد صرف تعلیمی استعداد میں اضافہ نہیں، بلکہ طلبہ میں دیانت، احترام، رواداری، ذمہ داری اور احساسِ فرض جیسی اعلیٰ صفات کو پروان چڑھانا بھی ہے.ایس سی آر ٹی پونے شعبۂ اردو کے متحرک کوآرڈینیٹر جناب توصیف پرویز صاحب نے تربیت کے اغراض و مقاصد کو جامع انداز میں پیش کرتے ہوئے شرکائے ورکشاپ کو احساس دلایا کہ اساتذہ ہی وہ معمار ہیں جن کے دستِ ہنر سے ایک صالح، باکردار اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔
اس افتتاحی سیشن میں جملہ افسران نے خصوصی طور پر ناندیڑ سے تعلق رکھنے والی علمی و ادبی بزرگوار شخصیت محترم ملک نظامی سر صاحب(موظف) کی جانب سے ریاست بھر کے اردو طلبہ اور اساتذہ کے لیے تربیتی مراٹھی مینولز کا انتہائی قلیل عرصہ میں اردو ترجمہ کیا، ملک نظامی صاحب کی ان مہکتی ہوئی علمی خدمات کی جملہ مسند نشین شخصيات نے دل کھول کر پذیرائی کیں اور شکر گزاری ودعاؤں کےگلدستےپیش کرتے ہوئے آپکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
آج کے پُرآشوب دور میں جب اخلاقی انحطاط، عدم برداشت، بڑوں کے احترام میں کمی اور مختلف سماجی برائیاں ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بنی ہوئی ہیں، تو اقدار کی تعلیم کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ریاست کے مختلف اضلاع سے منتخب کیے گئے 32 اردو میڈیم اساتذہ و ماسٹر ریسورس پرسنز (MRPs) کو پانچ روزہ Training of Trainers (ToT) میں شریک کیا گیا، تاکہ وہ اپنے علم و تجربے کی روشنی سے مزید اساتذہ کی تربیت کرتے ہوئے اس پیغام کو گھر گھر اور درس گاہ درس گاہ پہنچا سکیں۔
ورکشاپ کے ابتدائی دو روز شانتی لال متھا فاؤنڈیشن کے ماسٹر ٹرینرز نے شرکاء کو مختلف تربیتی سرگرمیوں، عملی مشقوں اور مؤثر تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا۔ بعد کے تین دن شرکاء کی صلاحیتوں کے اظہار، گروپ ورک اور پریزنٹیشن کے لیے مختص رہے، جہاں اساتذہ نے حاصل شدہ تربیت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے فہم، تخلیقی صلاحیتوں اور تدریسی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ یوں یہ نشستیں محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہ رہیں، بلکہ تجربات کے تبادلے اور باہمی استفادے کا ایک مؤثر ذریعہ بنیں۔
اس تربیتی کارواں میں جہاں ریاست بھر کے مختلف اضلاع سے مدعو اساتذہ نے اپنی کامیاب نمائندگی و علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہیں ضلع ناندیڈ سے جناب عبدالملک نظامی(ماہر تعلیم،ورکن بال بھارتی لسانی کمیٹی ) ڈاکٹر محمد عبدالرافع صاحب(موظف صدر مدرس ناندیڑ) عبدالعلی صاحب(ضلع پریشد معلم) جناب شیخ علیم اسرار( معلم و شاعر )نے نمائندہ اساتذہ کے طور پر موجود تھے ۔۔ اس تربیت میں ریاست مہاراشٹر سے نمایندگی کے لئے آئے ہوئےجملہ اساتذہ نے ہر نشست میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے عملی سرگرمیوں اور گروپ پریزنٹیشن میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی عمدہ تیاریاں، پیش کش کے مؤثر انداز اور سرگرمیوں میں فعال شرکت کو فاؤنڈیشن کے مبصرین نے خوب سراہا۔ الحمدللہ، اساتذہ نے اپنی کارکردگی سے نہ صرف اپنے ضلع کی نمائندگی کا حق ادا کیا، بلکہ اردو اساتذہ کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کا بھی خوب صورت تعارف پیش کیا۔
اس تربیت کی سب سے اہم جہت اس کا آئندہ لائحۂ عمل ہے۔ پہلے مرحلے میں تربیت یافتہ یہ 32 ریاستی تسہیل کار دوسرے مرحلے میں تقریباً 500 ضلعی تسہیل کاروں کو تربیت دیں گے، جو آگے چل کر ریاست بھر کے تقریباً 27 ہزار اردو میڈیم اساتذہ تک ملیہ وردھن اور اقدار کی تعلیم کا پیغام پہنچائیں گے۔ یہ سلسلہ دراصل ایک ایسی تعلیمی تحریک کی بنیاد ہے جس کا مقصد نصاب کے ساتھ کردار کو، علم کے ساتھ عمل کو اور تعلیم کے ساتھ تربیت کو مربوط کرنا ہے۔
اختتامی و الوداعی تقریب میں ایس سی ای آر ٹی کے سمتا وبھاگ کی سربراہ محترمہ پرتبھا جی برڈے صاحبہ نے اس تربیت کی افادیت اور معاشرے کی تعمیر میں اقدار کی تعلیم کے ناگزیر کردار پر اظہارِ خیال کیا اور تمام 32 ریاستی تسہیل کاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ جناب توصیف پرویز صاحب نے بھی اردو ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی، اہداف اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور تمام شرکاء کو مبارک باد پیش کی۔
شانتی لال متھا فاؤنڈیشن کی ماسٹر ٹرینر محترمہ مینل دش پترے صاحبہ نے شرکاء کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ نے توقعات سے بڑھ کر محنت، دلچسپی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق شرکاء نے نہ صرف تربیت کے مقاصد کو سمجھا، بلکہ اپنی عملی سرگرمیوں اور پریزنٹیشن کے ذریعے ملیہ وردھن کے پیغام کو اپنی فکر و عمل کا حصہ بنانے کی بھی سعی کی۔
رسمِ تشکر و اظہارِ تاثر کے موقع پر ممبئی میونسپل کارپوریشن سے شریک فعال معلم جناب سید خالد علی اکبر صاحب نے فاؤنڈیشن کے ماسٹر ٹرینرز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس امر کو قابلِ ستائش قرار دیا کہ غیر اردو داں ٹرینرز نے اردو اور ہندی کے حسین امتزاج کے ساتھ تربیت کو نہایت مؤثر اور دل نشیں بنایا۔ محترمہ شازیہ میڈم صاحبہ نے بھی اپنے پُرمغز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم اور منتظمین کو مبارک باد دی اور مستقبل میں بھی اس تعلیمی و تربیتی مشن کا حصہ بننے کے عزم کا اظہار کیا۔
بلاشبہ، یہ پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ محض ایک رسمی پروگرام نہیں، بلکہ تعمیرِ انسانیت، تزکیۂ اخلاق اور تشکیلِ کردار کی جانب ایک قابلِ قدر پیش رفت ہے۔ اس نے اساتذہ کو یہ پیغام دیا کہ اقدار کی تعلیم کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے بچوں کے روزمرہ معمولات، رویّوں اور عملی زندگی میں رچنا بسنا چاہیے۔
امیدِ واثق ہے کہ یہ 32 ریاستی تسہیل کار اپنے علم کی شمع سے سینکڑوں ضلعی تسہیل کاروں کے چراغ روشن کریں گے، اور پھر یہی روشنی ہزاروں اردو میڈیم طلبہ کی زندگیوں میں اخلاق، اخوت، دیانت اور انسان دوستی کے چراغ فروزاں کرے گی۔یہی مولیہ وردھن (اقدار کی تعلیم کے فروغ)کی روح، یہی تعلیم کا حقیقی مقصد اور یہی ایک مہذب، پُرامن اور باوقار معاشرے کی تعمیر کا راستہ ہے۔
اللہ کرے کہ یہ کاوش بارآور ہو، علم و عمل کی یہ شمع فروزاں رہے اور ہماری درس گاہیں علم کے ساتھ اخلاق، شعور کے ساتھ کردار اور کامیابی کے ساتھ انسانیت کا پیغام پیش کیا ۔۔
ازقلم : ابرار عالم محمد انور، مالیگاوں ناشک۔۔۔
Comments
Post a Comment