گاندھی جی کے تصور صفائی میں باطن باطن کی پاکیزگی، اتحاداور انسانی اخوت کا پیغام پوشیدہ ہے: خیرالدین شیخانجمن اسلام دھارواڑ میں مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی پر جوش انداز میں منائی گئی
گاندھی جی کے تصور صفائی میں باطن باطن کی پاکیزگی، اتحاداور انسانی اخوت کا پیغام پوشیدہ ہے: خیرالدین شیخ
انجمن اسلام دھارواڑ میں مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی پر جوش انداز میں منائی گئی
دھارواڑ، 2 اکتوبر 2026: انجمن اسلام دھارواڑ کے احاطے میں منعقدہ مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی کے موقع پر بحیثیت مہمانِ خصوصی الحاج خیرالدین شیخ رکن ایجوکیشن بورڈنے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بسنے والے ہندو، مسلمان اور دیگر تمام طبقات کے درمیان یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ ہم سب ایک ہیں اور باہمی اتحاد، بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ مہاتما گاندھی کے تصورِ صفائی کا اصل پیغام بھی یہی تھا کہ معاشرے کو ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ نفرت، تعصب اور تفریق سے پاک کیا جائے۔ خیرالدین سر نے کہا کہ گاندھی جی کے نزدیک صفائی کا تصور صرف کچرے کو صاف کرنے یا ماحول کو پاک رکھنے تک محدود نہیں تھابلکہ وہ دل، ذہن، زبان، کردار، نیت اور عمل کی پاکیزگی کو بھی صفائی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی تبدیلی ظاہری صفائی کے ساتھ باطن کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے کسی ہتھیار یا بندوق کا سہارا لیے بغیر صبر، سچائی، ستیہ گرہ اور عدم تشدد کے اصولوں پر عوام کو متحد کیا اور آزادیِ ہند کی جدوجہد کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کیا۔ سادہ لباس اور برہنہ پاؤں کے ساتھ انہوں نے کروڑوں ہندوستانیوں میں آزادی کا شعور بیدار کیا۔ ان کے پُرامن عزم اور مسلسل جدوجہد نے بالآخر برطانوی اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح لال بہادر شاستری نے بھی اپنی سادگی، دیانت داری اور قومی خدمت کے ذریعے ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے انجمنِ اسلام کے نائب صدر الحاج بشیر احمد جہاگیردار نے کہا کہ مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری دونوں کی زندگی ہمارے لیے سادگی، دیانت داری، قربانی، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا روشن نمونہ ہے۔ آج کے دور میں ان عظیم شخصیات کے افکار اور عملی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے صفائی کو صرف جسم اور ماحول کی صفائی تک محدود نہ رکھتے ہوئے انسان کے خیالات اور کردار کی پاکیزگی سے جوڑا۔ اسی طرح لال بہادر شاستری نے اپنی سادہ زندگی اور بے لوث قومی خدمت سے یہ ثابت کیا کہ عہدہ نہیں بلکہ کردار انسان کی اصل پہچان ہوتا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عظیم رہنماؤں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں ان کے اچھے اوصاف کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور ملک کی ترقی، امن اور بھائی چارے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر انجمنِ اسلام کے اراکین یاسین علی ہاویری پیٹ، ریاض احمد ننھےصاحبوبر، انجمن تعلیمی اداروں کی انتظامی کمیٹی کے اراکین، کارپوریٹر محبوب پٹھان، انجمن کے مختلف اداروں کے سربراہان اور ڈگری کالج کے پرنسپل ڈاکٹر این۔ بی۔ نالَتواڑ موجود تھے۔تقریب کے دوران مختلف سطحوں پر منعقدہ کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں معززین کے ہاتھوں انعامات اور اعزازات تقسیم کیے گئے۔ڈگری کالج کے این۔ ایس۔ ایس۔ یونٹ کے طلبہ اور تدریسی و غیر تدریسی عملے نے بھی گاندھی جی اور لال بہادر شاستری کی جینتی کے موقع پر صفائی، دیانت داری اور ماحولیاتی تحفظ کے پیغام کو عام کیا۔ اس موقع پر صفائی نصف ایمان کی علامت ہے، ایمان داری ہی حقیقی طاقت ہے اوردرخت لگائیں ملک کو بچائیں جیسے بامعنی نعروں کے ذریعے عوامی شعور بیدار کیا گیا۔ ڈاکٹر اسماء ناز بااری، ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی ،پروفیسر ناگراج کنکنی، ڈاکٹرسید تاج النسا، ڈاکٹر رودریش میٹی، ، ڈاکٹر ایس۔ ایس۔ ادونی تمام اساتذہ اس موقع پر موجود تھے۔پروگرام کا آغاز ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر این۔ ایچ۔ پاٹل کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ تقریب کی نظامت محترمہ شاہین اور محترمہ بی بی حاجرہ نے انجام دئے۔ محترمہ تبسم نے اظہار تشکر پیش کیا۔تقریب میں انجمن تعلیمی اداروں کے اساتذہ، طلباءو طالبات اور دیگر عملہ کثیر تعداد میں شریک تھا۔ پروگرام میں مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی قومی خدمات، سادگی، دیانت داری، عدم تشدد، اتحاد اور ملک و قوم کے لیے ان کی بے لوث جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کی گئی۔(رپورٹ :ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی ،انجمن ڈگری کالج ،دھارواڑ)
Comments
Post a Comment