غزل - ازقلم: رہبر تماپوری
غزل -
ازقلم: رہبر تماپوری۔
تمہارے خواب تعبیریں ہماری
کہاں ایسی ہیں تقدیریں ہماری
کسی رہ ہم کو تنہا مل گئے تو
دکھاویں ہم کو تصویریں ہماری
خودی میں خودداری میں منظر
محافظ ہیں تو شمشیریں ہماری
یقیں ہے ایک دن مجھ کو تمنّا
پڑھائی جائیں تحریریں ہماری
بنو کردار کے رہبر دھنی تم
سنے گی قوم تقریریں ہماری
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
ہزج مسدس محذوف.
Comments
Post a Comment