معاشرہ و فردکی علمی پرواز و کتاب کا بنیادی کردار - تحریر : سرفراز نواز خان
معاشرہ و فردکی علمی پرواز و کتاب کا بنیادی کردار -
تحریر : سرفراز نواز خان
معاشروں کو پروان چڑھانے میں کتاب بنیادی کردار ادا کرتی ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ گذشتہ کئی دہائیوں سے کتاب بینی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ لائبریریوں کی رونق ماند پڑ چکی ہے۔
اردو کے معروف ادیب مختار مسعود نے اپنی کتاب ’آوازِ دوست‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ بیسویں صدی کی گذشتہ چار دہائیاں کتاب پڑھنے اور کتاب لکھنے کا زمانہ تھیں اور اس دور میں بہت اچھی کتابیں لکھی گئیں اور نامور ادیب شاعر اور دانشور پیدا ہوئے۔ لیکن انیس سو پچاس کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ کی مائیں شائد تاجر اور سیاست دان ہی جنتیں رہیں۔
اگر آپ لفظ 'کتاب' اور 'روٹی' پر غور کریں تو دونوں الفاظ میں چار حروف ہیں۔ اس تناظر میں جناب نظیر باقری نے کہا۔۔۔۔۔۔
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو (ماخوذ)
چند سوال جو ہم سے جواب چاہتے ہیں،
روزانہ اُردُو اخبار اپنے گھر آتا کیا؟
_ماہانہ اُردُو رسالے ہم پابندی سے خریدتے کیا؟
_مہینے میں کتنی کتابیں ہم خریدتے ہیں؟
اِس ہفتہ مارکیٹ میں کوئی نئی کتاب آئی ہےاسکا علمِ ہے کیا؟
_کتنے سالوں پہلے ہم نے اُردُو کتاب، ماہنامہ خریدا؟
آپنے ہی دِل کو منصف بنائیں اور اپنی دِل کی عدالت میں آپنے مقام کو طے کریں،
اُردُو کے نام پر جینے مرنے والے،اُردُو کی کمائی سے خوش حال زندگی گزارنے والے ذرا غور کریں اُردُو زبانِ کتنی خوش حال ہے!!!
آئیے طے کریں آج سے اُردُو اخبار،ماہانہ میگزین،کتابیں،نہ صِرف خرید کر پڑھیں گے بلکہ تحفہ میں بھی انکو دینا رائج کریں گے، انِ شاءاللہ
سرفراز نواز خان
Comments
Post a Comment