حیدرآباد میں 9 اور 10 اکتوبر کو سجے گا ’’کلچرل کارواں—وراثت‘‘ - جشنِ ادب ساہتیہ اُتسو میں مشاعرہ، قوالی، غزل، داستان گوئی، بیت بازی اور موسیقی کی رنگارنگ محفلیں
حیدرآباد. (راست) 8/ اکتوبر. اردو و ہندی ادب، ہندوستانی موسیقی اور مشترکہ تہذیبی ورثے کے فروغ کے لیے سرگرم جشنِ ادب ساہتیہ اُتسو کے زیرِ اہتمام ’’کلچرل کارواں—وراثت، حیدرآباد 2026‘‘ کا انعقاد 9اور 10 /اکتوبر کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، گچی باولی، حیدرآباد میں کیا جائے گا۔ دو روزہ اس ثقافتی میلے میں ملک کے معروف شعرا، ادبا، فنکاروں، قوالوں، غزل گائیکوں اور داستان گوؤں کی شرکت ہوگی. ذرائع کے بموجب جشنِ ادب کے اس خصوصی پروگرام کا مقصد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، ادبی روایت، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کو نئی نسل سے جوڑنا اور مختلف زبانوں و ثقافتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ جشنِ ادب دراصل سال 2012 سے ادب، شاعری، موسیقی، تھیٹر، لوک اور کلاسیکی فنون کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا آ رہا ہے۔ اسی کا تسلسل حیدرآباد کا یہ پروگرام ہے.9 اکتوبر کو پروگرام کا آغاز دوپہر 2:30 بجے افتتاحی تقریب سے ہوگا۔ اس کے بعد ’’ادب اور سائنس کا رشتہ‘‘ کے عنوان سے اہم مذاکرہ منعقد ہوگا، جس میں پدم شری پرو فیسر سید احتشام الحسنین اور پدم شری پروفیسر سید عین الحسن معروف ماہرین و دانشور ادب اور سائنسی فکر کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال کریں گے۔اس کے بعد دکنی مشاعرہ منعقد ہوگا، جس میں جناب شاہد عدیلی ، جناب فریدسحر ، جناب لطیف الدین لطیف، جناب ڈاکٹر معین امر بمبو ، جناب چچاپالمپوری اور جناب وحید پاشا قادری سمیت شعرا اپنے کلام پیش کریں گے۔شام کو حبیب تنویر اوپن تھیئڑ میں محفلِ قوالی منعقد ہوگی۔ اس میں جناب امجد خان وارثی اور جناب اسد خان وارثی و ہمنوا صوفیانہ کلام اور قوالی پیش کریں گے۔اس کے بعد ایک اور شاندار محفلِ مشاعرہ ہوگی، جس میں جناب عقیل نعمانی، جناب عزم شاکری ، جناب سردار سلیم، جناب کنور رنجیب چوہان، جناب جاوید مشیری، پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، جناب رنجن گم اور جناب انس فیضی سمیت متعدد شعرا شرکت کریں گے۔رات 8 بجے سے ’’ہنسنا منع ہے ‘‘ کے عنوان سے معروف مزاحیہ شاعر پدم شری جناب سریندر شرما سامعین کو اپنی منفرد شاعری اور طنز و مزاح سے محظوظ کریں گے۔ جشنِ ادب کے پروگراموں میں سریندر شرما کی مزاحیہ شاعری پہلے بھی نمایاں رہی ہے۔
10 /اکتوبر کو بیت بازی، داستان، غزل اور موسیقی:-
10 اکتوبر کو دوپہر 2:30 بجے بیت بازی سے دوسرے روز کے پروگراموں کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد ’’داستانِ یاد ماضی‘‘ پیش کی جائے گی، جس میں جناب محمد شاہنواز اور جناب محمد بدرِ عالم کی پیش کش شامل ہے۔شام 5 بجے ’’غزل اُس نے چھیڑی‘‘ کے عنوان سے خصوصی غزل پروگرام منعقد ہوگا۔ اس میں محترمہ جیوتی شرما غزل گائیکی پیش کریں گی، جبکہ جناب ابھیشیک شرما طبلہ پر ان کا ساتھ دیں گے۔
اس کے بعد ’’گھنگھر بول اُٹھے ‘‘ کے عنوان سے خصوصی پروگرام ہوگا، جس میں موسیقی اور شعری اظہار کا امتزاج پیش کیا جائے گا۔ شام 7 بجے پروگرام کے اختتامی کلمات اور خصوصی پیش کش ہوگی، جبکہ رات 7:30 بجے سے موسیقی کی محفل جاری رہے گی۔
ادب، موسیقی اور مشترکہ تہذیب کا پلیٹ فارم
جشنِ ادب ساہتیہ اُتسو کے بانی کنور رنجیت سنگھ چوہان اور صدر نوینت سونی کی قیادت میں جاری یہ ثقافتی تحریک ملک کے مختلف شہروں میں ادب اور فنونِ لطیفہ کے پروگرام منعقد کرتی رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق Cultural Kaarva’n–Virasat کا بنیادی مقصد ہندوستانی ادبی و ثقافتی روایت کو مختلف شہروں تک لے جانا اور فنکاروں کو عوام سے براہِ راست جوڑنا ہے۔ جشنِ ادب کی روایت میں مشاعرہ و کوی سمیلن، صوفی و کلاسیکی موسیقی، کتھک، داستان گوئی، تھیٹر اور ادبی مذاکرے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ تنظیم کی ویب سائٹ پر بھی ان فنون کو جشنِ ادب کے بنیادی پروگرام فارمیٹس کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ تشریف لائیں. مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، گچی باولی، حیدرآباد. 9–10 اکتوبر 2026.آغاز دوپہر 2:30 بجے،داخلہ مفت رہے گا.
Comments
Post a Comment