مالیگاؤں بم بلاسٹ:8 ستمبر 2006 بڑا قبرستان بم دھماکوں کے 4 ملزمین بری - انصاف پسند شہریوں کو دھچکا ! شہر مالیگاؤں میں غم


مالیگاؤں (انصاری احسان الرحیم) بروز بدھ 21 اپریل 2026 کو اہلیان شہر بالخصوص انصاف پسند اور سیکولر مزاج افراد کیلئے باعث غم رہا کہ 8 ستمبر 2006 بڑا قبرستان، مشاوت چوک، حمیدیہ مسجد کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مزید چار ملزمین کو ممبئی بائی کورٹ کے چیف جسٹس پر مشتمل ایک خصوصی بینچ نے انھیں با عزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کے احکامات صادر کئے۔ مذکورہ فیصلہ جیسے ہی منظر عام پر آیا۔ اہلیان شہر بالخصوص بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد خانہ اور انصاف پسند شہریوں مجموعی طور پر مظلومین کے جہاں زخم تازہ ہوئے وہیں پر ان سب کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ 

گذشتہ 20 برسوں سے اہلیان شہر سمیت پورے مہاراشٹر اور ملک کے لوگ اس بم دھماکہ مقدمہ کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ عین شب برات کے دن دوپہر ایک بجکر چالیس منٹ پر مالیگاؤں شہر کے بڑے قبرستان ، حمیدیہ مسجد کے باہر اور مین گیٹ پر اس طرح سے مشاورت چوک پر 8 ستمبر 2006 کو بھیانک اور خوفناک سلسلہ وار بم دھماکے کئے گئے تھے۔ ان سلسلسہ وال بم دھماکوں کی گونج نہ صرف پورے شہر بلکہ ریاست اور ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں سنی گئی تھی۔ ان بم دھماکوں میں لگ بھگ 37 نمازی حضرات جن میں معصوم بچے بھی شہید ہوئے تھے اور 250 سے زائد بے گناہ افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔
 
مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ان بم دھماکوں کے الزام میں پہلے تو شہر کے ہی 9 سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے انھیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ بعد ازں ساڑھے چار سال تک یہ بے گناہ ، بے قصور محروسین جیل میں رہے اور انھیں باعزت بری کر دیا گیا۔ مالیگاؤں شب برات بم دھماکوں کے الزام میں بعد ازاں دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا جارہا تھا۔ لیکن 21 اپریل 2026 کو گواہوں کی کمی کی وجہ سے بم دھماکوں کے الزامت ثابت نہ ہوئے اور ممبئی ہائی کورٹ نے مذکورہ تمام چاروں افراد کو نہ صرف باعزت بھی کیا بلکہ انھیں فوراً رہا کرنے کے احکامات صادر کئے۔ 

اہلیان شہر ، انصاف پسند اور سیکولر مزاج رکھنے والے افراد اور مظلمین ، مذکورہ بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد خانہ ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے غمگین ہیں۔ اور تمام اس فیصلے کو عد ل و انصاف کے خون سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آج پورا شہر غم درندہ کے پہاڑ کے نیچے دبے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام ملزمین بے گناہ ہیں تو پھر مالیگاؤں بڑا قبرستان بم دھماکوں کے اصل ملزمین کہاں چلے گئے ہیں۔ کیا ان ملزمین کو آسمان نگل لیا یا پھر زمین کھا گئی۔ 

انصاف کا تقاضہ ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مالیگاؤں بم دھماکوں کے ملزمین کو ڈھونڈ نکالے۔ آج ان بم دھماکوں کے بیس برس ہو چکے ہیں۔ بیتے ان بیس برسوں میں تمام حکومتیں اور ایجنسیاں اور حکومتی تحقیقاتی ایجنسیاں کیوں ناکام ہو گئیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج ہر شہری اور انصاف پسند فرد کر رہا ہے ۔ مالیگاؤں شہر کے انصاف پسند لوگ ، سیکولر مزاج رکھنے والے افراد ، عدل و انصاف اور عدلیہ پر بھروسہ کرنے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کا مطالبہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکوں کے اصل ملزمین کو ڈھونڈ نکالے۔ اور انھیں گرفتار کر کے انھیں سزا دلائے۔ سبھی بم دھماکوں میں شہید ہونے والے روح کو جہاں تسکین ہوگی وہیں پر ان کے افراد خانہ ، مظلومین اور اہلیان شہر کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہو سکے۔ 

یہی مطالبہ گذشتہ بیس برسوں سے اس شہر کی عوام بھی کر رہی ہے۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکوں کے اصل ملزمین کو بے نقاب کیا جائے اور شہریوں کے زخموں پر مرحم رکھا جائے نہ اس طرح کا فیصلہ کیا جائے جس کے ذریعے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔