پونے میں ادب اور محبت کی دو منفرد داستانیں - ایک ہی شام اسٹیج پر -پریم چند کی لازوال کہانیوں سے امرتا پریتم اور امروز کے غیر معمولی رشتے تک - 4/ اکتوبر کو سدرشن رنگ منچ میں خصوصی پیشکش۔
پونے: ہندوستانی تھیٹر میں ادب اور سماجی موضوعات کو اسٹیج پر پیش کرنے کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھنے والے مجیب خان کی ہدایت کاری میں 4 اکتوبر کو پونے کے سدرشن رنگ منچ میں دو خصوصی ڈرامائی پیشکشیں ہوں گی۔ شام 5 بجے پریم چند کی کہانیوں پر مبنی ’’آداب میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1033واں شو پیش کیا جائے گا، جبکہ شام 7 بجے معروف ادیبہ امرتا پریتم اور شاعر و مصور امروزکے غیر معمولی رشتے پر مبنی ’’عشق جلے تو جلے ایسا‘‘ پیش کیا جائے گا۔
پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج پر پیش کرنے والی یہ ڈراما سیریز ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کا نام لمکا بک آف ریکارڈز اور ورلڈ وائیڈ بک آف ریکارڈز میں بھی درج ہے۔ اس خصوصی پیشکش میں پریم چند کی تین معروف کہانیاں ’’خوفِ رسوائی‘‘، ’’بڑے بھائی صاحب‘‘ اور ’’پوس کی رات‘‘ شامل ہیں۔
ان کہانیوں میں انسانی رشتوں، خاندانی اقدار، تعلیم، غربت اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ پریم چند کے کردار اور ان کے اٹھائے ہوئے سوال آج بھی موجودہ سماج سے رشتہ قائم کرتے محسوس ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب نئی نسل کے لیے بھی معنویت رکھتا ہے۔
امرتا پریتم اور امروز: محبت، آزادی اور تخلیق کا رشتہ
شام 7 بجے پیش کیا جانے والا ڈراما ’’عشق جلے تو جلے ایسا‘‘ معروف مصنف صادق انصاری کی تحریر ہے۔ اس میں امرتا پریتم اور امروز کے درمیان قائم اس منفرد رشتے کو موضوع بنایا گیا ہے جو محبت کے ساتھ ساتھ ذہنی ہم آہنگی، تخلیقی وابستگی، آزادی اور ایک دوسرے کی شخصیت کے احترام پر قائم تھا۔
امرتا پریتم اردو اور پنجابی ادب کے قارئین کے لیے ایک جانی پہچانی اور بااثر ادبی شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی اور تحریروں میں محبت، عورت کی داخلی دنیا، تنہائی اور انسانی رشتوں کے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ امروز کے ساتھ ان کا تعلق بھی ایک ایسے رشتے کی صورت میں سامنے آتا ہے جس میں روایتی سماجی تعریفوں سے زیادہ ساتھ، سمجھ، خاموش رفاقت اور تخلیقی قربت کو اہمیت حاصل رہی۔
اس ڈرامائی پیشکش میں اسی تعلق کے مختلف جذباتی پہلوؤں کو اسٹیج پر اجاگر کیا گیا ہے۔ محبت کے ساتھ انتظار، قربت کے ساتھ تنہائی، خاموشی کے ساتھ مکالمہ اور رشتے کے ساتھ فرد کی آزادی جیسے سوالات اس کہانی کا حصہ ہیں۔
یہ پیشکش اس بنیادی سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ محبت کیا صرف کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے، یا کسی انسان کو اس کی شخصیت، آزادی اور خوابوں سمیت قبول کرنا بھی محبت کی ایک صورت ہے؟
اس طرح ایک ہی شام ناظرین کو دو مختلف ادبی دنیاؤں سے روبرو ہونے کا موقع ملے گا—ایک طرف پریم چند کی سماجی بصیرت اور انسانی کردار، دوسری طرف امرتا پریتم اور امروز کے رشتے کی حساس اور تخلیقی دنیا۔
نئی نسل کو ادب سے جوڑنے کے لیے اسکول اور کالج کے طلبہ کے لیے خصوصی کہانی خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر اسکول اور کالج سے ایک طالب علم پریم چند کی اپنی پسند کی کہانی اسٹیج سے پیش کر سکے گا۔
Comments
Post a Comment