غیر قانونی سمندری اسمگلنگ کے خلاف کارروائی: شری وردھن سے 3.96 کروڑ مالیت کی ایمبرگریس برآمد
شریوردھن ضلع رایگڈھ سے اظہر ظہیرالدین کردمے کی رپورٹ:
وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ (حفاظتِ حیاتِ نہنگ و جنگلات) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، 'ویل مچھلی کی الٹی' کے نام سے معروف ایمبرگریس (Ambergris) کی غیر قانونی فروخت اور منتقلی کی کوشش پر شری وردھن پولیس نے ایک نوجوان کو تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس سے 604 گرام ایمبرگریس برآمد ہوئی ہے جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت 3 کروڑ 96 لاکھ 61 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اس معاملے میں کل تین افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پیر (۵ اکتوبر) کی شام تقریباً ۵ بجے شری وردھن کے 'پارناکا' علاقے میں ویراج مہیندر چولکر (عمر ۲۵ سال، ساکن: ورچا جیونا کولی واڑا، شری وردھن) نامی نوجوان موٹر سائیکل (MH 06 CV 3810) پر ریت کی طرف جا رہا تھا کہ پولیس نے اسے روکا۔ اس کے پاس موجود کالے رنگ کے پلاسٹک تھیلے کی تلاشی لینے پر 604 گرام ایمبرگریس ملی۔
پولیس کی جانب سے سختی سے پوچھ گچھ کرنے پر چولکر نے بتایا کہ یہ ایمبرگریس اس نے رتوراج رام چندر رگھوویر (عمر ۱۹ سال) اور رام چندر جایا رگھوویر (عمر ۴۸ سال، دونوں ساکن: خالچا جیونا کولی واڑا، شری وردھن) سے حاصل کی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تینوں نے مالی فائدے کے لیے آپس میں سازش کر کے اس ممنوعہ مادے کو بیچنے کی کوشش کی تھی۔
ایمبرگریس کیا ہے؟
ایمبرگریس اسپرم ویل (Sperm Whale) مچھلی سے حاصل ہونے والا ایک نایاب سمندری مادہ ہے۔ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کے تحت اس کی خرید و فروخت، ملکیت یا نقل و حمل پر مکمل پابندی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں انتہائی قیمت اور مانگ ہونے کی وجہ سے اس کی اسمگلنگ کی جاتی ہے، اور اس کا استعمال عطر اور پرفیوم کی صنعت میں ہوتا ہے۔
شری وردھن پولیس اسٹیشن میں وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 0161/2026 درج کر لی گئی ہے۔ یہ شکایت پولیس نائک ساتپوتے کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جبکہ مزید تحقیقات اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر وجے کمار دیش مکھ کر رہے ہیں۔
اظہر ظہیرالدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ
Comments
Post a Comment